50 سال سے حکمرانی کرنیوالوں نے نظام خراب کیا، نثار کھوڑو
وہ خود کومضبوط، سیاست کوکمزور کرتے رہے ، صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے 4مرتبہ مارشل لا لگا، ملک ٹوٹتے وقت سیاستداں اقتدار میں نہیں تھے ، خطاب
حیدر آباد (بیورو رپورٹ)پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ گزشتہ 50 سال سے ملک پر حکمرانی کرنے والوں نے نظام کو خراب کیا، انکی کوشش رہی ہے کہ سیاست کمزور اور وہ خود مضبوط ہوں، صوبے بنانے کا فیصلہ پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے ۔ حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو اور تقریب سے خطاب میں نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ ملک میں چار مرتبہ مارشل لا نافذ کیا گیا، فوجی حکمران اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی جماعتوں کے مطالبے پر بھی واپس نہیں جاتے ، جبکہ پاکستان کے ٹوٹنے کے وقت سیاستدان اقتدار میں نہیں تھے ۔ ماضی میں بھی جمہوریت کو کمزور اور سیاسی جماعتوں کو توڑنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کا بیان بالکل واضح ہے کہ نظام برا نہیں بلکہ نظام کو برا بنایا گیا ہے ۔
نظام کو درست کرنے کے لیے پانچ سال بھی کافی ہوتے ہیں، مگر بدقسمتی سے گزشتہ 50 سال سے نظام کو خراب کیا جارہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مارشل لا کے ادوار میں حکمرانوں کے پاس ہر قسم کی طاقت موجود تھی، اگر وہ نظام کو درست کرنا چاہتے تو کرسکتے تھے ، لیکن ایسا نہیں کیا گیا، نثار کھوڑو نے کہا کہ جب بھی سیاسی حکومتیں آئیں، انہیں آئین کی شق 58(2)(b) کے تحت برطرف کیا جاتا رہا۔ ایک دہائی کے دوران چھ وزرائے اعظم تبدیل کیے گئے ، حالانکہ صرف دو وزرائے اعظم ہونے چاہئیں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایک وزیراعظم کو اس بنیاد پر عہدے سے ہٹایا گیا کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور کے بعد پیپلزپارٹی نے 18ویں آئینی ترمیم منظور کرائی جو آج بھی آئین کا حصہ ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments