محکمہ جنگلات درختوں ، پودوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنائے :ہائیکورٹ
تجاوزات کی روک تھام، جنگلات میں باقاعدگی سے گشت کرنے کی ہدایت فوڈ اتھارٹی کی درخواست منظور، مل ڈی سیل کرنے کا مجسٹریٹ کا حکم کالعدم قرار
لاہور (کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے جنگلات کے تحفظ، درختوں کی کٹائی روکنے اور نئے پودوں کی نگہداشت کیلئے اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے محکمہ جنگلات کو درختوں اور پودوں کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنانے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے محکمہ جنگلات کی زمین پر ناجائز تجاوزات کی روک تھام، فوری کارروائی اور جنگلات میں باقاعدگی سے گشت کرنے کی ہدایت بھی کردی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے شہری محمد رمیض کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ ایک موجودہ حقیقت ہے ، آنے والی نسلوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے ضروری اقدامات کرنا ہوں گے ۔تحریری فیصلے کے مطابق جنگل کی زمین کو ناجائز تجاوزات کیلئے استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے اور ایسی تجاوزات سامنے آنے پر فوری قانونی کارروائی کی جائے۔ درخواست گزار نے تحصیل پری جنگل راولپنڈی کے تحفظ کیلئے اقدامات کرنے کی استدعا کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس غلام سرور نہنگ نے بوریوالا میں ملتان روڈ پر واقع آئل مل کو ڈی سیل کرنے کا مجسٹریٹ کا حکم کالعدم قرار دیدیا۔عدالت نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے 10 صفحات پر مشتمل جاری تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011 کے تحت ایمرجنسی پروہیبیشن آرڈر کو برقرار رکھنے ، تبدیل کرنے یا کالعدم قرار دینے کا اختیار فوڈ اتھارٹی کو حاصل ہے ، مجسٹریٹ کو ایکٹ کے تحت جرائم کی سماعت کا اختیار حاصل ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ فوڈ اتھارٹی کے انتظامی احکامات بھی ختم کر سکتا ہے ،عدالت نے مل ڈی سیل کرنے کا حکم کالعدم قرار دیدیا ، تاہم مل مالک کو فوڈ اتھارٹی سے رجوع کرنے کی اجازت دے دی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments