ہائیکورٹ:شواہد میں تضاد، عمر قید کی سزا پانیوالاملزم بری
ملزم شاہد نے مقتول کو لاتیں مارنے کا اعتراف،قتل کے الزام سے انکار کیا گواہوں کے مطابق ملزم موٹرسائیکل پر پیچھے بیٹھا ، ویڈیو میں وہ شخص مختلف
لاہور (محمد اشفاق سے )لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں سی سی ٹی وی فوٹیج، گواہوں کے بیانات اور طبی شواہد میں تضاد کی بنیاد پر عمر قید کی سزا پانے والے ملزم راجہ شاہد کو بری کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف قتل کا الزام شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا، محض جسمانی ساخت میں مشابہت یا جزوی اعتراف کی بنیاد پر کسی شخص کو قتل کا مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا، خصوصاً جب ویڈیو میں چہرے کے خدوخال واضح نہ ہوں اور شناخت کی تصدیق کیلئے قابلِ اعتماد فرانزک رپورٹ یا مضبوط تائیدی شواہد موجود نہ ہوں۔جسٹس امجد رفیق نے راجہ شاہد کی جانب سے دائر فوجداری اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے 30 مارچ 2024 کو سنائی گئی سزا کالعدم قرار دے دی۔ ملزم کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 (ب) کے تحت عمر قید اور مقتول کے قانونی ورثا کو تین لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کی سزا سنائی گئی تھی۔استغاثہ کے مطابق 18 ستمبر 2022 کو مقتول رانا نعیم قیصر کو موٹر سائیکل پر لے جایا جا رہا تھا کہ ملزم کے گھر کے سامنے فائرنگ کرکے اسے قتل کر دیا گیا۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا کہ واردات کا محرک مقتول اور ملزم کے درمیان 15 ستمبر 2022 کو ہونے والا جھگڑا تھا۔ مقدمہ تھانہ مغلپورہ لاہور میں درج کیا گیا تھا، جبکہ ٹرائل کورٹ نے شریک ملزموں عرب نبی عرف عارف خان، نصیب دولت شاہ عرف بلو پٹھان اور عرفان عرف ملنگ کو بری کر دیا تھا۔دورانِ اپیل لاہور ہائیکورٹ نے مقدمے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا اور ملزم و گواہوں کو طلب کرکے ویڈیو میں دکھائے گئے واقعات سے متعلق وضاحتیں بھی حاصل کیں۔ عدالت کے مطابق فوٹیج میں ایک شخص کو موٹر سائیکل سوار پر متعدد فائر کرتے ، بعد ازاں مقتول کی جیبوں کی تلاشی لیتے اور دوسرے شخص کے ساتھ موٹر سائیکل پر فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے ۔
تاہم ویڈیو میں ملزمان کے چہرے واضح نہیں تھے ۔عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کے گواہوں نے فائرنگ کرنے والے شخص کی شناخت راجہ شاہد کے طور پر کی، لیکن ان کے بیانات اور ویڈیو میں دکھائے گئے واقعات کے درمیان اہم تضادات سامنے آئے ۔ گواہوں کے مطابق راجہ شاہد مقتول کو فائرنگ کے بعد دھمکاتا رہا اور موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھ کر فرار ہوا، جبکہ ویڈیو میں موٹر سائیکل کی پچھلی نشست پر بیٹھا شخص فائرنگ کرنے والے شخص سے مختلف دکھائی دیتا ہے ۔جسٹس امجد رفیق نے فیصلے میں لکھا کہ ملزم نے عدالت میں ویڈیو دیکھنے کے بعد جائے وقوعہ پر اپنی موجودگی اور مقتول کو زمین پر گرنے کے بعد لاتیں مارنے کا اعتراف کیا، تاہم اس نے فائرنگ کرکے قتل کرنے کے الزام سے انکار کیا۔ طبی شواہد سے بھی مقتول کو زمین پر گرنے کے بعد مزید گولیاں لگنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ محض اس اعتراف سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ملزم نے مقتول کو قتل کیا تھا۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر سی سی ٹی وی فوٹیج میں کسی شخص کے چہرے کی شناخت ممکن نہ ہو تو ویڈیو کو فرانزک طریقوں سے بہتر بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے ، تاہم ایسی کارروائی میں اصل ریکارڈنگ کی سالمیت برقرار رکھنا ضروری ہے ۔ ویڈیو کی صداقت، اس کے ماخذ، ریکارڈنگ کے نظام اور شواہد کی تحویل کے تسلسل کو بھی قانون کے مطابق ثابت کرنا لازم ہے ۔ اگر ویڈیو اور دیگر شواہد سے ملزم کی شناخت قابلِ اعتماد طور پر ثابت نہ ہو تو محض شبہ کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی۔ جسٹس امجد رفیق نے قرار دیا کہ فوجداری مقدمات میں ملزم کو شک کا فائدہ دینے کے لیے متعدد شکوک کا ہونا ضروری نہیں، ایک معقول شک بھی بریت کے لیے کافی ہے ۔ عدالت نے راجہ شاہد کی اپیل منظور کرتے ہوئے اس کی سزا ختم کر دی کہ اگر وہ کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہ ہو تو اسے فوری طور پر جیل سے رہا کردیا جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments