"SBA" (space) message & send to 7575

Story Tellers

بڑوں نے ہمارے لیے سچائی کا جو نایاب ورثہ چھوڑا تھا اُس کی دھجیاں سب سے پہلے ہمارے سربراہان نے اُڑائیں۔ اس طرح کے سیلف سٹائل ارسطوئوں کے بعد چل سو چل۔ ایک سے بڑا ایک کہانی باز آیا اور تاریخِ پاکستان ہزار رات یا داستانِ الف لیلہ میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔ آئیے 14 اگست 1947ء سے شروع ہونے والے تقسیمِ ہند کے پہلے عشرے پہ چلتے ہیں۔
پہلی کہانی: ذرا سوچیے اور غور فرمائیے! بانیٔ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح سخت علیل تھے۔ پاکستان بننے کے صرف ایک سال پہلے تک کراچی بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ تھاجس کا شمار اُس وقت کی دنیا کے بڑے اور ترقی یافتہ شہروں میں کیا جاتا تھا‘ جہاں پہ مختلف کاروباری اور نظریاتی برادریوں نے اپنے عہد کے جدید ترین ہسپتال اور ماہر ڈاکٹرز کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں۔ یہ علاج گاہیں برٹش راج کے سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ تھیں۔ ہمیں کہانی یہ سنائی گئی کہ قائداعظم نے خود فیصلہ کیا کہ وہ بلوچستان کے ایک غیر آباد علاقے میں انگریزوں کی چھوڑی ہوئی ریزیڈنسی میں شفٹ ہونا چاہتے ہیں۔ زیارت‘ جسے آپ لکڑی کا بنا ہوا ڈبل سٹوری کیمپ بھی کہہ سکتے ہیں‘ وہ کوئٹہ شہر سے بھی باہر واقع ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ریاست کے سربراہ کو ایک دیرینہ مرض کے علاج کے لیے بڑے ہسپتالوں سے دور کر دیا جائے۔ اس سٹرٹیجی پہ کون یقین کرے گا؟ کراچی جیسا ایشیا کا بڑا شہر‘ جو تب پاکستان کا دارالخلافہ تھا‘ کیا وہاں بانیٔ پاکستان کا علاج مؤثر نہیں ہو سکتا تھا‘ جہاں پہ ایک سے ایک بہترین معالج موجود تھے؟ گورنر جنرل ہائوس شہر کے وسط میں واقع ایسی جگہ تھا جہاں پہ ایمرجنسی صورتحال میں لائف سیونگ کی تمام تر سہولتیں موجود تھیں‘ اس لیے اس بات کا کھوج لگانے کی بھی ضرورت نہیں رہی کہ بانیٔ پاکستان کو کن عناصر نے زیارت کی ریزیڈنسی میں پہنچایا‘ کس نیت سے اور کیوں؟
دوسری کہانی: قومی غیرت اور اجتماعی خودداری کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے علامہ اقبال جیسے غیور فلسفی کا خواب اور محمد علی جناح جیسے پُرعزم لیڈرکا لازوال ارادہ کہ ہم دنیا کی بہترین قوم بن سکتے ہیں۔ اس قوم کے اقتدار پرست بابوئوں نے تخلیقِ پاکستان کے پہلے پانچ سال میں امریکہ جا کر بڑے شوق سے یو ایس ایڈ کی مونگ پھلی کھا لی۔ اُس کے بعد چل سو چل۔ ورلڈ بینک‘ آئی ایم ایف‘ ایشین ڈویلپمنٹ بینک‘ ساری دنیا کے چیریٹی بانٹنے والے ادارے‘ ان کے علاوہ چھوٹے چھوٹے عرب ملک‘ چین‘ جاپان کا JICA‘ یونیسف‘ یونیسکو‘ یو این ڈی پی‘ یو ایس ایڈ اور نجانے کون کون۔ ہم نے ہر ایک کے سائز کے مطابق درجنوں کشکول بنوا لیے۔ یہ کشکول قوم کی مرضی سے نہیں بنے بلکہ اقتداری مافیا کی اتفاقی فائونڈری اس کے لیے استعمال ہوئی۔ پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے اپنی معیشت کو 14 سمندر پار امریکہ کی کاغذی کرنسی USD کے وینٹی لیٹر پر ڈال دیا‘ حالانکہ عین اُسی وقت ساری دنیا اپنے گولڈ ریزروز بنانے اوراُن کو بڑھانے میں لگی ہوئی تھی۔ اس پالیسی کے نتیجے میں ہماری وہ نسل‘ جس نے یہ ملک آزاد کروایا‘ اپنی ڈوبتی سانسوں کے ساتھ ساتھ قرضے میں ڈوبتی چلی گئی۔ اُس سے اگلی نسل‘ پھر تیسری نسل اور اب چوتھی نسل‘ جو ابھی پالنے میں ہے یا پھر پرائمری سکولوں میں‘ وہ ساری نسل بھی سر کے بالوں تک غیر ملکی قرضوں اور سرکار‘ دربار اور سہولت کار‘ تینوں کی عیاشی کے اخراجات میں ڈوب گئی ہے۔
شہرِ اقتدار کے باخبر حلقوں کی خبر ہے کہ 23 دسمبر کو پاکستان کے ''انتہائی ہمدردتاجروں‘‘ کا ایک جتھہ ہماری واحد فلیگ کیریئر ایئر لائن PIA کوخرید لے گا۔ کاغذی اعتبار سے بھارت ہم سے ایک دن بعد یعنی 15 اگست کو دنیا کے نقشے پر اُبھرا تھا۔ آج وہاں ہر ریاست کے اندر ایک ریلوے پائی جاتی ہے۔ ہم نے دارالخلافہ کی بلڈنگیں‘ پارکس‘ موٹرویز‘ وفاقی دارالحکومت کا واحد ایئر پورٹ اور سارے قابلِ ذکر اثاثے قرض کے عوض گروی رکھے ہوئے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں پاک ریلوے کے بھارت سے تقابلی جائزہ کی مثال لے لیں۔ پاکستان اور بھارت کو برٹش انڈیا راج کی ریلوے ورثے میں ملی۔ آج بھارت میں ریلوے ٹریک ایک لاکھ 30 ہزار کلو میٹر طویل ہے۔ روٹ لینتھ 69 ہزار کلومیٹر ہے۔ یہ ڈیٹا سال 2023-24ء کے مطابق ہے۔ انڈین ریلوے Broad Gauge اور ساتھ ساتھ الیکٹریفائیڈ بھی ہے‘ جس کی وجہ سے اُن کا ریلوے سسٹم ایشیا کا سب سے بڑا ریل نیٹ ورک ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان ریلوے کا روٹ محض سات ہزار 790 کلومیٹر ہے جبکہ ریلوے انفراسٹرکچر پوری قوم کے سامنے ہے۔ اس پہ مزید کچھ کہنا ریلوے کا دل دکھانے کے مترادف ہوگا۔ بجلی ہماری ریڑھ کی ہڈی جیسی صنعت کے لیے بھی دستیاب نہیں ہے‘ تو ریلوے کس باغ کی مولی ٹھہری۔ اگر آپ اسے اُڑانِ ریل کہنا چاہتے ہیں تو یقین جانیں آپ کو کوئی نہیں روک سکتا‘ بلکہ آپ کے منہ میں سرکاری گھی شکر بھی ڈالا جائے گا۔
تیسری کہانی: پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ملک میں پہلا مارشلائی ٹیک اوور جنرل اسکندر مرزا کے زمانے میں شروع ہوا تھا۔ یہ پچھلی صدی کے پانچویں عشرے کی بات ہے۔ اس کی بنیاد یہ بنائی گئی کہ پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے۔ اسکندر مرزا کا دور واقعی نازک تھا۔ اسی لیے اُن کے اپنے وزیر دفاع اور آرمی چیف نے اسکندر مرزا کو جلا وطن کر کے اگلے نازک دور کا آغاز کر دیا۔ یہ دور پورے 10 سال تک چلتا رہا۔ لیکن حالات کی نازکی ابھی باقی تھی‘ اس لیے آغا محمد یحییٰ خان نے پورے ملک کے نازک اندام اکھٹے کر لیے‘ جن میں کوئی بلیک پرل اور کوئی ستارہ۔ پھر ایسی ڈکٹیٹرشپ آئی جس سے متاثر ہو کر ہیما مالنی بھی پاکستان آئی۔ شترو گن سنہا کا ذکر ہی کیا‘ اس ساڑھے گیارہ سالہ دور میں بھی ہم نازک حالات سے باہر نہیں نکل سکے۔ حالات کی نازکی کو بھانپتے ہوئے 12 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے ساڑھے نو سال کے لیے یہ حالات اپنے نازک کندھوں پر اٹھا لیے۔ اللہ خیر کرے! ہمیشہ کی طرح آج بھی ہمارے ملکی حالات پھر سے نازک ہیں۔
آئیے مل کر دعا کریں‘ ہمارے نازک حالات کسی اور مین آف سٹیل المعروف مردِ آہن کا تقاضا نہ کر دیں۔ آج کے داستان گو ایک سے ایک بڑھ کر ہیں۔ آ ج دام ودرہم بھی پہلے سے بڑھ چڑھ کر ہیں۔
آخری کہانی یہ ہے: پاکستان نے 10 دن پہلے پھر سے اُڑان بھر لی۔ حکمرانوں کے غیر ملکی دُور دیس کے دورے درجنوں سے زیادہ ہیں۔ ملک میں فوٹو سیشن کے لیے بلائے گئے سرمایہ کاروں کی تعداد سینکڑوں سے بڑھ گئی ہے۔ پوچھنا یہ تھا! ایک ڈالرکی بھی بیرونی سرمایہ کاری ابھی تک کیوں نہیں آ سکی؟
کسے بتائوں کہ اے مرے سوگوار وطن
کبھی کبھی تجھے تنہائیوں میں سوچا ہے
تو دل کی آنکھ نے روئے ہیں خون کے آنسو

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں