پنجاب اسمبلی: حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام، اپوزیشن ارکان سے گرما گرمی
میانوالی سے چوری سونا برآمد نہیں ہوا :علی نیازی، زیادہ چوری پی ٹی آئی دور میں :وزیر معدنیات 15 جون سے قبل ہر ضلع میں الیکٹرک بس شروع :وزیر ٹرانسپورٹ، گندم خریداری پر بھی بحث
لاہور(سیاسی نمائندہ)حکومت پنجاب اسمبلی کے اجلاس کا کورم پورا رکھنے میں ناکام رہی، اجلاس میں میانوالی میں سونا چوری کے معاملے ، گندم خریداری پالیسی، ٹرانسپورٹ مسائل اور واپڈا کی مبینہ غفلت سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی بحث،حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں شدید گرما گرمی بھی ہوئی۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت 2 گھنٹے 58 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا جس میں گوجرخان سے تعلق رکھنے والے نائب صوبیدار عاصم کیانی کی شہادت، رکن اسمبلی نواز بھروانہ کے بھائی اور ایم پی اے حمیدہ وحید الدین کی والدہ کے انتقال پر ایصالِ ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اجلاس کے دوران رکن اسمبلی علی حیدر نور نیازی نے میانوالی میں ایکسیویٹرز کے ذریعے سونا چوری اور پولیس افسروں کی مبینہ کرپشن کا انکشاف کیا اور کہا کہ چوری شدہ سونا آج تک برآمد نہیں ہو سکا۔
جس پر وزیر معدنیات شیر علی گورچانی نے الزام عائد کیا کہ زیادہ تر چوری پی ٹی آئی دور میں ہوئی ، موجودہ حکومت نے اس پر قابو پایا ۔اپوزیشن رکن میجر (ر)اقبال خٹک نے حکومتی مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے میانوالی کے دورے کی دعوت دیدی۔ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے ایوان کو بتایا کہ میانوالی میں سونا چوری کے 64 مقدمات درج ہوئے ، ڈپٹی سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے معاملہ متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔علاوہ ازیں گندم خریداری پالیسی پر اپوزیشن رکن رانا شہباز نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نوے فیصد کٹائی مکمل ہونے کے باوجود خریداری شروع نہیں ہوئی ، وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر نے اعتراف کیا کہ موجودہ قوانین ناکافی ہیں ، گنے اور توڑی سے لدے ٹرکوں کو روکنے کیلئے نیا موٹر وہیکل ایکٹ لایا جا رہا ہے ، 15 جون سے قبل مرحلہ وار ہر ضلع میں الیکٹرک بس سروس شروع کی جائے گی ۔بعد ازاں اپوزیشن کی جانب سے کورم کی نشاندہی پر گنتی مکمل نہ ہو سکی جس پر ڈپٹی سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے اجلاس پیر27اپریل دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دیا۔