والد کی پنشن سے بھی بچوں کا نان نفقہ وصول کیا جا سکتا :ہائیکورٹ
نان نفقہ محض مالی دعویٰ نہیں ،والد کی قانونی ذمہ داری: 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ فیملی کورٹ کو ڈگری پر عملدرآمد جاری رکھنے کی ہدایت ،درخواست خارج کر دی
لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے نابالغ بچوں کے نان نفقہ سے متعلق اہم قانونی اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ حتمی نان نفقہ ڈگری پر عملدرآمد کے لیے ریٹائرڈ فوجی افسر کی پنشن بھی منسلک کی جا سکتی ہے ۔ عدالت نے بچوں کے والد کی آئینی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ بچوں کا نان نفقہ محض مالی دعویٰ نہیں بلکہ والد کی قانونی ذمہ داری ہے ۔جسٹس ملک وقار حیدر اعوان اور جسٹس ملک جاوید اقبال وینس پر مشتمل دو رکنی بینچ نے محمد لطیف کی آئینی درخواست مسترد کی۔ 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس وقار حیدر اعوان نے تحریر کیا۔ عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ پنشن ایکٹ 1871 کے تحت پنشن کو حاصل تحفظ نابالغ بچوں کے حق میں جاری حتمی نان نفقہ کی ڈگری پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔فیصلے کے مطابق فیملی کورٹ نے دونوں بچوں کے لیے فی کس ماہانہ 3 ہزار روپے نان نفقہ مقرر کیا تھا، جس میں ہر سال 10 فیصد اضافہ بھی ہونا تھا۔ ڈگری حتمی ہونے کے بعد عدم ادائیگی پر پنشن اکاؤنٹ کی رقم منسلک کرنے کی کارروائی کی گئی، جسے بچوں کے والد نے چیلنج کیا تھا۔جسٹس وقار حیدر اعوان نے قرار دیا کہ نان نفقہ والد اور بچے کے رشتے سے پیدا ہونے والی قانونی ذمہ داری ہے ، یہ قرض کی واپسی کا عام دعویٰ نہیں۔ صرف پنشنر ہونے کی بنیاد پر والد کو بچوں کے نان نفقہ کی حتمی ڈگری سے استثنیٰ حاصل نہیں۔لاہور ہائیکورٹ نے متعلقہ فیملی کورٹ کو قانون کے مطابق ڈگری پر عملدرآمد جاری رکھنے اور حتی الامکان 30 روز میں کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments