ہم گناہگارو ں کی بات کس نے سننی ہے لیکن جب اسی ادارتی صفحے پر لکھنے والے ہمارے کولیگ خورشید ندیم‘ جو بہت معاملہ فہم انسان ہیں‘ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ ملک میں ایک ہی ذکر یعنی ذکرِ عمران رہ گیا ہے جس میں لوگوں کی دلچسپی ہے تو مملکتِ خداداد کے تمام حلقوں کو بات سمجھ جانی چاہیے کہ معاملات کہاں تک پہنچ چکے ہیں۔ کب سے آپ براجمانِ اقتدار ہیں‘ کچھ قابلیت کی جھلک دکھائی دیتی تو طلسمِ عمران کو اب تک ٹوٹ جانا چاہیے تھا۔ حقیقت البتہ یہ ہے کہ ٹوٹنے کی بجائے تبدیلیٔ اقتدار کے ساڑھے تین سال بعد طلسم مضبوط ہو چکا ہے اوراگلوں کے اعصاب کا وہ حال ہو گیا ہے جس کی صحیح جانچ کوئی حکیم لقمان ہی کر سکتا ہے۔
حلقۂ اختیار کہتے نہیں تھکتے کہ یہ تو ایک کلٹ ( cult) ہے جس میں اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کے نوجوان مبتلا ہوچکے ہیں۔کلٹ ہی سہی لیکن آپ میں کچھ ہوتا‘ آپ کچھ کر دکھاتے‘ تو کلٹ کی کشش میں کمی آ جانی چاہیے تھی۔ لیکن غریبوں کا جینا دوبھر ہو جائے اور آپ کے طرف سے صرف بیانات ہی رہ جائیں تو اس ملک کے لوگوں نے آپ کی طرف تو نہیں دیکھنا ۔ اور اگر کوئی کلٹ تھا تو نالائقیوں کے ایک لمبے سلسلے سے اُس کو تقویت پہنچ رہی ہے۔بااختیار حلقوں کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آ رہی کہ اڑھائی سال کی گرفتاری اور جماعت پر صعوبتوں کے بعد چراغِ مندر کی روشنی اندھیروں میں زیادہ شدت سے جگمگا رہی ہے۔ کارکردگی آپ کی یہ کہ ٹھیہ بانوں اور ریڑھی والوں کے پیچھے آپ پڑے ہوں‘ کسان اور کسان مزدور کی دنیا تباہ حال کر دی گئی ہو اور آپ سمجھیں کہ عوام نعرے آپ کے لگائیں گے اور کوئی طلسم تھا تو اُسے بھول جائیں گے۔
کس دنیا میں آپ رہ رہے ہیں؟ 2024ء کے الیکشن میں کون سا حربہ دبانے کا اختیار نہیں کیا گیا تھا لیکن پھر بھی مصدقہ اطلاعات کے مطابق لاہور میں 14نشستوں میں سے معتوب جماعت 10نشستیں جیت گئی تھی۔ یہ سب جو پتا نہیں اپنے آپ کو کون سی توپ سمجھتے ہیں پِٹ کے رہ گئے تھے۔ جتنا چاہیں یاسمین راشد کو قید میں رکھیں لیکن لاہور سے ایک گواہی تو ڈھونڈ نکالیں کہ یاسمین راشد نے قائدِ محترم کو عبرتناک شکست نہیں دی تھی۔ خود فریبی کا اپنا مزہ ہے لیکن اس کی کوئی حد توہونی چاہیے۔ جب خود کو بھی معلوم ہے کہ اقتدار میں بٹھائے گئے ہیں تو پھر گھمنڈ کیسا؟
البتہ تکلیف کا اندازہ لگانا ضروری ہے۔ اصل تکلیف یہ کہ اتنی مصیبتوں کے بعد قیدی نمبر فلاں جیل جوانمردی سے کیوں کاٹ رہا ہے۔ چیخ وپکار سلاخوں کے پیچھے سے کیوں نہیں آ رہی جیسا ایک زمانے میں پلیٹ لیٹس (Platelets)کی کمی کا طوفان برپا تھا۔ حلقۂ اقتدار میں کتنے ہی ایسے تھے جو کہتے نہیں تھکتے تھے کہ نشے کا عادی ہے‘ دو دن محرومیٔ نشہ برداشت نہیں کر سکے گا۔ ایسے طرم خانوں کو شر م کیا آنی ہے بس ناقابلِ برداشت تکلیف لاحق ہے کہ قیدی ٹوٹ کیوں نہیں رہا‘ منتوں اور ترلوں پر کیوں نہیں آ رہا۔
قیدی کی غلطی نہیں‘ غلطی آپ کی ہے کہ اپنے اور قیدی میں فرق سمجھنے سے آپ یکسر قاصر ہیں۔ اس حقیقت سے کیا انکار ممکن ہے کہ جب آج کے سرخیل کہیں کے بھی نہ تھے تو کرکٹ کی کامرانیوں کی وجہ سے قیدی عالمی شہرت کی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ جب ہم کچھ نہ تھے وہ بہت کچھ تھا۔ یہ حقیقت آج کے نوابزادوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔ نہ وہ یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ اقتدار گیا یا چھین لیا گیا‘ مقدمات قائم ہوئے‘ گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں‘ سزائیں سنائی گئیں اور طلسم ٹوٹنے کی بجائے وہاں تک پہنچ چکا ہے کہ نہ چاہنے والے بھی کہنے پر مجبور ہیں کہ عمران خان کے علاوہ کوئی موضوع نہیں رہا جس میں لوگوں کی دلچسپی ہو۔
ہمارے سمجھدار اتنی بات کیوں نہیں سمجھ سکتے کہ زور زبردستی کی ایک حد ہوتی ہے‘ اُس کے بعد غالب والی بات آ جاتی ہے کہ مشکلیں مجھ پر اتنی پڑیں کہ آساں ہوگئیں۔ آئین کا کھلواڑ کر دیا‘ اُس سے کیا حاصل ہوا؟ عدلیہ کے ساتھ جو کرنا تھا کر دیا‘ کیا ایسا کرنے سے کچھ عزت کمائی گئی ہے؟ محترم وزیر قانون کو سوچنا چاہیے کہ جتنا تخلیقاتِ ترامیم میں وہ ہنر دکھا رہے ہیں اس سے کون سا مقصد حاصل ہو رہا ہے؟ قیدی کا طلسم ٹوٹ جاتا پھر ہم بھی آپ کے ہنر کی داد دیتے۔ داد کیا آپ کے ہاتھ پر بیعت ہو جاتے۔ لیکن اتنا تو دیکھیں کہ قیدی اپنی کوٹھڑی میں بند ہے‘ اُس سے ہر قسم کی ملاقات پر پابندی ہے‘ اور پھر بھی ساری کی ساری قومی گفتگو اُس کے گرد گھوم رہی ہے۔ اگر ایک طرف کلٹ ہے تو دوسری طرف فوبیا ہے اور یوں لگتا ہے کہ سارے کے سارے پردھان اس وقت اس فوبیا میں مبتلا ہیں۔
ان سب میں سے سمجھدار شخص ہمارے دوست رانا ثنا اللہ ہیں۔ منجھے ہوئے اور سیاسی سوچ رکھنے والے۔ جہاں ان کے اردگرد بہت سے پہلوان سیاسی سوچ سے بالکل عاری ہیں لیکن رانا صاحب سے بھی کوئی پوچھے کہ جب بھی آپ گفتگو فرماتے ہیں سوائے قیدی نمبر فلاں کے کوئی اور موضوع آپ کے لبوں پر نہیں آتا۔ سچ تو یہ ہے کہ کتنے وزیر ہیں جو اس موضوع کو نہ چھیڑیں تو اُن کے پاس کہنے کو کچھ نہیں رہتا۔ گزارش ہی کر سکتے ہیں کہ ایسا کب تک چلے گا۔ ساڑھے تین سال کی تھانیداری ہم نے دیکھ لی‘ کیا حالات بہتر ہوئے ہیں‘ کیا حالات آپ کی گرفت میں ہیں؟ ہم پنجاب والے ایک بلبلے میں رہ رہے ہیں کیونکہ ہم شورش زدہ علاقوں سے دور ہیں‘ ہمیں کوئی صحیح اندازہ نہیں کہ پختونخوا اور بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے۔ کون ہم پنجاب والوں کو بتائے کہ بلوچستان کے وسیع علاقے نو گو ایریا بن چکے ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے کتنے جنوبی اضلاع ہیں جہاں کی سکیورٹی صورتحال مخدوش سے کہیں زیادہ آگے ہے۔ معیشت کا جو حال ہے کسی معاشی دانشور سے مت پوچھیں دیہاڑی دار مزدور سے پوچھیں۔ بڑے بڑے عہدیدار معتوب جماعت کے لیڈر پر کبھی ایک لیبل چسپاں کرتے ہیں کبھی دوسرا۔ ان لیبلوں سے عوامی رائے میں ذرا برابر بھی تبدیلی آئی ہے؟ زبردستی نہ ایوب خان کی رہی نہ ضیا الحق کی نہ پرویز مشرف کی۔ زبردستی کی داستانیں کبھی ہمیشہ کے لیے رہی ہیں؟
زیادہ زعم اس وقت ٹرمپ کی تھپکی کا ہے۔ وہاں سے آشیرباد مل گئی تو فکر کاہے کی۔ ٹرمپ کی چار سالہ مدت کا ایک سال تو گیا۔ اگلے انتخابات کی تاریخ آئے گی تو ٹرمپ جا چکے ہوں گے۔ پر چھوڑیں ان دو رکی کوڑیوں کو۔ یہ پچھلا سال ختم ہوا ہے اور اگلے سال کے تخمینے اور اندازے لگائے جا رہے ہیں۔ کون دعویٰ کر سکتا ہے کہ جو مسائل 2025ء میں حل نہیں ہو سکے اس آنے والے سال میں حل ہو جائیں گے؟ معیشت بہتر ہو جائے گی‘ باہر سے پیسے آنے لگیں گے‘ ایکسپورٹ ہماری بڑھنے لگے گی۔ کیا ہم دیکھ نہیں سکتے کہ ہر چیز ہر شعبہ منجمد ہوکے رہ گیا ہے۔ قومی زندگی جمود کا شکار ہے۔ فیصلہ ساز مخصوص قیدی کے سائے سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پا رہے۔ تاہم قوم کو نوید سنائی جارہی ہے کہ پاکستان کی عالمی حیثیت بہت بڑھ گئی ہے اور ادھر اُدھر کے ممالک اپنے مسائل کے حل کے لیے پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں۔ ایاز قدرِخود بشناس۔ جیسے عرض کیا خود فریبی کا اپنا لطف ہے لیکن اس کی کوئی حدتو ہونی چاہیے۔