سیاسی ٹکراؤ نہیں، مذاکرات ہی پختونخوا کے مسائل کا حل
دوطرفہ لچک سے معاملات طے ہو سکتے ہیں ،یہی ملک وقوم کے حق میں بہتر
(تجزیہ:سلمان غنی)
پختونخوا کی حساس صورتحال میں فریقین کی جانب سے کسی انتہائی اقدام سے بچنے کیلئے پھر سے مذاکراتی عمل کی بات کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور نظر آ رہا ہے کہ حکومت بھی پختونخوا میں کسی آئینی آپشنز کی طرف سے پہلے مذاکرات اور سیاسی حل کیلئے کوشاں ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن کو دھرنوں اور لانگ مارچ سے نکل کر مذاکرات کی طرف آنے کی بات کو مثبت سگنل کے طور پر لینا چاہئے ، دوسری جانب اپوزیشن خصوصاً پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس، عامر ڈوگر کی جانب سے بھی مذاکراتی عمل کی بحالی کے اشار ے دئیے جا رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے فریقین میں ایسے لوگ موجود ہیں جو طاقت کی بجائے مسائل کے سیاسی حل کے حوالہ سے سنجیدہ ہیں لیکن کیا وجہ ہے کچھ عناصر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمانہ طرزعمل اور التوا پر اتفاق رائے پر اثر انداز ہونے کی پالیسی پر گامزن ہیں، ایسے لوگ کون اور کس کے ایجنڈے پر ہیں اس کا تجزیہ ضروری ہے ، تحریک انصاف کی وفاق سے محاذ آرائی کوئی نئی بات نہیں لیکن دہشت گردی اس سیاسی لڑائی کو اپنے ساتھ بہا لے جائے کسی کے مفاد میں نہیں ، دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس تعاون معاملات کا تبادلہ پولیس کی ضروریات سرحد کی نگرانی اور سکیورٹی کارروائیوں میں تعاون ایسے معاملات ہیں جنہیں سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھنا چاہئے۔
سیاسی قوتیں ایک دوسرے سے اختلاف کر سکتی ہیں لیکن سکیورٹی معاملات میں تعاون کو قومی پالیسی کے طور پر لینا چاہئے جہاں تک وفاقی حکومت اوراپوزیشن کے مذاکرات میں ڈیڈ لاک اور پھر سے مذاکراتی عمل کی بحالی کا سوال ہے تو یہ ایک خوش آئند امر ہے کہ دوطرفہ تحریک موجود ہے کہ معاملات کا سیاسی حل نکالنا چاہئے اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پھر سے مذاکرات کی طرف بحالی اور دھرنوں اور لانگ مارچ سے نجات کی بات کو وقت کی ضرورت کے طور پر لینا چاہئے ،اب ٹکراؤ اور تناؤ کی کیفیت میں اگر پھر سے فریقین مذاکرات کی بات کرتے نظر آ رہے ہیں تو یہ ایک حوصلہ افزا بات ہے ،تحریک انصاف اپنے مطالبات برقرار رکھ سکتی ہے جبکہ حکومت اپنے موقف کا دفاع کر سکتی ہے ، مذاکرات کا مطلب اپنے موقف سے ہٹنا نہیں، سیاسی تصادم کی ایک قیمت ہے جو ملک کو اٹھانا پڑتی ہے جب سڑکیں بند ہوتی ہیں تو کاروبار اورلوگ براہ راست متاثر ہوتے ہیں مسلسل سیاسی کشیدگی کاروباری اعتماد اور سرمایہ کاری کے مفاد پر اثر انداز ہوتی ہے سیاسی قیادت کو احتجاج کے حق کے ساتھ اس کے ممکنہ اثرات پر بھی نظر رکھنی چاہئے اور سیاسی احتجاج کو محض سکیورٹی رسک قرار دے کر اس کا راستہ روکنا فرض نہیں ہوتا،حکومت کو سیاسی اختلاف کا جواب سیاسی طریقے سے اور دہشت گردی کا جواب سکیورٹی کارروائی سے دینا چاہئے اور اگر احتجاج کے نتیجہ میں مرکز اور صوبہ کے درمیان تعاون متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات سیاسی میدان تک محدود نہیں رہیں گے۔
اس لئے احتجاج کے وقت طریقہ کار اور مذاکرات کے امکانات کے ساتھ لیکر چلنا ہی ذمہ دارانہ طرزعمل ہے قومی سلامتی کے ماحول میں سیاسی اختلافات ختم نہ بھی ہوں لیکن انہیں حد میں رکھنا ضروری ہے ، جہاں ریاستی ادارے دہشت گردی سے نمٹ سکیں اور سیاسی عمل بھی جاری رہے ایسا راستہ نکالا جائے ،بلاشبہ فریقین میں بہت سے ایسے ہیں جو آج بھی ملک کے حوالہ سے درد رکھتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ ملک میں انتشار خلفشار ہو لیکن المیہ یہ ہے کہ بعض ایسے بھی ہیں جو ہر قیمت پر اپنی لیڈر شپ کو عدالت میں سرخرو دیکھنا چاہتے ہیں جو خود تو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں لیکن وہ اپنی اس حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بنتے معاملات کے بگاڑ کا باعث بنتے ہیں،پاکستان اس وقت نازک موڑ پر کھڑا ہے ،سیاست ہمیشہ لچک گنجائش اور ایک دوسرے کو راستے دینے کا نام رہی ہے جب یہ ختم ہو جائیں وہاں سیاست کے نام پر ٹکراؤ رہ جاتا ہے جو اس وقت جاری ہے ،پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی وفاقی وزرا کی زد میں ہیں اور دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس کے ردعمل میں ریاست کو ٹارگٹ کرتے نظر آ رہے ہیں ، پختونخوا کے موجودہ حالات میں سیاسی سرگرمی سے زیادہ اہم یہ ہے کہ حکمران اس احتجاج کے اسباب سمجھیں،حکومت اور خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اگر پیپلز پارٹی کی مان لیتے ہیں۔
ور کچھ اپنی منواتے ہیں تو پختونخوا اور پی ٹی آئی کے حوالہ سے ایسا کیوں نہیں،پی ٹی آئی ایک سیاسی حقیقت ہے اس سے بات چیت کر کے بہت سے معاملات کاحل نکالا جا سکتا ہے ،تحریک انصاف کی وفاقی حکومت سے کشمکش کوئی نئی بات نہیں لیکن دہشت گردی اس سیاسی لڑائی کو اپنے ساتھ بہا لے جائے یہ کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا، صوبائی حکومت کو بھی وفاق کے ساتھ ہر معاملہ کو سیاسی مقابلے کے چشمے سے نہیں دیکھنا چاہئے اور جہاں تک سیاسی معاملات خصوصاً بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملات ملاقاتوں کے عمل اور نظر بندوں کی رہائی کا تعلق ہے یہ کوئی بہت بڑے معاملات نہیں اس پر دوطرفہ لچک سے معاملات طے ہو سکتے ہیں لیکن ان سے ضرور بچنا چاہئے جو حکومت اپوزیشن محاذ آرائی کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے نظر آ رہے ہیں ،بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کو ہی آخری آپشن قرار دیتے ہوئے اپنی جمہوری سوچ کو عیاں کیا ہے جواباً وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دھرنوں اور لانگ مارچ سے نجات اور مذاکرات کا عندیہ دے کر ثابت کیا ہے کہ ان سے کوئی ضد نہیں لہٰذا فریقین کو پھر سے مل بیٹھنا چاہئے مل بیٹھ کر ہی حل نکلے گا اور وہی ملک قوم اور خود سسٹم کے حق میں بہتر ہوگا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments