نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہور:اس وقت مہنگائی پاکستان کانمبرون مسئلہ ہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- کمرتوڑمہنگائی کیخلاف اپوزیشن کمربستہ ہوچکی ہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- سلیکٹڈوزیراعظم 80 افرادکاوفدلےکرسعودی عرب گئےہیں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- لاہور:آئےروزمہنگائی کےبم گرائےجارہےہیں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- اس حکومت کواب عوام برداشت نہیں کریں گے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- ہماراقافلہ نکل چکاہے،حکومت کوبےنقاب کریں گے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- لاہور:خطےپرنئی سردجنگ کےبادل منڈلارہےہیں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- قوم پاکستان کوکسی عالمی سازش کاحصہ نہیں بننےدےگی،شہبازشریف
  • بریکنگ :- کہتےتھےمہنگائی ہوتووزیراعظم چورہوتاہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- سلیکٹڈوزیراعظم نےہرچیزپرپابندیاں لگادیں،شہبازشریف
Coronavirus Updates
"AAC" (space) message & send to 7575

ابھی نہ جشن منائو غبار چھٹنے دو

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے Absolutely Notپر دور کی کوڑی لانے والے ہوں یا دانشوری کا چورن بیچنے والے‘سبھی نے کیسے کیسے تحفظات ‘ خدشات اور پیش گوئیوں کے نام پر مستقبل قریب کا جو بھیانک نقشہ کھینچا تھا اس کے بارے میںبس یہی کہا جاسکتا ہے کہ
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا ؍ جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا
یہاں تو چیرا لگانے کی نوبت بھی نہ آئی ۔ہیبت اور دہشت ایسی طاری ہوئی کہ کیا امریکی اورکیا امریکہ نواز سبھی اڑن چھو ہوگئے۔ Absolutely Notکے رد عمل سے ماحول گرمانے والے ہوں یا وسوسے اور اندیشے پھیلانے والے۔سیاسی پنڈت ہوں یا بین الاقوامی امور پرمستند رائے رکھنے والے ۔کوئی بغلیں جھانک رہا ہے تو کوئی بغلیں بجا رہا ہے؛ تاہم یہ بات طے ہے کہ سدا بادشاہی اللہ کی! کیسے کیسے ناگزیر چپ چاپ گزر گئے۔ قبرستان بھرے پڑے ہیں اور ان کی قبریں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ یہ غفلتوں کے مارے اسی مغالطے میں رہے کہ اگر ہم نہ رہے تو کچھ بھی نہ رہے گا۔ یہ سب کچھ انہیں کے دم قدم سے ہے۔ اپنی اپنی اناؤں میں گم یہ سارے اپنی طاقت اور اقتدار کے نشے میں اس قدر مست تھے کہ انہیں پتا ہی نہ چلا کہ کب ان کا اقتدار ان کے گلے کا طوق بنا اور ان کی طاقت ان کی کمزوری بنتی چلی گئی۔ اپنے ہی عوام پر فاتح بن کر حکمرانی کرنے والے شاہ ایران ہوں یا صدام حسین اور قذافی‘ یہ سبھی زمینی خداؤں سے کہاں کم تھے۔ آج ان کا نام لینے والا کوئی نہیں۔اشرف غنی بھی جان بچی سو لاکھوں پائے کے مصداق صدارتی محل سے جو کچھ سمیٹ سکتے تھے‘ سمیٹ کر رفو چکر ہوگئے۔جو کچھ بچ گیا محض اس لیے کہ چار گاڑیوں اور ہیلی کاپٹر میں مزید کچھ بھرنے کی گنجائش نہ تھی۔کٹھ پتلیوں کا یہی حال ہوتا ہے۔انگلی کے دھاگوں اور اشاروں پر ناچنے والوں کے پیر ہی کہاں ہوتے ہیں؟
افغانستان سے جڑے معاملات ہوں یاافغانستان سے مفادات کے مارے ممالک ‘سبھی وطن عزیز کے لیے عذابِ مسلسل بنے ہوئے ہیں۔ کبھی مصلحتوں اور مجبوریوں کی قیمت بھاری پڑتی رہی تو کبھی سہولت کاری وقتی آسانیوں کے بعد مشکل ترین حالات سے دوچار کرتی رہی۔افغانستان سے امریکی انخلاپر شادیانے بجانے والے ہوں یا نیا منظر نامہ سجانے والے۔ ہمیں ہر صورت ہوشمندی اوراحتیاط کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔دیرینہ حریف بھارت کے لیے افغانستان سے امریکی انخلا کسی صدمے سے ہرگز کم نہیں اور یہ صدمہ وہ اتنی آسانی سے برداشت بھی نہیں کرے گا۔امریکی انخلا کو اس کی پسپائی اور شکست سے منسوب کرنے والوں کوبھی اتنا وژن ضرور ہونا چاہئے کہ امریکا کا نیا پینترا کیا ہو گا؟ افغانستان میں طالبان کی خودمختار حکومت کے قیام کے بعد پاکستان پر کون کون سی آزمائشیں مسلط کی جاسکتی ہیں‘ اس کا ادراک بھی ضرور ہونا چاہیے کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کے بارے غیر محفوظ ہونے کا پروپیگنڈا بھی عین متوقع ہے؛ تاہم دانشمندانہ خارجہ پالیسی کیساتھ ساتھ داخلی استحکام بھی لمحہ موجود کی اہم ضرورت ہے۔
ماضی کی قلابازیوں اور مصلحتوں کے علاوہ سہولت کاری کے سبھی نتائج اور ان کے بھید کھل چکے ہیں طول اقتدار ہو یا استحکام اقتدار۔سبھی وقتی اور عارضی ہی ثابت ہوتا رہا ہے۔ضیاء الحق کی سیاست ہو یا امریکی فرمائش پر فیصلے اور سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر Do Moreکے امریکی مطالبے کو نصب العین بنانے والے‘ جنہوں نے پارسل بنا کر امریکا کے حوالے کرنے میں بالواسطہ یا بلاواسطہ سہولت کاری کی‘یہ ہماری داخلی خودمختاری کامنہ چڑا رہی ہیں۔ان سبھی سے زیادہ امیدیں باندھنے کے بجائے ان کے اندر انتقام کی سلگتی چنگاریوں سے نکلتے ہوئے دھویں کو بھی محسوس کرنا چاہئے۔
Do Moreکے مطالبے پر مشرف دور میں طالبان کو جن حالات کا سامنا رہا وہ سبھی حالات نہ صرف ریکارڈ اور تاریخ کا حصہ ہیں بلکہ اس کے رد عمل میں وطن عزیز کو جس بھیانک دہشت گردی کا سامنا رہا ہے اس کے تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے۔ ملک کے کونے کونے سے بارود اور خون کی بو آج بھی زخم تازہ رکھے ہوئے ہے۔آخر یہ خراج کب تک ادا کرتے رہیں گے؟ کتنی نسلیں یہ خراج ادا کریں گی؟کتنے ہی موسم بدل گئے‘ کتنی رتیں بدل گئیں‘ لیکن یہ غمگین موسم ہے کہ گزرنے کا نام نہیں لیتا۔ کتنے آنگنوں کے پھول مرجھا گئے۔ کتنی ہی مائوں کی گودیں اجڑ گئیں۔ کتنی ہی بہنوں کے بھائی آج تک گھر نہیں لوٹے۔ کتنے سہاگ خون میں نہلائے گئے۔ کتنے ہی بچے یتیمی کا روگ جھیلتے جھیلتے روگی ہو چکے ہیں۔ خدا پوچھے ان سبھی کو جنہوں نے پرائی جنگ کی چنگاری سے اپنا آنگن جلا ڈالا۔ ہمیں کتنی بار پرائی جنگوں کا ایندھن بننا پڑے گا؟ کبھی افغان جہاد کے نام پر تو کبھیDo More کے مطالبے پر‘ کبھی بنامِ الفت تو کبھی دھوکا کھانے کے شوق میں۔ ہم کب تک لٹتے اور مٹتے رہیں گے؟ کب تک ہستی بستی بستیوں کو برباد کرتے رہیں گے؟ کوئی تو انت ہونا چاہیے۔ مصلحتوں اور مجبوریوں کے طوق کب تک ہماری خود مختاری اور غیرت قومی کو یرغمال بنائے رکھیں گے؟
ماضی میں امریکہ کے ساتھ تعاون کی قیمت ہم ڈو مور کی صورت میں چکاتے رہے اور ڈو مور کا مطالبہ اس قدر شدت اختیار کرتا چلا گیا کہ مخصوص اہداف اور افراد تک رسائی بھی ڈو مور کا حصہ بنتی چلی گئی۔ ڈرون حملوں سے لے کر جیتے جاگتے شہریوں کو پارسل بنا کر گوانتامو بے سمیت نجانے کہاں کہاں بھیجنے تک‘ نجانے ہمارے کتنے شہری زندہ درگور ہو کر ڈو مور جیسے نعروں کے گٹھ جوڑ کی قیمت چکا رہے ہیں۔ اُن دنوں عمران خان اس گٹھ جوڑ کے خلاف نہ صرف آواز بلند کرتے رہے بلکہ اپنے شہریوں کی امریکہ کو حوالگی پر احتجاج بھی کرتے رہے؛ تاہم آج پھر ہم سے وہی مطالبے دہرائے جا رہے ہیں۔ ایسے میں وزیر اعظم عمران خان اپنے ماضی کے بیانیوں پر قائم نظر آتے ہیں اور امریکہ کو اڈے دینے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں Absolutely Not کا جواب دے کر اپنا موقف اور ارادے واضح کر چکے ہیں۔ خدا کرے کہ یہ موقف اسی طرح واضح رہے اور اس میں ابہام اور تبدیلی بیانیوں کی تبدیلی تاریخ دہرانے کا باعث نہ بن جائے۔ وہی ماضی‘ وہی تاریخ‘ وہی مصلحتیں‘ وہی مجبوریاں ایک بار پھر سامنے آن کھڑی ہوئیں تو مسائل بڑھ جائیں گے۔بات چیت اور ڈائیلاگ کے آپشنز کو خود پر حرام کر کے مطالبوں اور ڈکٹیشن کو کب تک حلال قرار دیتے رہیں گے؟ اس جبرِ مسلسل میں وزیر اعظم عمران خان کا اڈے دینے سے انکار گھپ اندھیرے میں امید کی کرن بن کر چمکا ہے۔ خدا کرے امید کی یہ کرن کئی دہائیوں پر محیط اندھیرے کو نگل جائے اور خود مختارانہ فیصلوں کا یہ سفر نشان منزل بن کر بھٹکی ہوئی قوم کو مصلحتوں اور مجبوریوں کے سفر سے نجات دلا دے۔ یہ اور بات ہے کہ امریکہ بہادر ایسے دو ٹوک انکار سننے کا عادی نہیں‘ تاہم مشکل فیصلوں کی قیمتیں چکا کر ہی قومیں سرخ رو ہوتی ہیں۔
یاد رہے کہ افغانستان کا باب نہ بند ہوا ہے اور نہ ہی سفر ختم ہوا ہے ۔سنگ میل کو منزل سمجھنے والے راہوں میں ہی بھٹک کر رہ جاتے ہیں۔نئی چالوں اور نئی پینتروں کے ساتھ ساتھ نئے مطالبوں کے لیے بھی تیار رہنا ہو گا۔ افغانستان میں حکومت طالبان کی ہو یا امریکی کٹھ پتلیوں کی‘پاکستان کا کوئی سگا ہے نہ کسی کو ہمارا درد۔ہمیں اپنا ہمدرد اور سگا خود بننا پڑے گا۔غیرت قومی سے لے کر داخلی خودمختاری اور خارجی محاذ تک سبھی پر ماضی کے تجربات کی روشنی میں نہ صرف نظر ثانی کرنا ہوگی بلکہ آئندہ کا لائحہ عمل اور فیصلے بھی ماضی کی سہولت کاریوں کے نتائج کو مدنظر رکھ کر ہی کرنا ہوں گے۔چلتے چلتے محمود شام کے حسب حال اور تازہ ترین چند اشعار پیش کرتا چلوں
ابھی نہ جشن منائو‘ غبار چھٹنے دو / مرے خجستہ نواؤ غبار چھٹنے دو
ہوا ہے مشرق میں غرق اب سفینۂ مغرب / ابھی نہ حشر اٹھائو غبار چھٹنے دو
فلک کی آنکھ بھی حیراں‘ زمیں سرگرداں / بھڑک رہا ہے الائوغبار چھٹنے دو
زمانہ جلد ہی سارے نقاب الٹے گا / کسی سے دل نہ لگائو غبار چھٹنے دو

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں