سعودی عرب،ترکیہ کا ایک پلیٹ فارم پر آنا مثبت اشارہ
مشاورتی اجلاس اہم سفارتی موقع، اصل پیش رفت جنگی حریفوں کی شمولیت سے ہوگی
(تجزیہ:سلمان غنی)
اسلام میں آج پاکستان سمیت سعودی عرب مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کانفرنس کو خلیج میں جنگ بندی، امن و استحکام کے قیام اور پٹرولیم سمیت معاشی مشکلات اور اس کے اثرات کے خاتمے کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے ، مذکورہ کانفرنس میں نائب وزیراعظم اسحق ڈار دوست ممالک کے وزرائے خارجہ کو جنگ کے خاتمہ کے لئے پاکستان کی کوششوں اور اہم ممالک کے ذمہ داران سے ہونے والے رابطوں کے بارے میں اعتماد میں لیں گے اور تمام وزرائے خارجہ اپنی تجاویز اور اس ضمن میں اقدامات کے لئے سفارشات پیش کریں گے ۔ مذکورہ چاروں ممالک خطے کے بااثر کھلاڑی ہیں ان کا اسلام آباد میں جمع ہونا اس امر کی علامت ہے کہ وہ امریکا یا ایران اسرائیل کی کشیدگی کو پھیلنے سے روکنے کیلئے ایک مشترکہ لائحہ عمل بنانا چاہتے ہیں۔
اسلام آباد کی بڑھتی سفارتی اہمیت یہ ظاہر کر رہی ہے کہ پاکستان خود کو ایک برج سٹیٹ کے طور پر پیش کر رہا ہے یعنی عرب ممالک اور ایران کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے ایک مشترکہ حل کے طور پر پیش کر رہا ہے ۔اس اجلاس کو ایک سفارتی سگنل بھی قرار دیا جا رہا ہے کہ جس کا مقصد یہ کہ خطے کے ممالک خطے میں پیدا شدہ صورتحال اور مسائل کے حل کی صلاحیت اور فیصلوں پر عمل درآمد کی اہلیت رکھتے ہیں ،اس وقت خلیجی جنگ کا سب سے بڑا اثر پٹرولیم کی سپلائی اور عالمی معیشت پر پڑتا نظر آ رہا ہے اس لئے یہ ممالک اپنی معیشتوں کو محفوظ رکھنے کے لئے کشیدگی کو کم کرنا چاہتے ہیں اس لئے ماہرین آج کے اجلاس کو پریشان کن صورتحال میں ایک مثبت کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے خیال میں مذکورہ مشاورتی نشست خود پاکستان کے لئے بھی ایک سفارتی موقع ہے کہ وہ خود کو امن کا ضامن بناتے ہوئے اس عمل میں اپنے دوست ممالک کو بھی ساتھ شامل کرے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے اصل پیش رفت تب ہوگی جب بڑی عالمی طاقتیں اور جنگی حریف بھی اس عمل میں اپنی موثر شرکت یقینی بنائیں ،ویسے تو سعودی عرب اور ترکیہ کا ایک پلیٹ فارم پر آنا بھی ایک مثبت اشارہ ہے کیونکہ ماضی میں ان کا خطہ کی صورتحال اور اپنے مفادات کے حوالے سے اختلاف رائے رہا ہے ۔اب ان کا اسلام آباد کے اجلاس میں اکٹھا ہونا خطہ میں کشیدگی کے خاتمہ کی سنجیدہ کوشش کو ظاہر کرتا ہے ۔تاہم یہ امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مذکورہ اجلاس امن کے حوالے سے شاید بڑی پیش رفت کا حامل نہ ہو لیکن یہ اجلاس کشیدگی کے خاتمہ اور خصوصاً مسلم ممالک کے درمیان مسائل کے حل کے حوالے سے اہم کڑی ضرور ہوگا۔ویسے تو یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر سعودی عرب ،ترکیہ اور مصر مستقل مشاورت کا فریم ورک بنا لیتے ہیں تو یہ ایک نیا علاقائی سفارتی بلاک بن سکتا ہے جو مستقبل میں بھی تنازعات میں کردار ادا کرے گا۔
اسلام آباد سے ذرائع یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ اجلاس ایران کے خلاف نہیں لیکن کشیدگی کے خاتمہ میں ہم ایران سے ایک مثبت کردار کی توقع کرتے ہیں ۔مذکورہ اجلاس کے حوالے سے گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے تفصیلی ٹیلی فون کال کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے ۔ایران کو کسی بھی مرحلہ پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یہی وجہ ہے کہ ایران کی جانب سے مسلسل پاکستانی کردار کو سراہا جا رہا ہے کہ وہ خود کو تنہا نہیں دکھانا چاہتا اور وہ ان رابطوں کے عمل کو اچھا سگنل سمجھتا ہے ایران اصولی طور پر ثالثی کو اس لئے بھی رد نہیں کرے گا کہ وہ چاہے گا کہ شرائط بھی مانی جائیں اور امریکا و اسرائیل کے حوالہ سے اپنے اصولی موقف پر بھی قائم رہے اس لئے عام تاثر یہ ہے کہ ایران ایک حقیقت پسند ریاست ہے ۔