کے پی میں حالات بہتر نہ ہوئے حکومت کیلئے چیلنج بڑھ جائینگے

  کے پی میں حالات بہتر نہ ہوئے حکومت کیلئے چیلنج بڑھ جائینگے

پختونخوا میں آئینی تبدیلی کو ملک میں سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا

(تجزیہ:سلمان غنی)

خیبر پختونخوامیں ایمر جنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے مقاصد پر عمل درآمد کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب اس اقدام نے سیاسی محاذ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ، مسلم لیگ (ن) اپنی اتحادی پیپلز پارٹی کے ساتھ مذکورہ اقدام کو اصل مقاصد سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اس کی نتیجہ خیزی پر توجہ مبذول رکھے ہوئے ہے تو دوسری جانب اس کے خلاف پی ٹی آئی، جے یو آئی اور جماعت اسلامی کی جانب  سے رد عمل دیکھنے میں آ رہا ہے ،پختونخوا میں آنے والی آئینی تبدیلی کو ملک میں سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے اور اب اس گورنر راج کو مذکورہ جماعتیں عدلیہ میں چیلنج کرنے کے اعلانات کرتی نظر آ رہی ہیں ،کہا جا رہا ہے کہ آنے والے وقت میں عدالتی محاذ گرم ہو سکتا ہے ،خود پی ٹی آئی کے حلقے اب یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ وفاق کے ساتھ دھشت گردی کے خاتمہ کی قومی کاز پر تنائو کی کیفیت کا بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ اب پی ٹی آئی کے پاس کوئی پناہ گاہ بھی نہیں رہی،الٹا پختونخوا میں پناہ لینے والے ملک بھر سے سرگرم کارکنوں کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں ، یہ رائے بھی سامنے آ رہی ہے کہ پی ٹی آئی کو اپنے سیاسی کردار کے لئے انتہاپسندی اور مزاحمتی کردار کو چھوڑ کر سیاسی حکمت عملی پر آنا پڑے گا ،ویسے تو جے یو آئی اور جماعت اسلامی کی لیڈر شپ نے بھی گورنرراج پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے لیکن وہ پی ٹی آئی کے احتجاجی اور مزاحمتی رد عمل کا حصہ نہیں بنیں گی، آنے والے حالات میں سیاسی محاذ اور زیادہ گرم ہوتا نظر آ رہا ہے اور خصوصاً پختونخواکی سطح پر گورنر فیصل کریم اور وفاق کے لئے بڑا چیلنج یہاں دھشت گردی کا خاتمہ اور صوبہ میں امن اور استحکام ہو گا اور اس حوالہ سے آنے والے چند ہفتے اہم ہوں گے ۔ اگر دھشت گردی پر قابو پالیا جاتا ہے تو پی ٹی آئی کی سیاسی حیثیت متاثر ہو گی اور اگر حالات میں بہتری نہیں آتی تو حکومت کے لئے چیلنج اور بڑھ جائیں گے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...