سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے سرخ لکیر، سفارتکاری ترجیح
یمن میں بڑی تعداد میں زمینی فوج بھیجنا پاکستان کیلئے تزویراتی طور پر مشکل
(تجزیہ:سلمان غنی)
مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے ۔ ان کا یہ اعلان بھی اہم ہے کہ فوجی تصادم کی صورت میں مکہ دفاعی اتحاد کا اجتماعی دفاعی نظام فعال ہو سکتا ہے ۔ یہ مؤقف پاکستان کی حکومتی اور ریاستی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے ۔ پاکستان ہمیشہ حرمین شریفین کے تحفظ کے عزم پر کاربند رہا ہے اور سعودی عرب کی سلامتی کو مذہبی، دفاعی اورتزویراتی اہمیت دیتا ہے ۔فوجی ترجمان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی پہلی ترجیح سفارت کاری ہے جبکہ دفاعی اقدامات متبادل حکمت عملی کے طور پر موجود ہیں۔ اس تناظر میں حوثیوں کے بڑھتے حملوں، سعودی عرب کے اتحادیوں کے ممکنہ ردعمل اور اس بحران کے پاکستان کی معیشت پر اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حملوں کا مقصد اس پر دباؤ بڑھانا، یمن میں اس کے کردار کو محدود کرنا اور اسے مذاکرات پر آمادہ کرنا ہو سکتا ہے ۔ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششیں اس کی سلامتی اور عالمی ساکھ کے لیے خطرہ ہیں۔ حوثی جنگجو پہاڑی علاقوں، غاروں اور سرنگوں میں چھپ کر چھوٹے پیمانے پر حملے کرتے ہیں، جس سے سعودی عرب کی فضائی برتری کے باوجود ان کارروائیوں کو مکمل طور پر روکنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ بعض ماہرین ان حملوں کو امر یکا ، اسرائیل اور ایران کے درمیان وسیع تر کشیدگی کے تناظر میں بھی دیکھتے ہیں۔سعودی عرب کے دفاع میں پاکستان اور ترکیہ کا ممکنہ کردار اہمیت رکھتا ہے ۔ ان کی معاونت کا بنیادی مقصد سعودی عرب کی سلامتی یقینی بنانا، فضائی حدود کا تحفظ اور اہم تنصیبات کو حملوں سے بچانا ہو سکتا ہے ۔ تاہم اس کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ دونوں ممالک یمن میں حوثیوں کے خلاف براہ راست جنگ میں حصہ لیں گے ۔
ماہرین کے مطابق یمن میں بڑی تعداد میں زمینی فوج بھیجنا پاکستان کے لیے تزویراتی طور پر مشکل ہوگا، کیونکہ اس کی فوج پہلے ہی دہشت گردی اور سرحدی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے ۔ ترکیہ بھی براہ راست جنگ میں شرکت کے بجائے تکنیکی اور دفاعی معاونت کو ترجیح دے سکتا ہے ۔ تاہم سعودی عرب کو سنگین خطرہ لاحق ہونے پر دونوں ممالک معاہدے کے تحت اپنے دفاعی کردار کا تعین کر سکتے ہیں۔پاکستان کو سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اس لیے بھی تشویش ہے کہ دونوں ملکوں کے معاشی تعلقات گہرے ہیں۔
سعودی عرب نے حال ہی میں پاکستان کو تین ارب ڈالر کا مالی پیکیج دیا اور پانچ ارب ڈالر کے ڈیپازٹس میں توسیع کی۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی ترسیلات زر ملکی معیشت کے لیے اہم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے خلاف جارحیت کو اپنے معاشی اور قومی مفادات کے لیے بھی تشویش ناک سمجھتا ہے ۔پاکستان کے لیے ایک اہم چیلنج ایران کے ساتھ تعلقات اور علاقائی توازن برقرار رکھنا بھی ہے ۔ وہ سعودی عرب کی سلامتی یقینی بنانے کے ساتھ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے ۔ اس مقصد کے لیے ایران کو حوثیوں پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے حملے رکوانے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔موجودہ صورت حال میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سعودی عرب کے تحفظ سے متعلق اپنے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے سفارت کاری کو ترجیح دے ۔ اگر پاکستان مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں اس کا امن اور ثالثی کا کردار مزید نمایاں ہو سکتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments