والدین باہمی رضامندی سے نابالغ بچوں کے نان و نفقہ کی رقم کم یا ختم نہیں کر سکتے ،لاہور ہائیکورٹ

والدین باہمی رضامندی سے نابالغ  بچوں کے نان و نفقہ کی رقم کم یا ختم  نہیں کر سکتے ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور(محمد اشفاق سے )لاہور ہائیکورٹ نے میاں بیوی کی رضامندی سے بچوں کا خرچہ نان و نفقہ 30ہزار روپے مقرر کرنے کے خلاف نابالغ بچی کی درخواست منظور کرتے ہوئے فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ جج کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیدیا ۔

جسٹس عثمان غنی راشد چیمہ نے قرار دیاکہ والدین آپس میں سمجھوتہ تو کر سکتے ہیں لیکن بچے کے حق کا سودا نہیں کر سکتے والدین باہمی رضامندی سے نابالغ بچوں کے نان و نفقہ کی رقم کم یا ان کا یہ حق ختم نہیں کر سکتے ۔ بچے کا نان ونفقہ والدین کا نہیں بلکہ خود بچے کا قانونی حق ہے اور والدین یا سرپرست کو یہ حق معاف کرنے یا کم کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد عثمان غنی رشید چیمہ نے مسز شازیہ نُورین وغیرہ کی درخواست پر 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ جج سرگودھا کے فیصلے کالعدم قرار دے دئیے اور معاملہ دوبارہ فیملی کورٹ کو بھجوا دیا۔مقدمے کے مطابق فیملی کورٹ نے 24 جنوری 2026 کو نابالغ بچی اور اس کے چھوٹے بھائی کا نان نفقہ 30،30 ہزار روپے ماہانہ مقرر کیا تھا۔ یہ رقم بچوں کی والدہ کے رضامندی والے بیان کی بنیاد پر مقرر کی گئی تھی۔ والدہ نے عدالت میں 30 ہزار روپے ماہانہ فی بچہ قبول کرنے کے ساتھ بعض دیگر مطالبات بھی چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔اس فیصلے کے خلاف بچوں کی طرف سے اپیل کی گئی لیکن ڈسٹرکٹ جج سرگودھا نے 26 مارچ 2026 کو اپیل بھی خارج کر دی۔ اس کے بعد نابالغ بچی نے اپنی والدہ کے ذریعے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...