نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سینیٹ اجلاس،اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور
  • بریکنگ :- ترمیمی بل شوکت ترین نےایوان میں پیش کیا
  • بریکنگ :- حکومت ایک ووٹ سےبل منظورکرانےمیں کامیاب
  • بریکنگ :- حکومتی بنچزنے43،اپوزیشن نے42 ووٹ حاصل کیے
  • بریکنگ :- چیئرمین سینیٹ نےبھی بل کےحق میں ووٹ دیا
  • بریکنگ :- سینیٹردلاورخان گروپ کابھی بل کےحق میں ووٹ
  • بریکنگ :- سینیٹ میں اپوزیشن لیڈریوسف رضاگیلانی غیرحاضر
  • بریکنگ :- یوسف رضا گیلانی نےترمیمی بل پرووٹنگ میں حصہ نہیں لیا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:سینیٹ کااجلاس پیرتک ملتوی
Coronavirus Updates
"AAC" (space) message & send to 7575

اسبابِ شکست

زمانہ طالب علمی میں اس سوال کا سامنا کثرت سے رہتا تھا۔ سوال کچھ یوں تھا کہ اسبابِ بغاوت ہند پر روشنی ڈالیں؟ شاید ہی کوئی طالب علم ہو جس نے اس زمانے میں اس سوال پر روشنی نہ ڈالی ہو۔ اسی طرح آج کل انصاف سرکار کے پی میں بلدیاتی انتخابات میں شکست کے اسباب ڈھونڈتی پھر رہی ہے۔ کے پی تبدیلی کا وہ پہلا قلعہ تھا جسے انصاف سرکار نے 2013 کے عام انتخابات میں فتح کرکے کوئے اقتدار میں پہلا قدم رکھا تھا۔ یہ پہلا قدم دو جماعتی نظام پر اتنا بھاری پڑاکہ 2018 کے عام انتخابات میں ''کیسے کیسے ایسے ویسے اور ایسے ویسے کیسے کیسے‘‘ ہوگئے۔ تبدیلی کا سونامی سبھی کچھ بہا لے گیا۔ کئی دہائیوں سے ملکی وسائل اور اقتدار سے چمٹے تنکوں کی طرح بکھرتے چلے گئے۔ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے والے نواز شریف اپنے ہی دور حکومت میں نہ صرف شہر شہر سڑکوں پر پھرتے دکھائی دئیے بلکہ دیوانہ وار یہ بھی پوچھتے رہے کہ مجھے کیوں نکالا؟
وزیر اعظم عمران خان نے کے پی انتخابات کے بلدیاتی نتائج تسلیم کرتے ہوئے شکست تو مان لی ہے لیکن کمال کا عذر تراشا ہے کہ انتخابات میں شکست کی وجہ غلط امیدواروں کی نامزدگی ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابی نتائج کا مزہ انصاف سرکار پہلے ہی چکھ چکی ہے۔ اس تناظر میں بلدیاتی امیدواروں کو نامزد کرنے والوں کی اہلیت اور قابلیت پر پہلے سے کھڑے سوالات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ انصاف سرکار میں صف اول کے رہنما ہوں یا وفاقی و صوبائی وزرا‘ وزیر اعلیٰ ہوں یا دیگر ارکان اسمبلی‘ کے پی عوام نے سبھی کے نامزد کردہ امیدواروں کو مسترد کر کے اس طرز حکمرانی کے خلاف اپنا کھلا فیصلہ دے ڈالا ہے۔ انصاف سرکار کا پہلا قلعہ آٹھویں برس ہی زمیں بوس ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ خان صاحب نجانے شکست کے کون سے اسباب اور کہاں ڈھونڈتے پھررہے ہیں۔
گزشتہ تین سالوں میںضمنی انتخابات کے نتائج مسلسل الارم بجائے چلے جارہے تھے کہ عوام اس طرز حکمرانی اور حکومتی چیمپئنز سے قطعی غیرمطمئن ہیں اور عاجز آتے چلے جارہے ہیں۔ مجال ہے جو کسی کے کان پر جوں تک رینگی ہو۔ نامعلوم اہلیت اورصفر کارکردگی کے باوجود اپنے وزرائے اعلیٰ سمیت وفاقی و صوبائی وزرا کی قابلیت اور مہارت کے پُل ہی باندھتے رہے ہیں۔ پے در پے تبدیل ہوتے قلمدان ہوں یا اعلیٰ افسران‘ آنے والے کی قابلیت کا ڈھول بجاتے رہے اور جانے والا نالائق ہی ٹھہرتا رہا۔ 2018 کے انتخابات سے پہلے ماہرین کی جو ٹیم ہوم ورک کررہی تھی‘ برسراقتدار آنے کے بعد میدان عمل میں آتے ہی فیل ہوگئی۔ معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے تین سالوں میں ڈیڑھ درجن سے زائد ٹاپ لیول تبدیلیاں اقتصادی سیکٹر میں کی گئیں۔ اسی طرح دیگر وزارتوں میں تجربات آج بھی جاری ہیں۔ پنجاب میں بیوروکریسی میں تبدیلی کے ریکارڈ۔ ریکارڈ مدت میں توڑے جاچکے ہیں۔ چیف سیکرٹری اور آئی جی تو ایسے بدلے گئے ہیں کہ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ شاید اسی کا نام تبدیلی ہے۔ شہباز شریف دور میں جو انتظامی افسران کارکردگی کے چوکے چھکے لگایا کرتے تھے وہ آج بزدار سرکار میں اہم عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود سنگل رن لینے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں۔ خدا جانے پرابلم کہاں ہے؟
زمانہ طالب علمی میں اسباب بغاوت ہند پر روشنی ڈالتے ڈالتے آج اسبابِ شکست کے پی پر کچھ روشنی ڈالنے کی کوشش جاری ہے۔ یقین جانیں اس روشنی سے استفادہ کرکے نہ کوئی پتھر کا بنے گا اور نہ ہی کسی کی جیب سے کچھ لگے گا کیونکہ مردم شناسی، معاملہ فہمی اور گورننس پر کوئی لاگت نہیں آتی۔ اگر کچھ خرچ بھی ہوتا ہے تو وہ صرف دماغ ہے اور دماغ استعمال کرنے سے بھی نہ کوئی پتھر کا بنا ہے اور نہ ہی اس کی صحت پر کوئی مضر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ کے پی بلدیاتی نتائج کے بعد پنجاب کے بلدیاتی اکھاڑے میںکسرت اور تیاری میں مشغول حکومتی پہلوانوں ایک تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ متوقع بلدیاتی امیدواروں میں سہم کا عالم ہے۔ وسوسوں اور اندیشوں میں ڈوبے سبھی امیدوار نجانے کب سے انتظار کررہے تھے کہ کب بلدیاتی الیکشن ہوں اور ان کی باری بھی آئے۔ باری آنے کے آثار نظر آئے تو کارکردگی کے اثراتِ بد سامنے آن کھڑے ہوئے ہیں۔
اس کارکردگی کے ساتھ بلدیاتی معرکہ جیتنا تودرکنار انتخابی مہم کے لیے حلقوں میں جانا ایک دشوار گزار مرحلہ بن چکا ہے جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بلدیاتی انتخابات کا شدت سے انتظار کررہے ہیںکہ کب بلدیاتی معرکہ آئے اور وہ کب حکومتی امیدواروں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیں۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کا اطمینان اور یہ شادیانے بھی انصاف سرکار کی طرز حکمرانی کی ہی مرہون منت ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اگر بلدیاتی انتخابات کا معرکہ مارتی ہے تو اس کا کریڈٹ بھی انصاف سرکار کوہی جائے گا کیونکہ مسلم لیگ (ن) کے پلے نہ کوئی کارکردگی ہے نہ ہی انہیں مینڈیٹ دینے کا کوئی جواز ہے۔ عوام تو نئے پاکستان کی طرز حکمرانی کے جوہر دیکھنے کے بعد پرانے پاکستان کو ترس رہے ہیں؛ تاہم انصاف سرکار کو ماضی کی بدترین طرز حکمرانی کے سبھی ریکارڈ‘ ریکارڈ مدت میں توڑنے کا کریڈٹ ضرور جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی دہائیوں تک شوق حکمرانی کے مارے یہ سبھی سرکاری وسائل کو بھنبھوڑنے اورعوام کا خون نچوڑنے کے باوجود سیاسی طورپر آج بھی زندہ ہیں۔ ان کی کرپشن اور لوٹ مارکی داستانیں ہوں یا ملک و قوم کے خزانے پر کنبہ پروری کی وارداتیں‘ سبھی کے بارے میں بخوبی جاننے کے بعد بھی عوام پرانے پاکستان کو آج بھی کیوں یاد کرتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں وزیراعظم کو ضمنی انتخابات اور بالخصوص خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کے اسباب ضرور مل جائیں گے۔
عوام نے بھی کیا قسمت پائی ہے۔ کیسے کیسے حکمران ان کے نصیب میں لکھے گئے‘ جو اپنی اپنی باریاں لگا کر چلتے بنے۔ سرکاری وسائل اور ریاستی اداروں پر غول در غول حملہ آور ہوئے، ماضی کے سبھی حکمرانوں نے انہیں ملیامیٹ کیا، وسائل کو بھنبھوڑا اور کلیدی عہدوں کی بندر بانٹ کرکے کنبہ پروری کے ساتھ ساتھ اقربا پروری کو بھی خوب رواج دیا۔ انصاف سرکار کے برسراقتدار آنے کے بعد اس مملکت میں سماجی عدل وانصاف کا وقت آیا تو سماج سے لے کر ریاست تک نہ انصاف ہوسکا، نہ گورننس پروان چڑھی اور نہ ہی میرٹ کا بول بالا ہوا۔ انصاف سرکارکو بھی ماضی کے حکمرانوں کی طرح بوئے سلطانی کے مارے سہولت کار حکام میسر آگئے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں قدرت نے جسے بھی گورننس کی نعمت عطا کی‘ اُس نے اس عطاکو اپنی استادی، مہارت اور اہلیت سے ہی منسوب کر ڈالا‘ گویا یہ قدرت کی عطا نہیں بلکہ خود ان کی کسی اَدا کا ''چمتکار‘‘ ہے‘ حالانکہ گورننس کی عطا نہ تو کسی کی مہارت ہے اور نہ ہی کسی کی اہلیت۔ یہ تو بس قدرت کا انمول تحفہ ہے‘ وہ جس کو بھی عطا کرے۔ ہمارے سبھی حکمرانوں کو یہ مہلت کثرت سے میسر آتی رہی ہے۔ جوں جوں یہ کرشمے اور مواقع انہیں میسر آتے رہے‘ توں توں یہ سارے بوئے سلطانی کی دلدل میں دھنستے چلے گئے۔ کبھی جُھرلو تو کبھی دھاندلی۔ کبھی ڈنڈی تو کبھی ڈنڈا۔ کبھی صفائی تو کبھی صفایا‘ حتیٰ کہ بیلٹ کو بُلٹ سے منسوب کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔ حصولِ اقتدار سے لے کرطول اقتدار تک کسی بھی حد سے گزر جانے کے یہ سبھی نظارے چشمِ فلک نے کثرت سے دیکھے ہیں۔ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں شکست تو تسلیم کرلی ہے‘ خدا کرے کہ مردم شناسی کے علاوہ غیرموزوں اورغیر مقبول فیصلوں پر نظرثانی بھی کرلیں تو پنجاب کے بلدیاتی معرکے اور عام انتخابات میں انصاف سرکار کی فیس سیونگ کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں ورنہ ممکن ہے‘ پنجاب کے نتائج کے پی کی شکست بھلا دیں گے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں