"SBA" (space) message & send to 7575

سیدنا علیؓ کی وصیت

رمضان المبارک کا آخری عشرہ سیدنا علیؓ کی شہادت کا عشرہ ہے۔ حضرت علیؓ بن ابی طالب نبی آخری الزماں حضرت محمدﷺ کے چچا زاد اور داماد بھی ہیں۔ آپؓ کی شہادت 21رمضان سنہ 40ہجری بمطابق 26 جنوری 661 عیسوی کو عراق کے شہر کوفہ کی جامع مسجد میں نمازِ صبح ادا کرتے وقت لگنے والے زخم کے باعث ہوئی۔ جہنمی قاتل کے ساتھ جو انصاف سیدنا علیؓ نے کرنے کا حکم دیا‘ اس کی مثال دنیا کی کسی تاریخ اور دنیا کے کسی حکمرانِ وقت نے قائم نہ کی۔
اسی تناظر میں سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے زخم لگنے اور شہادت کے درمیان اپنے فرزندوں اور اولاد کے لیے وصیت جاری فرمائی۔ یہ وصیت دین و دنیا کے حوالے سے ایک مکمل روڈ میپ بھی ہے جو والدین اپنے بچوں کو سکھا سکتے ہیں۔ سیدنا علیؓ کی وصیت نہج البلاغہ کے مکتوب نمبر 47 کی صورت میں من و عن محفوظ ہے۔
سب سے پہلے دیکھیے‘ اپنے بدبخت قاتل کے بارے میں سیدنا علیؓ نے کیا ارشاد فرمایا؛ یا بنی عبدالمطَّلب! لا الفینکم تخوضون دمآء المسلمین، خوضا تقولون: قتل امیرالمؤمنین۔
اے عبدالمطلب کے بیٹو! ایسا نہ ہو کہ تم امیرالمومنین قتل ہو گئے‘ امیرالمومنین قتل ہو گئے کے نعرے لگاتے ہوئے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے لگو۔ یعنی آپؓ نے اپنے قابلِ فخر فرزندوں‘ قبیلے اور عام لوگوں کو مسلم سوسائٹی میں فساد فی الارض روکنے کا حکم صاد ر کیا۔سیدنا علیؓ کی وصیت کے دوسرے نکتے میں جرم کے برابر سزا دینے کا اصول وضع کرتے ہوئے شہرِ علم نے حسنین کریمینؓ کو عدل کا بنیادی مقصد سمجھا دیا۔ فرماتے ہیں؛ الا لا تقتلنّ بی الَّا قاتلی۔ دیکھو! میرے بدلے میں صرف میرا قاتل ہی قتل کیا جائے۔ سیدنا علیؓ کی وصیت کے باقی حصے نکتہ وار پیشِ خدمت ہیں۔
سیدنا علیؓ کی وصیت کا نکتہ نمبر ایک: اوصیکما بتقوی اللّٰہ۔ میں تم دونوں کو خدا سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں۔
سیدنا علیؓ کی وصیت کا نکتہ نمبر دو: وان لا تبغیاالدنیا وان بغتکما۔ اور دنیا کی طرف مائل نہ ہونا خواہ وہ تمہاری طرف مائل ہو۔
سیدنا علیؓ کی وصیت کا نکتہ نمبر تین: ولا تاسفا علی شیء منھا زوی عنکما۔ اور دنیا کی جو چیز تم سے روک لی جائے اس پر افسوس نہ کرنا۔
سیدنا علیؓ کی وصیت کا نکتہ نمبر چار: وقولا بالحق۔ اور جو بھی کہنا حق کے لیے کہنا۔ سیدنا علیؓ کی وصیت کا نکتہ نمبر پانچ: واعملا للاجر۔ اور جو کچھ کرنا ثواب کے لیے کرنا۔ سیدنا علیؓ کی وصیت کا نکتہ نمبر چھ: وکونا للظالم خصما وللمظلوم عونا۔ اور ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار رہنا۔
سیدنا علیؓ کی وصیت کا نکتہ نمبر سات: اوصیکما وجمیع ولدی واھلی ومن بلغہ کتابی بتقوی اللّٰہ ونظم امرکم۔ میں تم دونوں کو اپنی دوسری اولادوں کو‘ اپنے کنبے کے افراد کو اور جن لوگوں تک میری یہ تحریر پہنچے گی‘ ان سب کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے امور کو منظم رکھنا۔ سیدنا علیؓ کی وصیت کا نکتہ نمبر آٹھ: وصلاح ذات بینکم۔ فانّی سمعت جدّ کما صلَّی اللہ علیہ والہ یقول: صلاح ذات البین افضل من عامۃ الصّلوۃ والصّیام۔ آپس کے باہمی تعلقات کو سلجھائے رکھنا کیونکہ میں نے رسولِ خداﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ: آپس کی کشیدگیوں کو مٹانا عام نماز روزے سے افضل ہے۔
سیدنا علیؓ کی وصیت کا نکتہ نمبر نو: واللہ اللہ فی الایتام، فلا تغبّو افواہہم ولا یضیعوا بحضرتکم۔ دیکھو! یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا‘ ان پر فاقے کی نوبت نہ آئے اور تمہارے ہوتے ہوئے وہ برباد نہ ہوں۔سیدنا علیؓ کی وصیت کا نکتہ نمبر دس: واللہ اللہ فی جیرانکم، فانّھم وصیّۃ نبیّکم، مازال یوصی بھم، حتّی ظننّا انّہ سیورّثھم۔ دیکھو! اپنے ہمسایوں کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہنا کیونکہ ان کے بارے میں رسولِ خداﷺ نے برابر ہدایت کی ہے۔ آپﷺ ان کے بارے میں اس قدر تاکید فرماتے تھے کہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا تھا آپ انہیں بھی ورثہ دلائیں گے۔
سیدنا علیؓ کی وصیت کا نکتہ نمبر گیارہ: واللہ اللہ فی القران، لا یسبقکم بالعمل بہ غیرکم۔ اور قرآن کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسرے اس پر عمل کرنے میں تم پر سبقت لے جائیں۔
سیدنا علیؓ کی وصیت کا نکتہ نمبر بارہ: واللہ اللہ فی الصّلوۃ، فانّھا عمود دینکم۔ نماز کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کیونکہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے۔ سیدنا علیؓ کی وصیت کا نکتہ نمبر تیرہ: واللہ اللہ فی بیت ربّکم، لا تخلوہ مابقیتم۔ اور اپنے رب کے گھر کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہنا جیتے جی اسے خالی نہ چھوڑنا۔
سیدنا علیؓ کی وصیت کا نکتہ نمبر چودہ: فانّہ ان ترک لم تناظروا۔ کیونکہ اگر یہ خالی چھوڑ دیا گیا تو پھر (عذاب سے) مہلت نہ پاؤ گے۔
سیدنا علیؓ کی وصیت کا نکتہ نمبر پندرہ: واللہ اللہ فی الجہاد باموالکم وانفسکم والسنتکم فی سبیل اللہ۔ اپنے اموال‘ جان اور زبان سے راہِ خدا میں جہاد کے سلسلے میں خدا سے ڈرتے رہنا۔
سیدنا علیؓ کی وصیت کا نکتہ نمبر سولہ: وعلیکم بالتّواصل والتّباذل، وایّاکم والتّدابروالتّقاطع۔ تم پر لازم ہے ایک دوسرے سے میل ملاپ رکھنا اور ایک دوسرے کی اعانت کرنا اور دستگیری کرنا۔ خبردار! ایک دوسرے سے قطع تعلق سے پرہیز کرنا۔
سیدنا علیؓ کی وصیت کا یہ نکتہ دو عالمی قوانین پر مشتمل ہے۔ ایک قانون احترامِ آدمیت کا ہے۔ جس سے متاثر ہو کر 1973ء کے دستور میں آئین کا آرٹیکل 14بنیادی حق کے طور پر شامل کیا گیا۔ دوسرا نکتہ آج کے اہم بین الاقوامی مسلمہ قانون پر مشتمل ہے جس کے مطابقCause of deathکی مناسبت سے مجرم کو اتنی ہی سزا دی جائے گی‘ جتنی ضرب شہید ہونے والے پر لگائی گئی۔
انظروا اذا انامتّ من ضربتہ ہذہ، فاضربوہ ضربۃ بضربۃ، ولا تمثّل بالرّجل، فانّی سمعت رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) یقول: ایّاکم والمثلۃ ولوبالکلب العقور۔ دیکھو! اگر میں اس ضرب سے مر جاؤں تو تم اس ایک ضرب کے بدلے میں اسے ایک ہی ضرب لگانا اور اس شخص کے ہاتھ پیر نہ کاٹنا‘ کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے: خبردار کسی کے ہاتھ پیر نہ کاٹنا‘ خواہ وہ کاٹنے والا کتا ہی کیوں نہ ہو۔
آج کے گلوبل ویلیج میں بالعموم اور پاکستانی سوسائٹی کے لیے بالخصوص سیدنا علیؓ کی دو سماج دوست اور استعمار دشمن واضح ہدایات یہ ہیں۔ پہلی‘ ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار رہنا۔ دوسری‘ سماج میں ظلم کے راج کو روکنے کیلئے Way forward کے طور پر نصاب میں شامل کیے جانے کے قابل ہے۔ سیدنا علیؓ کا فرمان ہے؛ لا تترکوا الامر بالمعروف والنّہی عن المنکر، فیولّی علیکم شرارکم، ثمّ تدعون فلا یستجاب لکم۔ دیکھو! امر بالمعروف بھلائی کے کام میں جدوجہد اور برائی کو روکنے کے لیے مزاحمت کا راستہ ترک نہ کرنا ورنہ بدکردار طبقہ تم پر مسلط ہو جائے گا اور پھر اگر تم دعا مانگو گے تو وہ قبول نہ ہو گی۔
وہم و تشکیک سے الہام شعاری نہ رکی
شب سے شہزادۂ خاور کی سواری نہ رکی
نکبتِ بے بصراں دیدہ وری تک پہنچی
ضرب شیشے پہ لگی‘ شیشہ گری تک پہنچی

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں