ترین گروپ کی شوگر ملز کیخلاف ٹیکس آڈٹ کے دونوں نوٹس کالعدم

 ترین گروپ کی شوگر ملز کیخلاف ٹیکس آڈٹ کے دونوں نوٹس کالعدم

کمشنر کے پاس ٹیکس دہندہ کو آڈٹ کیلئے منتخب کر نے کے غیر محدود اختیار ات نہیں آڈٹ سے قبل ریکارڈ طلب نہ کرنا قانونی طریقہ کار کے منافی ہے :لاہورہائیکورٹ

لاہور (محمد اشفاق سے )لاہور ہائیکورٹ نے معروف کاروباری شخصیت جہانگیر ترین کے گروپ سے وابستہ جے کے شوگر ملز کے خلاف سیلز ٹیکس آڈٹ سے متعلق جاری کیے گئے دونوں نوٹس کالعدم قرار دے دئیے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 25 کے تحت آڈٹ کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے قانون میں طے شدہ طریقہ کار اور تقاضوں  کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن اور جسٹس عابد حسین چٹھہ پر مشتمل ملتان بینچ نے جے کے شوگر ملز کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار کمپنی نے 3 مارچ 2017 اور 6 مارچ 2017 کو جاری کیے گئے نوٹسز کو چیلنج کیا تھا۔ ان نوٹسز کے ذریعے کمپنی کو جولائی 2015 سے جون 2016 تک کے ٹیکس ریکارڈ کے آڈٹ کے لیے منتخب کرتے ہوئے متعلقہ دستاویزات اور معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ جسٹس جواد حسن نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ قانون میں استعمال ہونے والی عبارت ‘‘جب اور جہاں ضرورت ہو’’ کمشنر کو غیر محدود اختیارات نہیں دیتی کہ وہ کسی بھی وقت اور کسی بھی وجہ سے ٹیکس دہندہ کو آڈٹ کے لیے منتخب کر لے ۔ متعلقہ اختیار استعمال کرنے کے لیے حقیقی ضرورت، قانونی جواز اور وجوہات پر مشتمل حکم ضروری ہے ۔ محض ریکارڈ طلب کرکے غیر ضروری چھان بین یا آڈٹ شروع کرنا قانون کے منافی ہو سکتا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...