نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم سےوزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکی ملاقات
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ عثمان بزدارکی اہم امورپروزیراعظم کوبریفنگ
  • بریکنگ :- امن وامان کی صورتحال،انارکلی واقعہ کی تحقیقات میں پیشرفت پربریفنگ
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ نےپنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں سےآگاہ کیا
  • بریکنگ :- پنجاب میں تحصیل کی سطح پرریسکیوسروس کاآغازکردیا،بریفنگ
  • بریکنگ :- ریسکیوایئرایمبولینس سروس بھی شروع کرنےجارہےہیں،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کی ایئرایمبولینس منصوبےکی تعریف
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ نےمختلف محکموں میں اصلاحات سےمتعلق بھی آگاہ کیا
  • بریکنگ :- پنجاب میں صحت کارڈکی تقسیم کےحوالےسےبھی وزیراعظم کوبریفنگ
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی منشورکےمطابق عوامی ریلیف کےاقدامات تیزکیےجارہےہیں،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- مختلف شعبوں میں قانون سازی سےمتعلق اقدامات کیےگئے،عثمان بزدار
Coronavirus Updates
"AAC" (space) message & send to 7575

عوام کی جنت

نیا سال پرانے مصائب اور آلام کا کوہ ہمالیہ اٹھائے شروع ہوچکا ہے اور مصائب بھی ایسے کہ نسل در نسل بھگتنے کے باوجود بدستور بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ خدا جانے کیسا کھیل اور کون سا تماشا جاری ہے۔پون صدی کے دوران ٹوٹنے والی قیامتیں ہوں یا دیرینہ سیاہ بختی‘سبھی حکمرانوں میں ایک قدر مشترک پائی جاتی ہے کہ یہ سارے ہی نہ صرف عوام کے درد میں مبتلا ہیں بلکہ خود کو ملک وقوم کا مسیحا ثابت کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔عوام دوست حکمران عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کس طرح شہر شہر پھرتے ہیں ‘اسی عوام کی خاطربین الاقوامی دوروں کی صعوبتیں بھی برداشت کرتے ہیں۔ اگر عوام کا درد نہ ہو تو انہیں کیا پڑی ہے کہ اپنے اچھے خاصے وسیع و عریض محلات چھوڑ کر قصر اقتدار میں جابسیں۔ یہ عوام ہی کا درد ہے کہ بیچاروں کو اپنی لگژری گاڑیوں کے باوجود سرکار ی گاڑیوں کے علاوہ کبھی ہیلی کاپٹر تو کبھی چارٹرڈ طیاروں میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ اپنے گھروں میں نوکروں اور خانساموں کی فوج کے باوجود یہ بڑے محلات کے کچن میں تیار ہونے والے انواع واقسام کے پکوان اڑانے پر مجبور ہیں۔ وزیروں اور مشیروں کی آنیاں جانیاں ہوں یا سرکاری ضیافتیں یا محفلِ یاراں یہ سبھی کچھ عوام کے درد میں ہی توجاری و ساری ہے۔ سترسال پرانے اخبارات کا آج کے تازہ اخبارات سے موازنہ کیا جائے تو بخدا ان سبھی سماج سیوک نیتائوں پر واری واری جانے کو دل کرتا ہے کہ عوام کا جو درد ستر سال پہلے کے حکمرانوں میں پایا جاتا تھا وہ دردکئی اضافوں کے ساتھ آج بھی اسی طرح پایا جاتا ہے۔پرانے اخبارات کے موضوعات سے لے کر عوام کے مسائل اور حکمرانوں کے بیانات اور بھاشن آج بھی جوں کے توں ہیں۔
گزشتہ چند دنوں کے اخبارات کے ڈھیر میں سیاسی رہنماؤں کے چند بیانات اس تمہید کی وضاحت کیلئے پیش خدمت ہیں۔ ٭ ملک میں خاموش انقلاب آرہا ہے:عمران خان ٭کوئی ایشین ٹائیگر ریاست مدینہ کا مقابلہ نہیں کرسکتا:عمران خان ٭ صحت کارڈ فلاحی ریاست کا ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اقدام ہے:عمران خان ٭ صحت کارڈ کے آغاز کے بعد اب عوام کو علاج کے لیے لندن‘ امریکہ نہیں جانا پڑے گا:عثمان بزدار٭ نواز شریف آئیں گے نہیں ہم لائیں گے:فواد چوہدری٭پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری‘اضافی وسائل فوج اور انسانی سلامتی کی مضبوطی پر خرچ کیے جائیں گے:معید یوسف٭ہمارے سر سے ہاتھ نہیں اٹھا‘اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں: شیخ رشید٭نواز شریف کی نااہلی ختم کروانے کے لیے راستے نکالے جارہے ہیں: عمران خان ٭خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کی وجہ غلط امیدوار تھے:عمران خان ٭ میری حکومت میں کوئی کرپٹ نہیں :وزیراعظم عمران خان ٭مہنگائی مافیا کے خلاف کریک ڈائون سے قیمتیں کم ہوگئیں: عثمان بزدار٭پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی نگرانی خود کروں گا:عمران خان۔
یہ چند حکومتی بیانیے ہیں جو سرخیاں اور شہ سرخیاں بن کر گزشتہ چند روز میں شائع ہوئے۔ یہ پڑھنے اور سننے کے بعد سمجھنے کیلئے کسی سقراطی بقراطی عقل اور دماغ کی ضرورت نہیں؛ تاہم یہ معمہ ضرور حل طلب ہے کہ حکمرانوں کو یہ خیالاتِ عالیہ کہاں سے آتے ہیں؟ بقول غالب :آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں‘لہٰذا ان پر تفصیلی بات کرنے کے بجائے اختصار اور احتیاط ہی بہتر ہے ۔ ٭وزیراعظم کون سے خاموش انقلاب کی خوشخبری عوام کو سنا رہے ہیں؟ شعلہ بیانیوں اور انقلابی نعروں سے کون سے انقلاب آتے ہیں؟ خاموش انقلاب کی خبر دینے والوں کو خبر ہو کہ خاموشی سے آنے والا انقلاب نہیں بلکہ وہ طوفان ہے جو دبے پائوں نہیں آرہا بلکہ ہر روز اپنی پیش قدمی کی اطلاع بھی دیے جارہا ہے۔ وقت کی مٹھی سے سرکتی مہلت کی ریت تہی دست کرنے کے درپے ہے۔ نیت سے معیشت تک سبھی بھید بھائو کھل چکے ہیں۔آنے والے خاموش انقلاب کے بجائے ان سبھی کی فکر کریں جو ہاتھوں سے نکلا چلا جارہا ہے۔
٭کون سے ایشین ٹائیگر ؟ گدھے پر لکیریں کھینچ کر زیبرے بنانے سے اب مزید کام نہیں چلے گا۔خدارا ر دعووں کے ساتھ اپنی ریاست کے استحکام کیلٗے کچھ عملی طور پر بھی کریں۔آپ کا اقتصادی اور انتظامی ڈھانچہ فقط ڈھانچہ ہی دکھائی دے رہا ہے اور ڈھانچے نہ گورننس کرسکتے ہیں اور نہ ہی ریفارمز۔ ٭خدا کرے یہ کارڈ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اقدام ثابت ہوں اور بیماروں کے روگ کٹنا شروع ہوجائیں لیکن زمینی حقائق کچھ یوں ہیں کہ حکومت کے اس تاریخی اقدام میں بھی مال بنانیوالے کود پڑے ہیں۔ایجنٹوں نے مریضوں کے گرد گھیرا تنگ کرکے انہیں مخصوص ہسپتالوں میں لے جاکر بھرے ہوئے صحت کارڈوں کوغیر ضروری اور غیر متعلقہ علاج کی آڑ میں خالی کرنا شروع کردیا ہے۔صحت کارڈ کے بعد لندن اور امریکہ جانے کی سہولت باقی نہیں رہی۔ حکمرانوں کو شاید معلوم ہی نہیں کہ علاج کیلئے لندن اور امریکہ جانے والے صحت کارڈ سے نہ صرف بے نیاز ہیں بلکہ دورانِ سفر وہ صحت کارڈ کے بجائے ان پلاسٹک کارڈز پر انحصار کرتے ہیں جودنیا کے کسی بھی کونے میں کرنسی کے ڈھیر لگا سکتے ہیں جبکہ دیگر اطلاعات کے بعد یہ صحت کارڈ شہباز شریف کا سستی روٹی کا پروگرام بنتا دکھائی دے رہا ہے ۔ ٭ نواز شریف کو لانے کی تمنا کرنے والے خاطر جمع رکھیں ۔نہ انہیں بیرون ملک بھجوانے کیلیے کسی سے پوچھا گیا اور نہ ہی اب کوئی ایسی زحمت کی جائے گی۔ وہ جیسے گئے تھے ویسے ہی آجائیں گے۔
٭ اچھے تعلقات اور سر سے ہاتھ نہ اٹھنے کی وضاحت دینے کی ضرورت تب پیش آتی ہے جب ہاتھ کے علاوہ بہت کچھ اُٹھ چکا ہو۔ ٭ مہنگائی مافیا کے خلاف کارروائی اور قیمتوں میں کمی کی بات تبھی سجتی ہے جب اس کا چند فیصد بھی سچ ہونے کا امکان ہو۔ ٭اضافی وسائل انسانی مضبوطی پر خرچ کرنے کا بیانیہ ایسے ہی ہے کہ مسائل کے ڈھیر پر بیٹھے انسانوں کو ان وسائل کا جھانسا دیا جارہا ہے جن کا کوئی وجود ہے اور نہ ہی کوئی امکان۔جنہیں انسان کہہ کر مخاطب کیا جارہا ہے وہ مخلوق بنیادی انسانی حقوق سے کل بھی محروم تھی اور آج بھی محروم ہے۔٭حکومت میں کوئی کرپٹ نہیں ہے۔اتنا بڑا دعویٰ سن کروہ بھی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے ہوں گے جن کے دفاع میں یہ بیانیہ جاری کیا گیا ہے۔نیب میں ہونے والی تبدیلیاں اور تقرریاں غیب کو آشکار کرچکی ہیں کہ کہیں یہ تبدیلیاں پیش بندی تو نہیں؟ ٭ کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں شکست غلط امیدواروں کی وجہ سے نہیں‘ امیدواروں کو نامزد کرنے والوں کی طرزِ حکمرانی اور من مانی کی وجہ ہوئی ہے۔ ٭پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کی نگرانی بھی سربراہ حکومت کو خود ہی کرنی چاہئے کیونکہ پے در پے تبادلوں اور قلمدانوں کے علاوہ سبھی اہم معاملات بھی تو انہیں کی منظوری کے ہی مرہون منت ہیں۔ ٭پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ضرور ہے‘ بنیادی اشیائے ضروریہ قوت خرید سے باہر ہیں تو کیا ہوا خون سستا ہے‘ ذلت‘ دھتکار اور پھٹکار سستی ہے‘ ناشکرے عوام کو اور کیا چاہیے؟
پون صدی میں شوقِ حکمرانی پورے کرنے والے حکمرانوں سے لے کر لمحۂ موجود تک سبھی کے بیانات کم و بیش یکساں اورمخصوص مائنڈ سیٹ کی پیداوار دکھائی دیتے ہیں۔ان کی طرزِ حکمرانی کے کیسے کیسے روپ اور بہروپ نجانے کب سے بے نقاب ہوتے چلے آرہے ہیں۔ عوام بھی بلا کے ڈھیٹ اور عادی ہوچکے ہیں۔انہیں بخوبی علم ہے کہ ان کے درد میں ہلکان سیاسی رہنماؤں کے دیے ہوئے درد کا کوئی علاج نہیں تاہم عوام کی اکثریت اس جنت کی باسی ہے جو نجانے کب سے درد دینے والوں اوردرد بڑھانے والوں کو اپنے درد کا مداوا سمجھے چلے جارہی ہے۔خدا جانے احمقوں کی یہ جنت کب تک قائم رہتی ہے ۔جب تک یہ جنت قائم ہے درد دینے والے 'سماج سیوک‘ نیتا بھی قائم و دائم ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں