ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات،خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال پھر آمنے سامنے
الیکشن کمیشن میں چوری چھپے پارٹی چیئرمین شپ میں توسیع مانگی جا رہی ہے ، ہمیں کہیں شوق ہے تو بنوا دیں،وفاقی وزیر اپنا قدپارٹی سے چھوٹا رکھو، جس کے دل میں ذمہ داری کا شوق آیا وہ توگیا،چیئرمین،نام لئے بغیرایک دوسرے پرتنقید
کراچی (دنیانیوز،مانیٹرنگ ڈیسک،خبرایجنسیاں) ایم کیو ایم پاکستان میں چیئرمین شپ کے معاملے پراختلافات شدت اختیار کر گئے ۔چیئرمین خالد مقبول اور وفاقی وزیر مصطفی کمال ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے اور ایک دوسرے پرنام لئے بغیر لفظوں کی گولہ باری کی۔ مصطفی کمال نے کہا سمجھا رہا ہوں، سنبھل جائیں اور ہم سے مشورہ کریں، ہم سے کہیں ایک رات میں چیئرمین بنوا دیں، ٹچوں سے ڈرنے والے ہوتے تو بانی کے سامنے کھڑے نہ ہوتے ، تم کیا ان سے بڑے بد معاش ہو۔ اتوارکوبہادر آباد پارک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفی کمال کاخالد مقبول صدیقی کا نام لئے بغیر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا الیکشن کمیشن میں چوری چھپے پارٹی چیئرمین شپ میں توسیع مانگی جا رہی ہے ، ہمیں کہیں چیئرمین بننے کا شوق ہے ہم بنوا دیں، ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو حقوق نہیں دلوا سکتا۔مصطفیٰ کمال نے مزید کہا جن سے ہم نے حقوق لینے ہیں انہی سے پارٹی سربراہ ایکسٹینشن مانگے گا تو کیا ہوگا؟ جو قوم کے ساتھ مخلص ہے اس کو سر پر بیٹھائیں گے ورنہ ٹکرا جائیں گے ،آپ کہہ رہے ہیں پارٹی الیکشن اس لیے نہیں کرا رہے کہ جنگ چل رہی ہے ، جب کہ ٹی وی پر چل رہا ہے پنکی کے کام میں سرفہرست ایم کیو ایم کے ایم این اے کا نام ہے ، ہم نے اس ایم این اے کے خلاف کیا ایکشن لیا۔مصطفی کمال نے کہا میں لعنت بھیجتا ہوں سارے عہدوں پر جب قوم کھائی میں گر رہی ہو اور ہم کچھ نہیں کر سکیں۔ انہوں نے کہا آپ کو لگتا ہے گالم گلوچ کر کے ڈراؤ گے ، ہم تو بانی ایم کیو ایم سے نہیں ڈرے ، آپ میری قوم سے مخلص ہیں، تو میں ورکر بن کر کام کروں گا۔
مصطفی کمال نے کہا سب لوگ اپنا قبلہ درست کریں، یہ ساری گند بلا نیچے کارکنان تک سرایت کر گئی ہے ، اگر کوئی اس قوم سے مخلص ہے ، تو اسے ہم سے دشمنی کیسے ہوسکتی ہے ۔انہوں نے کہا رضوان بابر کہتا ہے ہم دیکھ رہے ہیں، یہ تمہارے باپ کی پارٹی ہے ، آؤ مجھے غلط ثابت کرو، میں یہیں سب کے سامنے معافی مانگوں گا، جی بی الیکشن میں ٹکٹ دے رہے ہیں اور کوئی میٹنگ نہیں ہوئی، ایک سال سے پارٹی کا کوئی اجلاس نہیں ہوا، جس لیڈر کا کردار نہیں ہے ، وہ قوم کا مقدمہ نہیں لڑ سکتا، ہمیں اندازہ ہوتا کہ چیئرمین ایسا ہوگا تو ہم پارٹی بند کر کے چلے جاتے کبھی مل کر نہ بیٹھتے ۔مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا چند دن پہلے بہت بڑے کیس سانحہ بلدیہ ٹاؤن کا فیصلہ ہوا، سانحے کے شہدا کی فیملیز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، فیملیز نے اس فیصلے کو قبول کیا، اگر یہ وہی دور ہوتا تو یہ افراد پھانسی کے پھندے پر لٹک چکے ہوتے ، گل پلازہ میں آگ لگی، بانی ایم کیو ایم ہوتے تو شام میں کوئی بھتے کی پرچی دکھاتا اور کہتا کہ ایم کیو ایم نے آگ لگائی ہے ۔ قبل ازیں ہفتہ کی شب چیئرمین ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی نے حیدرآباد میں تقریب کے دوران مصطفی کمال کا نام لیے بغیر کہا کہ جبر سے نہیں ڈرے اس کے غلاموں سے کیا ڈریں گے ، ہم نہیں تم استعمال ہو رہے ہو، وہ ملے گا جو ایم کیوایم چاہے گی، اوقات میں رہو، اپنا قد ایم کیوایم سے چھوٹا رکھو۔خالد مقبول نے مزید کہا کہ چیئرمین کو غیر قانونی کہنے والے خود غیر قانونی کارکن ہیں، جو تنظیم چھوڑ گیا، اس کی رکنیت ختم ہو جاتی ہے ۔ خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا پارٹی میں موجود بدعتوں کو نکالنا ہوگا، جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ تو گیا۔ انہوں نے واضح کیا ہم استعمال نہیں ہورہے بلکہ تم استعمال ہو رہے ہو۔