اپاچی کو ٹارگٹ کرنیوالے ایران امریکا مفاہمت نہیں چاہتے

اپاچی کو ٹارگٹ کرنیوالے ایران امریکا مفاہمت نہیں چاہتے

معاہدے کی تاخیر میں اسرائیل کاکردار،بڑی جنگ کے امکانات نہیں ہیں

(تجزیہ:سلمان غنی)

آبنائے ہرمز میں امریکی ہیلی کاپٹر اپاچی کے ٹارگٹ ہونے کے عمل نے امریکا اور ایران کے درمیان ٹھہراؤ کو ٹکراؤ میں تبدیل کر دیا ہے اور پھر سے فریقین ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے نظر آ رہے ہیں ،سوال یہ ہے کہ امریکا ایران کے درمیان جاری مفاہمتی عمل ڈیڈ لاک میں تو تبدیل نہیں ہوگا اور اگر مشرق وسطیٰ میں پھر سے جنگ شروع ہوتی ہے تو ذمہ دار کون ہوگا،امریکی صدر کئی بار یہ کہتے نظر آئے ہیں کہ ایران سے  معاہدہ کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی وہ ایران کو دھمکاتے بھی نظر آتے ہیں جبکہ دوسری جانب ایران کا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اعتماد بڑھا ہے ،عالمی رپورٹس میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جنگ مسلط کرنے کے باوجود نہ تو ایران میں رجیم چینج ہوئی نہ جوہری طاقت سے ایران دستبردار ہوا اور نہ ہی اس کا میزائل سسٹم کمپرومائز ہوا ،جہاں تک مفاہمتی عمل کی نتیجہ خیزی اور خصوصاً معاہدے میں تاخیر کا سوال ہے تو اس میں بڑا کردار اسرائیل اور نیتن یاہو کا ہے جو یہ معاہدہ ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا اوراس لئے معاہدہ کی خبروں کے ساتھ ہی لبنان کے خلاف محاذ کھول دیا ،اس کا مقصد ایران سے زیادہ خود امریکا پر دباؤ ڈالنا تھا تاکہ امریکا کو معاہدہ پر دستخطوں سے باز رکھا جائے اس لئے کہ اسرائیل سمجھتا ہے کہ اگر خطے میں اس کی بقا و سلامتی کو خطرہ ہے تو وہ صرف ایران سے ہے ،معاہدہ میں جوں جوں تاخیر ہوتی گئی امریکا کے لئے پریشانیاں بڑھیں اور صدر ٹرمپ پر خود امریکا کے اندر سے بھی دباؤ آیا اور دنیا بھی کسی طرح امریکا ایران جنگ کی حامی نہیں،جب جب امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی عمل غالب آتا ہے تو خطے میں عسکری کارروائیاں امریکی پالیسی سازوں پر اثر انداز ہوتی ہیں ،اب بھی جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایران سے معاہدہ کا عندیہ دیا تو اسی روز آبنائے ہرمز میں امریکی ہیلی کاپٹر اپاچی ٹارگٹ ہو گیا اس مذموم عمل میں ایران ملوث ہے یا کوئی اور اس حوالہ سے تو دو آرا ہو سکتی ہیں لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اپاچی کو ٹارگٹ کرنے والے امریکا ایران میں مفاہمت نہیں چاہتے ۔ایرانی لیڈر شپ اس وقت زیادہ اعتماد میں کھڑی اور ثابت قدم نظر آ رہی ہے ، یہی وہ طاقت ہے جس کا خوف امریکا اور اسرائیل پر سوار ہے ،وہ یہ نہیں طے کر پا رہے کہ ایران کے پیچھے اصل طاقت کیا ہے اور ایران اس صورتحال میں پریشانی کے اظہار کے بجائے فاتحانہ ذہنیت کا مظاہرہ کرتا نظر آ رہا ہے ، لگتا ہے کہ اسے بھی معاہدہ کی جلدی نہیں اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکا کے پاس گنوانے کو بہت کچھ ہے اور ایران سمجھتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے جتنا اس کا نقصان کرنا تھا کرلیا اب مزید کیا کر سکتا ہے جہاں تک جنگ کی بندش کی ذمہ داری کا سوال ہے تو یہ ذمہ داری تو اسی پر ہے جس نے جنگ شروع کی ۔ہیلی کاپٹر اپاچی کی تباہی کے باوجود بڑی جنگ کے امکانات نہیں ،ویسے بھی ایسی صورتحال میں ریاستیں عموماً دباؤ بڑھانے اور اپنی قوت دکھانے کی کوشش کرتی ہیں مگر مکمل جنگ سے بچنا ان کی ترجیح ہوتا ہے لہٰذا مذکورہ ہنگامی واقعہ سے جنگ کا خطرہ تو بڑھا ہے لیکن اسے فوری ہمہ گیر امریکا ایران جنگ قرار دینا درست نہیں ہوگا ۔اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ ہیلی کاپٹر کی تباہی کے واقعہ سے مفاہمتی عمل سست اور پیچیدہ اور غیر یقینی تو لگتا ہے لیکن اس کے مکمل طور پر رک جانے کا امکان کم ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں