ارتھ آور، ملک بھر میں ایک گھنٹے کیلئے غیر ضروری لائٹس بند
وزیراعظم کی ہدایت پر رات ساڑھے آ ٹھ تا ساڑھے نو عملدرآمدکیا گیا ریڈزون،سرکاری و نجی عمارتوں،سٹریٹ لائٹس اور تھیٹرز کی اضافی روشنیاں گل
اسلام آباد( سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک)ورلڈ ارتھ ڈے پر پاکستان بھر میں ایک گھنٹے کیلئے غیر ضروری لائٹس بند کی گئیں، وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق رات 8:30 بجے سے 9:30 بجے تک اس اقدام پر عمل کیا گیا۔ اس دوران شاہراہ دستور اور ریڈ زون مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوب گئے ، جبکہ تمام سرکاری عمارتوں میں غیر ضروری روشنیاں بند کر دی گئیں۔پارلیمنٹ ہاؤس، سینیٹ، ایوان صدر، سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کی غیر ضروری لائٹس بھی بند کی گئیں۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہدایت پر پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ارتھ آور 2026 کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
ایاز صادق نے کہا کہ ارتھ آور منانے کا مقصد ماحولیاتی پائیداری کے عزم کا اعادہ ہے ، انہوں نے کہا زمین کا تحفظ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ راولپنڈی سمیت پنجاب کے تمام اضلاع میں وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر سرکاری دفاتر کی لائٹس بھی ایک گھنٹے کے لیے بند رہیں۔لاہور میں بھی مرکزی شاہراہوں اور سرکاری عمارتوں کی لائٹس بند کی گئیں۔ ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق صوبے کے 500 سے زائد مقامات پر اس دوران روشنیوں کا سلسلہ معطل رہا، جس میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر کے دفاتر بھی شامل تھے ۔نمایاں شہروں کی مرکزی سڑکوں پر سٹریٹ لائٹس، نجی عمارتیں اور مری کے ایمفی تھیٹر میں روشنیاں بند کر کے شمعیں روشن کی گئیں۔اسی طرح بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بھی عالمی یوم ا لارض پر ایک گھنٹے کے لیے روشنیوں کو بند کیا گیا۔