نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی واپسی کےمعاملےپرکرس گیل کاٹویٹ
  • بریکنگ :- میں پاکستان جارہا ہوں ،کون چلےگامیرے ساتھ،کرس گیل
  • بریکنگ :- کرس گیل کابیان ٹویٹر کےٹاپ ٹرینڈمیں شامل
Coronavirus Updates
"AAC" (space) message & send to 7575

ہر سوال کا جواب موجود ہے!

جس طرح کوئی اپنی کمر کا تل نہیں دیکھ سکتا اسی طرح حکمران بھی اپنے کیے ہوئے اکثر فیصلوں کے نتائج سے لا علم ہوتے ہیں۔ وہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ آنے والے وقت میں یہ فیصلے کیا نتائج دیں گے اور ان کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ انہیں اس بات کا بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے ارد گرد اور آگے پیچھے پھرنے والے وزیر اور مشیر گورننس کے نام پر کیا کچھ کرتے پھر رہے ہیں۔ مشورے دینے اور فیصلے کروانے والے اکثر تتر بترہو جاتے ہیں اور کچھ اپنی اگلی منزلوں کی طرف رواں دواں نظر آتے ہیں۔ وزیراعظم پہلے ہی اعتراف کر چکے ہیں کہ اُن سے غلط فیصلے ہو جاتے ہیں اور پھر وہ سوچتے رہتے ہیں۔ مردم شناسی سے لے کر مقبول فیصلوں تک بیشتر معاملات میں حکومت کو روزِ اول ہی سے سبکی اور جگ ہنسائی کا سامنا ہے‘جبکہ بعض مشیر اور سرکاری بابو کمالِ مہارت سے اہم ترین اور حساس نوعیت کے معاملات پر وزیراعظم کو نفسیاتی اور اعصابی طورپر اپنے گرد گھما رہے ہیں۔
راولپنڈی رنگ روڈ کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی ہے۔کمشنر راولپنڈی اور لینڈ ایکوزیشن کمشنر وسیم تابش کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ زلفی بخاری اور غلام سرور خان کے بارے میں تاحال ایسے شواہد نہیں مل سکے جن کی بنیاد پر انہیں رنگ روڈ سکینڈل کا ذمہ دار یا ملزم ٹھہرایا جا سکے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ منصوبے کی الائنمنٹ میں تبدیلی اور لینڈ ایکوزیشن کے معاملات میں بے ضابطگیاں بھی ثابت ہوچکی ہیں۔ پانچ نئے انٹرچینج منصوبے میں شامل کرکے نجی ہائوسنگ سوسائٹیز کو بھی فائدہ پہنچایا گیا ہے۔تاہم یہ معمہ تاحال حل طلب ہے کہ مراد اکبر پنجاب کے ایک اہم سرکاری عہدیدارکے پاس نجی ہائوسنگ سوسائٹی کے مالک کو لے کر کیا کرنے آئے تھے ؟ یہ سوال بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ رنگ روڈ منصوبے میں تبدیلی نے کون کون سی ہائوسنگ سوسائٹیز کو چارچاند لگائے ہیں اورکون سی سوسائٹی کا مالک مراد اکبر کے ارد گردہی منڈلا رہا ہوتا ہے۔ غلام سرور خان اورزلفی بخاری کو تو کلین چٹ ملنے کو ہے لیکن اتنے بڑے گھوٹالے میں بس دو افسران کو ہی بلَی کا بکرا بنا کر معاملات کو سمیٹا جارہا ہے ۔ دور کی کوڑی لانے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ وزیراعظم کو رنگ روڈ سکینڈل کی پہلی بر یفنگ کو ادھورا سچ کہا جاسکتا ہے ادھورے سچ کی بنیاد پر کی جانے والی تحقیقات کی رپورٹ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوتی ؟ واقفانِ حال بخوبی جانتے ہیں کہ کس کاریگری سے رنگ روڈ سکینڈل کا سارا ملبہ وزیراعظم کے قریبی مشیروں اور وزیروں پر ڈالا گیا ہے جبکہ کس ہوشیاری سے اصل حقائق کو وزیراعظم سے پوشیدہ رکھ کرکیسے مراد اکبر کو با مراد کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ان کوششوں کے پیچھے کام کرنے والے ذہن اور ہاتھ دونوں ہی تادم تحریر کامیاب ہیں۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
یاد رہے کہ لاہور رنگ روڈ میں بھی ایک سکینڈل بننے سے پہلے نہ صرف پکڑا گیا تھا بلکہ ایک سرکاری افسر کو دوسری مرتبہ کمشنر لاہور بھی تعینات کروایا گیا تھا۔ اس تعیناتی کے پیچھے بھی وفاق میں بیٹھے ایک اہم سرکاری بابو کے نام کی گونج سنائی دیتی رہی جبکہ چیف سیکرٹری پنجاب بھی اس تقرری سے نہ صرف لاعلم تھے بلکہ ایک سٹیج پر آکر بے بس بھی پائے گئے تھے۔خدا خیر کرے انکی جنہوں نے دورہ لاہور کے دوران وزیراعظم کے سامنے پنڈورا بکس کھول دیا اورانہوں نے دارالحکومت پہنچتے ہی نہ صرف دوسری بار تعینات ہونے والے کمشنر کو فارغ کرنے کا حکمنامہ جاری فرمایا بلکہ اس گیم کے اہم کردار صوبائی وزیر کو بھی کابینہ سے چلتا کردیا۔کھولنے والے اگر بروقت پنڈورا بکس نہ کھولتے تو شایدیہ رنگ روڈ بھی ایک سکینڈل بن کر رہ جاتی۔
آج نہیں توکل راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں شریک دیگر بینی فشریز کے نام بھی منظر عام پر آہی جائیں گے۔ممکن ہے کچھ احتیاطیں اور مصلحتیں اثرانداز ہورہی ہوں اور تحقیقات کا دائرہ بس دو افسران تک ہی محدود رکھنا مقصود ہو۔ ایک طرف وفاق میں براجمان ایک مشیر اور دوسری طرف تخت ِپنجاب کے اہم سرکاری بابو ہوں تو مصلحتیں اور احتیاطیں تو بنتی ہیں ۔ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن گوہر نفیس نے تو تحقیقات کے گوہر انتہائی نفاست سے مرتب کیے ہیں تاہم دیکھنا یہ ہے کہ جس ریئل اسٹیٹ کے دھندے کو چارچاند لگائے گئے ہیں ان کی وابستگیاں اوردلداریاں کہاں جانکلتی ہیں۔
بے گناہی ثابت ہونے تک زلفی بخاری نے الزام لگتے ہی استعفیٰ دے کر اپنا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا بھی مطالبہ کیا تھا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے تک وہ کوئی سرکاری ٹائٹل یا مراعات استعمال نہیں کریں گے۔ آنے والے وقت میں رنگ روڈ سکینڈل کی تحقیقات کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ''توڑی کی پنڈ‘‘ بھی کھلتی نظر آرہی ہے جو ماسٹر مائنڈ چیمپئن اپنے بھائی کی ذاتی خواہشات سے مجبور ہوکر اپنے سر پر اٹھا تو چکے ہیں لیکن جونہی یہ پنڈ کھلے گی تو اس کا تنکا تنکا ہوا میں اڑتا نظر آئے گا۔ شاید اس دن سربراہ حکومت کی آنکھوں سے اعتبار اور اندھے اعتماد کی عینک بھی اتر جائے جو ان چیمپئنز نے کمال مہارت اور ہوشیاری سے جمائی ہے۔
کالم رنگ روڈ سکینڈل کو لے کرچلتا چلا جارہا تھاکہ وزیرخزانہ شوکت ترین کے ایک بیان نے قلم کو ایسا کچوکادیا کہ سوچ اور کالم کا دھارا ہی بدل کر رکھ دیا۔ اخبارات کے ڈھیر میں پڑی ایک سپر لیڈ میں وزیر موصوف فرماتے ہیں کہ بیوروکریسی خوف کے باعث کام نہیں کررہی اس لیے نیب کے قوانین بدلنا ہوں گے۔تعجب ہے کہ سیاسی اشرافیہ ہو یا سرکاری بابو سبھی کو اختیارات بھی چاہئیں ‘فنڈز بھی چاہئیں اور آزادانہ فیصلوں کے لیے خودمختاری بھی چاہیے۔ان سبھی مطالبات کے پورے ہونے پر نہ کہیں گورننس نظر آتی ہے اور نہ ہی میرٹ کہیں دکھائی دیتا ہے۔یہ سبھی ایک دوسرے کے سہولت کار ہیں ۔مل بانٹ کر کھانا اور ایک دوسرے کی بڑی سے بڑی واردات پر آنکھیں بند کرلینا ان کی گڈ گورننس کا خاصاہے۔نیب سے خائف سرکاری بابوئوں کے ہاتھ اس وقت کیوں نہیں کانپتے جب یہ حکمرانوں کے سہولت کار بنتے ہیں۔ اناڑی سیاستدانوں کو اقتدار میں آنے کے بعد مال بنانے کے نت نئے طریقے بتاتے ہیں ۔کرپشن کی ٹیوشن پڑھانے والے یہ سرکاری بابو سیاستدانوں کو اپنے ہاتھوں پر ڈال کر خود بھی دونوں ہاتھوں سے نہ صرف مال سمیٹتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کو تحفظ دینے کے لیے گٹھ جوڑ سے بھی گریز نہیں کرتے‘ البتہ افسران کے کام نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ اور شیئر کرتا چلوں کہ بیوروکریسی ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت ڈلیور کرنے سے گریزاں ہے اس کے اندر کہیں یہ خدشہ اور خطرہ نہیں چھپا بیٹھا ہے کہ کہیں شہباز شریف واپس تو نہیں آجائیں گے‘اگر ایسا ہوا تو حکومت میں کارکردگی کے جوہر دکھانے والا افسر شہباز شریف کے غیظ و غضب سے بخوبی واقف ہے؛تاہم شہباز شریف کی واپسی کے خطرے اور بڑھتے ہوئے اس تاثر کوتقویت دینے کا کریڈٹ حکومت کی طرز حکمرانی کو ہی جاتا ہے۔
اکثر فیصلوں اور اہداف کو غیر مقبولیت اور شدید عوامی ردعمل کا سامنا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جو افسران شہباز شریف کی فرنٹ لائن ٹیم کا حصہ تھے وہ سبھی آج بھی اہم ترین عہدوں پر فائز ہونے کے باوجودکارکردگی دکھانے سے کیوں قاصر ہیں؟ ان سوالات کا جواب وزرا کی سرکاری میٹنگز کی ریکارڈنگ دیکھ بخوبی تلاش کیا جاسکتا ہے۔زمینی حقائق سے بے نیاز وزیر اور مشیر سرکاری افسران پر اپنی منطقیں اور خواہشات اس طرح مسلط کرتے ہیں کہ کوئی بھی افسر کارکردگی اور ڈلیوری سے فرار اختیار کرنے میں عافیت سمجھتا ہے۔صوبائی کابینہ کے اجلاسوں کا احوال بھی اس منظر نامے سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ حکومت کے پاس گورننس اور میرٹ پر اٹھنے والے ہر سوال کا جواب موجود ہے تلاش کرنا اور انہیں سمجھنا اب ان کی صوابدید ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں