پی پی، ن لیگ کا میثاق جمہوریت کی بات کرنا بے معنی:سیٹھی
مولانا سیاسی طور پر تنہا ہو گئے ، محسن نقوی کے بیانات سیاسی بیان بازی ہیں ممکن ہے حکومت کو پھر مولانا کی ضرورت پڑ جائے : ’’آج کی بات سیٹھی کیساتھ‘‘
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ محسن نقوی کی جانب سے مولانا فضل الرحمن پر سخت تنقید نے انہیں حیران کیا، مولانا کے بیان کو نظر انداز کیا جاسکتا تھا۔ مولانا کافی عرصے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے تھے ، تاہم خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر بھی ان کا موقف نہیں سنا گیا، جس سے وہ سیاسی طور پر تنہا ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔پروگرام ‘‘آج کی بات سیٹھی کیساتھ’’ میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ سیاست میں مخالفین کیخلاف سخت بیانات دیئے جاتے ہیں، لیکن ضرورت پڑنے پر دوبارہ رابطے بھی ہوجاتے ہیں۔ ممکن ہے مستقبل میں حکومت یا تحریک انصاف کو مولانا کی ضرورت پڑ جائے ۔ محسن نقوی کی جانب سے ٹکٹ، نوکری اور پیسوں سے متعلق بیانات محض سیاسی بیان بازی ہیں۔
مولانا نے اس وقت کچھ نہیں مانگا تھا، البتہ انہیں توقع تھی کہ حکومت انہیں بھی ساتھ لے کر چلے گی۔ نواز شریف مولانا اور محسن نقوی کے معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے ۔نجم سیٹھی نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں دونوں جماعتوں کی جانب سے میثاق جمہوریت کی بات کرنا بے معنی ہے ۔ پیپلز پارٹی تحریک انصاف سے رابطے کر رہی ہے کیونکہ اسے 28ویں آئینی ترمیم میں صوبوں اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) سے متعلق ممکنہ تبدیلیوں پر تحفظات ہیں۔ پیپلز پارٹی کو خدشہ ہے کہ ترمیم کے وقت مسلم لیگ (ن) اس کا ساتھ نہیں دے گی۔انہوں نے کہا کہ 2024ء کے انتخابات میں فارم 47 سے متعلق الزامات پیپلز پارٹی کے بجائے مسلم لیگ (ن) پر لگائے گئے تھے ، اس لئے پیپلز پارٹی انتخابی اصلاحات پر بات کرنے کیلئے تیار ہوسکتی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments