قانون… کیسا قانون؟

آئین کا آرٹیکل 15کہتا ہے شہریوں کو پورے پاکستان میں آزادی کے ساتھ آنے جانے یا رہائش اختیار کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔پنجاب پولیس کا جواب ہے۔ ''آئین؟ وہ کیا ہوتا ہے‘‘۔ جسے یقین نہ آئے وہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدر سے پوچھ لے جن کی گاڑی کو شیر جوانوں نے گلو بٹ برانڈ ڈنڈے مار مار کر چاند گاڑی میں تبدیل کر دیا ۔گاڑی کا جرم بڑا سنگین تھا ۔جی ہاں !گاڑی توڑے جانے کے وقت سواریو ں سے ''مسلح‘‘ تھی۔ 
ویسے بھی ہماری شاہی جمہوریت کے موڈی فرمان اور دفعہ 144 جو1898ء میں فرنگی نے بنائی، انسانی حقوق کو آدابِ غلامی کے تابع رکھتے ہیں ۔ 144 کے تحت چار آدمیوں کے اجتماع پر پابندی ہے ۔ظاہر ہے جس گاڑی میں چار آدمی بیٹھ کر اسلام آباد کی سڑکوں پر گھومتے نظر آئیں اس کے ٹوٹنے والے شیشوں، ڈینٹنگ اور پینٹنگ کا جرمانہ بھی گاڑی کے مالک کو ہی ہونا چاہیے۔قائد جمہوریت ،خادمِ عوام ، شیرِاعظم کا شکریہ ورنہ پنجاب پولیس نے گاڑی کو چاند گاڑی بنانے پر جتنی مشقت ،وقت ، طا قت اور سرکاری ڈنڈے ضائع کیے ان کا بل بھی چیمبر آف کا مرس کے صدرکو جانا چاہیے تھا ۔آخر پولیس نے قانون و آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہوا ہے‘ جو گاڑی بھی آئین اور قانون کو خطرے میں ڈالے گی پولیس کا ہے فرض ،اس کی خدمت کرنا ۔ ڈاکو، بھتہ خور، رسّہ گیر، منافع خور، اغواء کار، دہشت گرد، گنڈھ کَپ، ذخیرہ اندوز 144میں نہیں آتے۔ قانون تو بس قانون ہوتا ہے اندھا ہو یا کانا۔
میرے جیسے نا سمجھ لوگ کہتے ہیں ۔اسلام آباد چھوٹی جیل ہے ، پورا پنجا ب بڑی جیل۔ سب جانتے ہیں ہر جیل اپنے مینوئل کے مطابق چلتی ہے ۔آئین اور انسانی حقوق جیل کے دروازے کے باہر رہ جاتے ہیں ۔اسی لیے ہر جیل ضابطوں سے آزاد ہوتی ہے‘ جہاں وحشت کے سوداگر موبائل فون پر مافیاز کو کنٹرول کرتے ہیں‘ دونوں طرح کی ''ہیروئن‘‘ باہر کی دنیا سے زیادہ آسانی سے اندرپہنچا دی جاتی ہیں‘ بے آسرا قیدی ہاتھوں سے دوسروں کی غلاظت کو صاف کرنے کی ڈیوٹی دیتے ہیں ۔کوئی سرمایہ کار جیل آ جائے تو پوری جیل اُس کے ماتحت ہوتی ہے۔ سیاسی قیدی اکثر پھانسی کی کوٹھڑیوں میں بند ملتے ہیں ۔جیل کے اندر جاتے ہی قانون کا ''نُون‘‘ غائب ہو جاتا ہے‘ اسی لیے آج کے قارون جیل جا کر وکالت کا سہارا نہیں لیتے ۔جج کرتے ہیں یا معاہدے ۔دنیا بھر میں جیل کی قید کو اصلاحی سمجھا جاتا ہے‘ ہمارے کاروباری نظامِ حکومت میں جیل کا کاروبار حکمرانوں کے ہاتھوں یرغمال پولٹری اور جنگلہ بزنس جتنا منافع بخش ہے ۔
جو طبقے قانون کو پاؤں کی جوتی کے نیچے رکھتے ہیں وہی قانون کی حکمرانی کی قوالی بھی کرتے ہیں۔ طاقت ور لوگ قانون کو موم کی ناک یا اُجڑی ہوئی بیوہ جتنی عزت دیتے ہیں ۔آج کل ہمارے ہاں ہوائی خدشات اور انجانے خوف پر مبنی پٹیشن چل رہی ہے‘ جس میں سرکاری اور درباری ٹیموں کا موقف ایک ہے۔ دونوں کہتے ہیں جمہوریت کو خطرہ ہے‘ مگر دونوں کو کابینہ سے باہر زندگی گزارنے والوں پر موت کی بارش نظر نہیں آتی ۔پچھلی جمہوریتوں میںسیاسی مخالفوں پر ایف آئی آر ہوتی تھی۔ موجودہ حکومت پہلے سے بھی زیادہ جمہوری ہے ۔ پہلے گرفتار کرتی ہے پھر سوچتی ہے نظر بند کریں یا مقدمہ گھڑ لیں۔ ماڈل ٹائون سے شاہراہِ دستور تک ریاست گردی، جمہوری نازی ازم اور باوردی بلوائیوں نے جس طرح انسانی خون کی ہولی کھیلی اس پر جالب یاد آئے: 
پچھلے دنوں جو بلوانوں نے یہاں قیامت ڈھائی
اُس پر کیا کیا دل رویا ہے، پوچھ نہ شاہ بھٹائی
اپنی اپنی سوچ ہے پیارے اپنا اپنا دل ہے
تُو نے لیں قاتل کی بلائیں ،آنکھ میری بھر آئی
میں نے اتنی دُور سے خوں بہنے کا شور سُنا ہے
پاس ہی رہنے والوں تک کوئی آواز نہ آئی
تخت و تاج کی افسوں کاری اندھا کر دیتی ہے
ہر سچ کی پہچان سے عاری ہوتی ہے دارائی
ملک کے سب سے بڑے ڈیبیٹنگ کلب پارلیمنٹ کی طرح ہمارا قانون بھی شرمیلا ہے ۔مجھے پارلیمنٹ کی بالادستی پر پورا یقین ہے۔ پارلیمنٹ سپریم ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس کی پاس کردہ قراردادوں میں آبپارہ چوک کے پکوڑے بِکتے ہیں ۔اسے پاس کرنے والے پکوڑوں سے بھی سستے ۔قانون ساز پارلیمان کے اکثر ارکان نہ قرارداد لکھتے ہیں نہ ہی پڑھتے ہیں ۔یہ کام پرچون فروشوں کا ہے جو مفاہمت کے فارمولے کا ''ریٹ‘‘ طے کرتے ہیں یا سیاسی مارکیٹ کے بروکر جو اس قانونی ڈیل کا حصہ لیتے ہیں ۔دو دن پہلے پارلیمنٹ نے اتفاق (فاؤنڈری نہیں) کے ساتھ ایک اور قرارداد پاس کر دی ۔بقول نواز شریف اس میں اٹھارہ کروڑ لوگوں کی رائے شامل ہے‘ پوری پارلیمنٹ سمیت۔ وزیرِ اعظم نے اٹھارہ کروڑ میں مجھے اور عمران خان کو بھی گِن لیا۔ نہ جانے کیوں وہ سب کو مخدوم سمجھتے ہیں۔ اس قراردادِ ''ذاتی مقاصد‘‘ کو پاس کرتے وقت پارلیمنٹ نے درجِ ذیل احتیاطی تدابیر سامنے رکھیں۔ 
1: پوری قرارداد میں عوام کے مسائل جیسے لوڈ شیڈنگ،بجلی کی مہنگائی ،گیس کا نہ ملنا ،مرغی سے مہنگی دال ،موت سے مہنگی سبزی اور دودھ‘ دوائی سے سستی ٹارگٹ کلنگ جیسے غیر ضروری مسائل کا ذکر تک نہیں۔
2: قرارداد نے اتفاقیہ طور پر نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر سیلاب، بیماریوں اور غنڈہ گردی سے مارے گئے عوام کا نام تک نہیں لیا تاکہ صاف ستھری قرارداد میں اٹھارہ کروڑ گندے مندے لوگوںکا ذکر نہ آ جائے ۔
3: قرارداد میں پاک فوج، شہداء اور غازیوں کو اتفاق کے ساتھ نظر انداز کیا گیا ۔
میں قرارداد کے دن‘ لیکن صاف ظاہر ہے۔اس کے پاس ہونے سے پہلے‘ پارلیمینٹ سے نکل کر باہر آ گیا ۔میرے اٹھنے سے لے کر باہر نکلنے تک قرارداد ی بڑوں نے سُکھ کا سانس لیا‘ کیونکہ پارلیمنٹ نہ مفاہمت کے اصولوں پر بحث چاہتی ہے اور نہ ہی اس کے ثمرات یعنی پھل فروٹ پر۔ 
قانون کی بالا دستی کا بھاشن دینے والوں نے پارلیمانی قوانین کی دھجیاں اُڑا دیں۔ مثال کے طور پر کوئی پارلیمنٹ وقفۂ سوالات (Question Hour)کے بغیر نہیں بیٹھتی۔ تین ہفتے کے مشترکہ سیشن میں عوامی مسائل کی طرف توجہ دلانے والے وقفۂ سوالات کو جمہوریت سُوپ سمجھ کر پی گئی۔ پارلیمان کے رولز آف بزنس کے تحت پہلی بار کوئی تحریکِ التواء آئی نہ توجہ دلائو نوٹس ایجنڈے پر رکھا گیا‘ نہ ہی کسی کو ''متفقہ قرارداد‘‘ پڑھنے کے لیے بھجوائی گئی۔ کون نہیں جانتا اپوزیشن آئینی رُتبہ ہے‘ اسے بادشاہ کے پائوں میں فِٹ آنے والی جوتی نہیں بنایا جا سکتا۔
قانون... کیسا قانون؟ کون سی فیڈریشن اور کون سا آئین ؟ کشمیر تصفیہ طلب ہے مگر پارلیمنٹ ہائوس میں بند مجبور جمہوریت نے کشمیر پولیس اسلام آباد بُلا لی۔ پنجاب ایک صوبہ ہے مُلک نہیں‘ اس کی پولیس دو ماہ سے اسلام آباد پر قابض ہے۔ سکول ، ہسپتال، لیڈیز پارک اور سیر گاہیں سب ان کے غسل خانوں اور غلاظت خانوں میں بدل چکے ہیں۔ میں ایک لاکھ بچوں کے حقوق کے لیے چیخ چکا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا شکریہ وہ بھی بول پڑی۔ لمبی بحث کو چھوڑیں اگر کوئی قانون ایسا بھی ہے جو پنجاب پولیس کو اسلام آباد ٹرانسفر کرنے کی اجازت دیتا ہے تو پھر فاٹا کے خاصہ داروں اور پشاور کی پولیس دو سال کے لیے اسلام آباد ٹرانسفر کر لیں۔ وہ بارہ سال سے ہماری بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ تازہ دم پنجاب اور لاہورپولیس کو کراچی، چمن، فاٹا اور پشاور ٹرانسفر کیا جائے۔ آخر اس پولیس نے آئین اور قانون کا حلف اُٹھا یا ہے ۔ جہاں آئین اور قانون کے نفاذ کی زیادہ ضرورت ہے‘ اِسے وہاں سے دُور رکھنا اجتماعی زیادتی ہے۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں