لگتا ہے کابینہ کو اسمبلی قوانین پڑھانے پڑیں گے :سپیکر پنجاب اسمبلی
ملک محمد احمد کاوزیر بلدیات سے مکالمہ ،حکومتی ، اپوزیشن ارکان میں پھرگرما گرمی ایران امریکا امن معاہدہ ، پاکستان کی کوششوں کے اعتراف کی حکومتی قرارداد منظور
لاہور (سیاسی نمائندہ،صباح نیوز)پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ اگر میں پارلیمان کو بالادستی نہ دلوا سکا تو میں فوری اس عہدے سے الگ ہو جاؤں گا، اپوزیشن کے پاس صرف ایک ہی فورم ہے وہ پارلیمان ہے ،پارلیمان میں انکا یہ حق کسی طریقے سے چھین نہیں سکتا، لگتا ہے کابینہ کو اسمبلی قوانین پڑھانے پڑیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر عام بحث کے د وران وزیر بلدیات ذیشان رفیق سے اسمبلی رولز اور ایوان کو جوابدہی کے معاملے پر دلچسپ مکالمہ کے دوران کیا، قبل ازیں گزشتہ روز سپیکر کی زیر صدارت اجلاس 3 گھنٹے 2 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا ۔ اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں پھر گرما گرمی بھی ہوئی ۔ وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق نے ستھرا پنجاب پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے پورے پنجاب میں صفائی کا جدید اور شفاف نظام متعارف کروایا،سپیکر اور اپوزیشن ارکان ستھرا پنجاب ہیڈ آفس اور کنٹرول روم آئیں تو معلوم ہو نگرانی کیسے ہو رہی ہے ۔اس موقع پر سپیکر ملک محمد احمد خان نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزراء اسمبلی رولز کا مطالعہ کریں، اگر ایوان میں کوئی سوال پوچھا جائے تو وزیر جواب دینے کے پابند ہیں ،آپ اپنا مائنڈ سیٹ درست کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ لگتا ہے کابینہ کو اسمبلی قوانین پڑھانا پڑیں گے ۔ ان ریمارکس پر صوبائی وزیر نے کہا کہ انہوں نے محض ارکان اور سپیکر کو ہیڈ آفس کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے ۔اجلاس کے دوران اپوزیشن رکن احمر رشید بھٹی نے پنجابی زبان کے فروغ کا مطالبہ کرتے کہا کہ مادری زبان سے دوری معاشرتی مسائل کو جنم دے رہی ہے ۔وزیر معدنیات سردار شیر علی گورچانی نے اظہار خیال کرتے کہا کہ جنوبی پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں، گرین بسوں، سڑکوں اور دانش سکولوں کے منصوبے مسلم لیگ (ن)کی عوامی خدمت کا ثبوت ہیں۔ اپوزیشن ارکان جاوید نیاز منج، خیال کاسترو، اویس ورک اور امیر محمد خان نے بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کسانوں، مزدوروں اور متوسط طبقے کے مسائل اجاگر کیے ۔بعد ازاں اپوزیشن رکن بشارت ڈوگر کی انتخابی نتائج سے متعلق گفتگو پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان آمنے سامنے آگئے ،متعدد ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اور نعرے بازی کی اورصورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔
ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ ارکان کو مسلسل تحمل اور بجٹ پر بات کرنے کی ہدایت دیتے رہے ۔حکومتی رکن قدسیہ بتول، مجتبیٰ شجاع الرحمن اور دیگر ارکان نے حکومتی مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے انتخابی عمل پر اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کیا جبکہ اپوزیشن ارکان اپنے مؤقف پر قائم رہے ۔ بعد ازاں حکومتی ارکان فاروق احمد مانیکا، بی بی وڈیری، ملک آصف بھاہ، عارف گل اور صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے بھی بجٹ پر اظہار خیال کیا۔علاوہ ازیں وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کے اعتراف میں ایران اور امریکا کے امن معاہدے سے متعلق قرارداد پیش کی ،جسے ایوان نے منظور کر لیا، قرارداد میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ایوان میں آج بجٹ بحث سمیٹنے کے بعد کٹ موشنز پیش کی جائیں گی۔