اپوزیشن

ساری دُنیا کے آئینی نظام میںحزبِ مخالف کا کردار تسلیم کیا جاتا ہے۔اِس کی کوئی ایک وجہ نہیں بہت سی وجوہ ہیں۔ یہ طے شدہ کردار ہے۔ جبکہ لفظ اپوزیشن سے بھی اس کے معنی ظاہرہیں یعنی مخالف جماعت، لشکر، جیش، گروہ یا پارٹی۔ حزب (یعنی جماعت/ گروہ) عربی زبان کا لفظ ہے۔ 
پارلیمانی نظام میں ریاستوں کے سربراہ تین قسم کے ہیں جو آج بھی کامیاب ریاستوں میں ملک کی زمامِ کار اور عوام کی زمامِ اقتدار کا کام سنبھالے ہوئے ہیں۔ برطانیہ کو ''جمہوریتوں کی ماں‘‘ کہا جاتا ہے جہاں پارلیمنٹ کے دو ایوان ہیں‘ اس کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ میں دو سیاسی دھڑے بھی ہیں۔ ان میں سے ایک "Treasury Benches"حزبِ اقتدار کہلاتا ہے جبکہ دوسرا اپوزیشن۔ برطانیہ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ دونوں دھڑے‘ جمہوریت کے نام پر مراعات اور اقتدار کو بچانے کے لیے مفاہمت (compromise) کر لیں ۔ وہ بھی اس قدر گہری کہ پولیس کے ہاتھوں سرکاری قتلِ عام پر پارلیمنٹ میں نہ بحث کریں نہ قرارداد لائیں نہ سوال اٹھائیں اور نہ ہی کسی طرح کا احتجاج کریں۔
برطانیہ کی ایک ہزار سال پرانی پارلیمنٹ میں ایسا موقع کبھی نہیں آیا کہ بدترین سیاسی بحران پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس تین ہفتے چلتا رہے اور جس کا ایجنڈا سرکار کی چمچہ گیری، وزیرِ اعظم کی خوشامد اور کابینہ میں ایک وزیر کو punching bag یعنی مُکّے بازی والا تھیلا بنا کر کابینہ میں اُس کے مخالف گروپ کو ہنسنے، مسکرانے بلکہ تالیاں بجانے اور ٹھٹھہ اُڑانے کا موقع دینا ہو۔ 
فرض کر لیتے ہیں کہ برطانیہ کی جمہوریت پاکستان کے لیے رول ماڈل ہے۔ تو پھر برطانیہ کی پارلیمنٹ میں کوئی وزیرِ اعظم ایسا نہیں گزرا جس کی تقریر میں دورانِ خطاب اونچی آواز میں نو، نو کہہ کر ہوٹنگ نہ کی گئی ہو۔ برطانوی دارالعوام کے ضابطوں اور روایت کے مطابق وزیرِ اعظم کو تقریر کے دوران سوال کرنے والوں کے لیے یہ جملہ کہنا فرض ہے‘(I will give you space) کہ معزز ممبر وزیرِ اعظم جس کا نام لیتا ہے اور پھر کہتا ہے ،میں آپ کو جگہ (space)دوں گا۔ برطانوی وزیرِ اعظم اس بات کا بھی پابند ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر کھڑا ہو کر رُکنِ پارلیمنٹ سے کیا گیا وعدہ پورا کرے۔ ممبر کو جگہ یا سانس لینے کا موقع سمجھ کر سوال کرنے کی مہلت دے اور پھر اس کا جواب بھی۔ اسی جمہوریت میں سربراہِ ریاست وزیرِ اعظم نہیں بلکہ کوئین آف انگلینڈ اینڈ ویلز ہے۔
ذرا دوسرا ماڈل دیکھ لیجیے...! جس نے امریکہ بہادر کو عالمی نمبردار بنا دیا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں سربراہِ حکومت و سلطنت ایک ہی ہے... صدرِ امریکہ۔ امریکی صدر کا انتخاب چار سال بعد ایک مقرر شدہ مہینے کی طے شدہ تاریخ پر ہو جاتا ہے اور وہ تاریخ نومبر کے مہینے میں پہلے والے پیر کے بعد آنے والامنگل ہے۔ اس تاریخ کو نہ الیکشن کمیشن تبدیل کر سکتا ہے نہ امریکی صدر اور نہ ہی امریکیوں کی سپریم کورٹ ۔ اسی طریقے سے امریکی صدر کی حلف برداری کی چھوٹی سے چھوٹی تفصیل بھی طے ہے۔ امریکی صدر کو برطانوی وزیرِ اعظم کی طرح عوام کے ٹیکس سے اپنا رہائشی گھر وزیرِ اعظم ہائوس یا صدر ہائوس ڈکلیئر کرنے کی اجازت نہیں۔ 10ڈائوننگ سٹریٹ جو تاجِ برطانیہ کے حکومتی سربراہ کا گھر ہے اور وائٹ ہائوس دونوں کی سکیورٹی اتنی بھی نہیں جتنی ہماری لینڈ مافیا بہادر کے کسی ادنیٰ فنکار کے ڈیرے کی ہوتی ہے۔ وائٹ ہائوس کی سکیورٹی کا یہ حال ہے کہ ابھی پچھلے ہفتے قصرِ سفید کی سیاحت کا ایک شوقین شہری اس کی ساری دیواریں پھلانگ کر ڈرائنگ روم تک پہنچ گیا۔
ڈرائنگ روم سے یاد آیا، 10ڈائوننگ سٹریٹ کا کُل رقبہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بادشاہ سلامت کے گھر کے کچن سے بھی کم ہے۔ 10ڈائوننگ سٹریٹ کا فرنیچر ہمارے کسی سرکاری ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے کمرے سے بھی سو گُنا کمتر ہے۔ جن دنوں مارگریٹ تھیچر وزیرِ اعظم تھیں‘ ان دنوں اس فولادی خاتون(iron lady)کا خاوند چائے یا کافی بناتا تھا ۔ چائے سے مہمانوں کی تواضع ایسے ٹیبل پر ہوتی ہے جو ہمارے کسی سیون سٹار سکول کے کیفے ٹیریا کی میز سے بھی بہت چھوٹی ہے۔
اب ذرا ایشین ٹائیگر کے چڑیا گھر میں نظر دوڑایئے۔ صرف لاہور میں 7عدد گھروں کو سرکاری رہائش گاہیں قرار دیا گیا۔ اِن میں ایک خادمِ اعظم اور ایک خادمِ اعلیٰ رہتے نہیں بلکہ قدم رنجہ فرما کر استراحت اور قیام فرماتے ہیں۔ ان کی سکیورٹی پر براہِ راست اور بالواسطہ دس ہزار سے زیادہ سرکاری خزانے سے تنخواہ لینے والے قوم کے ملازم ڈیوٹی دیتے ہیں۔ ان کے TA/DA ، ان کے بجلی کے بِل، ہمارے جمہوری حکمرانوں کے ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے اخراجات، ان کی ٹی بریک، ان کے برنچ، ان کے کھابے اور گُشتابے، ان کی عرب بادشاہوں سے بھی قیمتی کرسیاں اور صوفے ان کے باتھ روموں میں لگے ہوئے بدیشی برتن، سونے کے شاور اور اُن میں رکھی ہوئی خوشبوئیں، شیمپو، سکرَب، ہیئر کلر اور نہ جانے کیا کیا۔
ابھی دو دن پہلے 8اکتوبر 2005ء کے زلزلے کی یاد منائی گئی۔ یہ وہ آفت تھی جس میں ایک لاکھ سکولوں کے بچے، پچاس ہزار سے زیادہ گھریلو عورتیں اور مرد اور نہ جانے کون کون زمین کے پیٹ میں اُتر گئے۔ دوسروں کے ساتھ ساتھ مجھے رہ رہ کر صاحبزادہ اسحٰق ظفر یاد آ رہے ہیں۔ ان کے سانحے سے کچھ عرصہ پہلے ہی شہید بے نظیر بھٹو نے میری ڈیوٹی لگائی کہ میں بیرسٹر سلطان محمود اور ان کے درمیان صلح صفائی کرائوں۔ دونوں باری باری میرے گھر تشریف لائے۔ اسی سلسلے کی تین ملاقاتیں ایسی بھی تھیں جن میں صاحبزادہ صاحب کو دروازے پر آ کر الوداع کہا۔ اگر معلوم ہوتا کہ یہ آخری ملاقات ہے تو میں انہیں اسلام آباد سے مظفر آباد جانے ہی نہ دیتا۔ صاحبزادہ صاحب کی پوری بستی مکانوں سمیت زمین میں دھنس گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس زلزلے سے ہم نے کوئی سبق سیکھا؟ جس کا جواب ہے بالکل نہیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ 32سال سے زیادہ برسرِ اقتدار لوگوں نے پچھلے سیلاب سے کوئی سبق سیکھا جواب پھر نہ میں ہے۔ لیکن پارلیمنٹ کے اندر اور اقتدار کے کیک سے اپنے حصّے کا پیس اور کیک رس نکالنے والوں نے خوب سبق سیکھا ہے۔ سبق یہ ہے کہ پاکستان کے وسائل خدا نے ان کے تصرّف کے لیے پیدا کیے ہیں۔ دوسری جانب اب لوگوں میں حرکت ہے۔ زوردار نہ سہی، منہ زور نہ سہی لیکن نظر آنے والا تحرّک ہے۔
پاکستان کے وہ لوگ جو وی آئی پی کلچر سے نفرت کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو ماورائے قانون اور ماورائے عدالت قتل پر احتجاج کرتے ہیں وہ جو کیڑے مکوڑے والی زندگی گزارنے پر راضی نہیں ہیں۔ وہ جن کے بچّے رات کے باقی بچے سالن کے ساتھ سُوکھی روٹی کا ناشتہ کرتے ہیں اُن کے خلاف جاگنا شروع ہو گئے ہیں جن کے کُتے دیسی بکرے اور مقامی تیتر کا گوشت منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے بھی نہیں کھاتے۔
اپوزیشن ایک آئینی ذمہ داری ہے عوام کے حقِ حکمرانی کو اپوزیشن کے بغیر تسلیم نہیں کروایا جا سکتا۔ مجھے خوشی ہے اور اطمینان بھی کہ 446لوگوں کی اس پارلیمنٹ میں غریب مجھے اپوزیشن سمجھتے ہیں۔ جبکہ قتل کے الزامات میں ملوّث کابینہ کے تابعدار اپنے آپ کو جمہوریت کا محافظ کہتے ہوئے شرماتے بھی نہیں۔ میں اپوزیشن ہوں اسی لیے مُک مُکا کی کابینہ میں جانے سے انکاری بھی۔ اسی لیے سرمائے کے خدائوں کا معتوب اور ظلم کے مارے ہوئے لوگوں کو محبوب جانتا ہوں۔ 
پائوں کی ٹھوکر پہ رکھتا ہوں جلالِ خسرواں 
میرے آقا، میرے مولا رحمت للعالمینﷺ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں