بیوروکریٹس سیاست دانوں سے زیادہ طاقتور:خواجہ آصف

بیوروکریٹس سیاست دانوں سے زیادہ طاقتور:خواجہ آصف

مستقل حکمرانی بیوروکریسی کے پاس،اقتدار میں رہنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے وزیراعظم کے سامنے یہ معاملہ ضرور اٹھائیں گے ، ایوان میں بھی بات کرنے کیلئے تیار

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بیوروکریٹس سیاست دانوں سے زیادہ طاقتور ہیں کیونکہ مستقل حکمرانی ان کے پاس ہے ۔ انہوں نے اقتدار میں حصہ لینے والے تمام افراد کے احتساب کا مطالبہ بھی کیا۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا سیاست دانوں کو جیل بھی جانا پڑتا ہے اور ایک دوسرے سے لڑنا بھی پڑتا ہے جبکہ بیوروکریسی کا اقتدار مختلف حکومتوں میں برقرار رہتا ہے ۔ نئی نسل کو بتایا جانا چاہیے کہ بیوروکریسی نے گزشتہ 78 برسوں میں ملک کے ساتھ کیا کیا۔وزیرِ دفاع نے حال ہی میں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بیوروکریسی کے حوالے سے ایک پیغام جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے بیوروکریٹس کی دُہری شہریت اور پیسہ بیرونِ ملک منتقل کرنے سے متعلق سوالات اٹھائے ۔

اس پیغام کے بعد بیوروکریسی کے کردار اور احتساب پر ان سے گفتگو کی گئی۔خواجہ آصف نے کہا کہ انہوں نے بیوروکریسی کے بارے میں جو بات کی ہے وہ ایک حقیقت ہے ، اور اگر کسی کو اس پر شک ہے تو وہ انہیں چیلنج کر سکتا ہے ۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وزیرِ دفاع اور حکومت کا حصہ ہونے کے ناطے وہ اس معاملے پر کیا کارروائی کریں گے ، تو انہوں نے اپنے بیانات کو بھی عملی اقدام قرار دیا۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنے اختیارات کی نوعیت واضح کرتے ہوئے کہا: ‘میرے پاس براہِ راست تو اختیارات نہیں ہیں، لیکن میں ایک نظام کے اندر رہ کر، اگر اس نظام میں کچھ چیزیں محسوس کرتا ہوں، تو اس نظام کے اندر بھی آواز اٹھاتا ہوں۔خواجہ آصف کے بقول، جب اس نوعیت کی باتیں سرِعام ہونے لگیں تو نظام کو بھی اپنی اصلاح کرنی چاہیے ۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انہوں نے یہ معاملہ وزیرِاعظم کے سامنے اٹھایا ہے یا ایوان میں اس پر بات کی ہے ، انہوں نے کہا کہ وہ یہ معاملہ ضرور اٹھائیں گے اور ایوان میں بھی اس پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

بیوروکریسی کے سیاست دانوں سے زیادہ طاقتور ہونے کے سوال پر وزیرِ دفاع نے اثبات میں جواب دیا اور کہا کہ مستقل حکمرانی اسی کے پاس ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں بیوروکریٹس صدر، گورنر جنرل اور وزیرِاعظم کے عہدوں پر بھی فائز رہے ہیں جبکہ فوجی حکومتوں کے ادوار میں بھی بیوروکریسی کا کردار برقرار رہا۔ان کے مطابق، سیاسی اور فوجی دونوں ادوار میں بیوروکریسی کا کردار اہم رہا ہے ، اس لیے اقتدار میں حصہ لینے والے تمام افراد کا خواہ ان کا کردار زیادہ رہا ہو یا کم، کسی نہ کسی صورت میں احتساب ہونا چاہیے ۔وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ اب یہ وقت آ گیا ہے کہ یہ حساب کتاب ہو۔ ان کے مطابق وہ نظام کا حصہ ہونے کی حیثیت سے اس کے اندر رہ کر ہی اپنی آواز اٹھا رہے ہیں۔

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...