عدالتیں تنسیخ نکاح کا دعوی ازخود خلع میں تبدیل نہیں کرسکتیں:سپریم کورٹ
بیوی کے واضح اور رضاکارانہ انتخاب کے بغیر ایسا کرنا قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا، شواہد نظر انداز کرنے پر مداخلت ہوسکتی شقاق بھی ایسے ہی حالات میں نکاح ختم کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے ، پانچ رکنی بینچ کا زینب اور ارم ناز کے مقدمات کا تفصیلی حکم نامہ
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بیوی کی جانب سے خلع کا انتخاب نہ کرنے کے باوجود عدالت اس کی طرف سے دائر تنسیخ نکاح کے دعوے کو ازخود خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی تاہم اگر ازدواجی تعلق شدید اور مسلسل اختلاف کا شکار ہو جائے ، صلح کی تمام کوششیں ناکام ہوں اور میاں بیوی کے ساتھ رہنے کے بنیادی مقاصد پورے نہ ہو رہے ہوں تو شقاق مسلم قانون کے تحت نکاح ختم کرنے کی قابل قبول بنیاد بن سکتا ہے ۔جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے زینب بی بی اور ارم ناز بیگم کے دو مقدمات کا تفصیلی حکم جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ خلع اور مسلم شادیوں کی تنسیخ کے قانون 1939 کے تحت نکاح کی تنسیخ دو مختلف قانونی راستے ہیں۔ بیوی ظلم و زیادتی کی بنیاد پر نکاح ختم کرنے کا دعویٰ دائر کرے اور خلع کا انتخاب نہ کرے تو عدالت اس کے واضح اور رضاکارانہ انتخاب کے بغیر دعوے کو خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی، خصوصاً جب اس سے حق مہر کے قانونی حق پر اثر پڑتا ہو۔ ظلم و زیادتی ثابت نہ ہو تو بھی عدالت بیوی کی جانب سے خلع کا انتخاب خود نہیں کر سکتی۔
دونوں مقدمات میں فیملی کورٹس نے ظلم و زیادتی ثابت نہ ہونے کے باوجود صلح کی کوششیں ناکام ہونے پر نکاح خلع کی بنیاد پر ختم کیے حالانکہ بیویوں نے خلع کا مطالبہ یا انتخاب نہیں کیا، ایسا فیصلہ قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ ہائیکورٹ شواہد کا دوبارہ جائزہ لے کر اپیل کی عدالت کا کردار ادا نہیں کر سکتی تاہم قانون کی خلاف ورزی، اختیار سے تجاوز، شواہد کے بغیر فیصلہ یا اہم شواہد نظر انداز ہونے کی صورت میں مداخلت کی جا سکتی ہے ۔ فیصلے میں کہا گیا کہ مسلم شادیوں کی تنسیخ کے قانون 1939 کی دفعہ 2 کی شق 9 دیگر ایسے اسباب کو بھی تسلیم کرتی ہے جنہیں مسلم قانون کے تحت نکاح ختم کرنے کیلئے جائز سمجھا جاتا ہے ، شقاق بھی انہی حالات میں نکاح ختم کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے ۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے وکیل غلام مصطفیٰ کندوال کی نظرثانی درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ جب 3 عدالتوں کے فیصلے کسی فریق کے خلاف آچکے ہوں تو نظرثانی میں دوبارہ پورا کیس نہیں کھولا جا سکتا۔ عدالت نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں ملزمان کی بریت کے خلاف سندھ حکومت کی نظرثانی درخواست بھی خارج کردی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments