اس بات پر سب متفق ہیں کہ ا ن دنوں دو بڑے بریک ڈائون پھر ہوئے پہلا پٹرول کی خریداری اور فراہمی کا جبکہ دوسرا بجلی کے نیشنل گرِڈ کا‘ لیکن سوال اس سے بڑا بھی ہے اور مختلف بھی۔ پاکستان میں بجلی فیل ہو رہی ہے یا ملک کا فرسودہ‘ بیمار‘ بیہودہ حد تک عوام سے بے زار اور عوام دشمن نظام سرمایہ داری کا خدمت گزار نظام بریک ڈائون کا شکار ہے...؟
اس نظام کے پارٹنر اسے جمہوریت کہتے ہیں۔ ان کا نقطہ نظر اس حد تک درست ہے کہ جمہوریت کا سارا پھل فروٹ ان کے پیٹ میں جاتا رہے لیکن عوام کا پیٹ خالی ہے اور ساتھ ساتھ جیب بھی۔ اب عوام اس نظام سے اس حد تک بے زار ہوچکے ہیں کہ وہ احتجاجی مظا ہرے ، جلوس یا سڑک پر ٹائر جلانے کے لیے سیاسی جماعتوں کے سکہ بند کارکنوں کے محتاج بھی نہیں رہے۔اس کا مظاہرہ ہم سب نے پٹرول بحران کے دوران دیکھا کہ جب گھریلو خواتین نے پٹرول پمپ پر پیپے بجا بجا کے اس نظام کو'' پیپا جمہوریت ‘‘بنا دیا۔
یہ بات نہ کہنا پاکستان کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے کہ ملک کا نظام شدید بریک ڈائون کا شکار ہے‘ جسے دو حصوں میں سمجھا جا سکتا ہے۔ پہلا خود پسنداور مغرورحکمران جبکہ دوسرامغلیہ دور جیسا شغلیہ طرزِ حکمرانی۔ بجلی اور پٹرول کے بحران پر حکومتی ذمہ داروں کے مؤقف میں سب سے پہلا مؤقف وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کا تھا۔ موصوف نے کہا کہ پٹرول کا بحران ہمارے خلاف سازش ہے۔ دوسرا مؤقف وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کا تھا۔ اسے ایک شفاف اور کھلا اعترافی بیان بھی کہا جا سکتا ہے۔ وزیرِ داخلہ نے کہا: پٹرول بحران کے ذمہ دار ہم ہیں ۔ پاکستان کا آئین بھی یہی کہتا ہے کہ وزیروں میں سے کسی ایک کی نا کامی کی ذمہ داری پوری کی پوری وفاقی کابینہ پر عائد ہوتی ہے۔ تیسرا مؤقف عوام کے انتہائی محبوب اور بلیک مارکیٹ کے مطلوب صاحبِ پٹرول، تیل و گیس جناب وزیرِ پٹرولیم کا ہے جو فنِ حکمرانی کے آئن سٹائن ثابت ہوئے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پٹرول بحران کے ذمہ دار دو ہیں اور ان میں سے ایک پاکستان کا آزاد میڈیا ہے۔ وزیرِ پٹرولیم نے پٹرول بحران کی ذمہ داری ڈالتے وقت الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے یکساں یعنی برادرانِ یوسف والا سلوک کیا۔ وزیر موصوف یہیں نہیں رُکے۔ انہوں نے یہ بھی فرمادیا کہ وہ بھکاری جو جمہوری پیپے‘ غیر جمہوری بوتلیں اور شرپسند ڈبے پکڑ کر پٹرول پمپوں کی لائنوں پر کھڑے تھے۔ وہ بھی پٹرول بلیک مارکیٹ کے ذمہ دار ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ انہی وزیر صاحب کی کمال کارکردگی کی وجہ سے پورے پاکستان کے پمپوں پر ہر گاڑی ، ہر جیپ اور ہر موٹر سائیکل سوار کو کھڑا ہونا پڑا۔ پمپوں پر پٹرول بیچتے وقت یہ بتایا جاتا رہا کہ پٹرول پانچ سو روپے کا ملے گایا پھر ہزار یا ڈیڑھ ہزار کا۔ اس سے زیادہ سٹاک موجود نہیں ہے‘ اس لیے پٹرول کی لائن میں کھڑے ہونے والے اکثر بھکاری وہ تھے جن کے بیوی بچے گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ گاڑی چلتے چلتے سڑک پر رُک گئی اور معزز خواتین و حضرات ڈبہ یا بوتل پکڑ کر پٹرول پمپ کی میلوں لمبی لائن میں جا کر کھڑے ہوئے۔ حبیب جالب ایک دفعہ خواتین کے جلوس میں پولیس کی لاٹھیوں کی زد میں آگئے ۔ جلوس ضیاء آمر یت کے زمانے میں لا ہور میں نکلا اس وقت وزیرِ پٹرولیم کے والد صاحب ضیاء مارشل لاء کے وزیر تھے ۔ حبیب جالب نے اپنی بے بسی یوں بیان کی:
بڑے بنے تھے جالب صاحب پِٹے سڑک کے بیچ
گولی کھائی لاٹھی کھائی، گِرے سڑک کے بیچ
کبھی گریباں چاک ہوا اور کبھی ہوا دل خوں
ہمیں تو یونہی ملے سخن کے صلے سڑک کے بیچ
جسم پہ جو زخموں کے نشاں ہیں، اپنے تمغے ہیں
ملی ہے ایسی داد وفا کی کِسے سڑک کے بیچ؟
چوتھا مؤقف وزیرِاعظم نواز شریف کا تھا۔ طائرِلاہوتی نے کہا‘ پٹرول بحران کے ذمہ داروں کو چھوڑنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ پاکستان کے مظلوم عوام نے یہ سمجھا کہ شاید وزیرِاعظم اب پاکستان میں پٹرول کی بلیک مارکیٹ کے بانی وزراء کو نہیں چھوڑیں گے‘ انہیں فوراً بے توقیر کر کے کابینہ سے نکالا جائے گا۔ پھر وہ الٹے لٹکائے جائیں گے‘ پھر ان کی جہازی سائزجیبوںسے پٹرول بلیک مارکیٹ کی کمائی کے روپیے چَھن چھنا چَھن کر کے عوام کے درمیان گریں گے‘ لیکن مجھے یقین تھاکہ ہمارے جمہوری وزیرِ اعظم اپنے تیسرے کاروباری دور میں پرانے کاروباری ساتھیوں کو بالکل نہیں چھوڑیں گے۔ آخر تجربہ بھی کوئی چیز ہوتی ہے؟ آپ نے دیکھا‘ وزیرِ اعظم نے ثابت کیا کہ وہ پٹرول بحران کے ذمہ دارچارکے ٹولے والے وزیروں کو بالکل بھی نہیں چھوڑیں گے بلکہ ہمیشہ انہیں سینے سے لگا کر رکھیں گے۔ دل اور اس کے اوپر والی پاکٹ کے عین قریب۔پانچواں مؤقف اس تحقیقاتی کمیٹی کا سامنے آیاہے جو خود نواز شریف نے بنائی تھی۔ تحقیقاتی کمیٹی نے چار وزارتوں کو پٹرول کی لوٹ مار کا ذمہ دار قرار دیا ۔ ان میں سے دو وزیرِ اعظم کے رشتہ دار ہیں اور دو تابعدار۔ اس لیے کمیٹی کی پذیرائی ویسی ہی ہوئی ہے‘ جیسے اس طرح کے منہ والی کمیٹی مسور کی دال کھا کر آئی ہو۔ اس لیے رپورٹ پبلک ہوئے آج چوتھا دن ہے اور وزیرِ اعظم زبانِ حال سے کہہ رہے ہیں‘ یہ منہ اور مسور کی دال؟؟ چھٹا مؤقف پاکستان کے لوگوں کا ہے ۔ پٹرول بحران پر اس مؤقف کو اردو یا انگریزی میں نہیں لکھا جاسکتا۔ یہ مؤقف پوٹھوہار میں پوٹھوہاری زبان میں‘ سنٹرل پنجاب میں لاہوری لہجے میں اور سرائیکی وسیب کے اندر خالص روہی کی لہروں کے انداز میں بیان ہوا ہے۔ اس لیے میں عوامی مؤقف کا اردو زبان میں ترجمہ کرنے سے قاصر ہوں۔ مجھے یقین ہے‘ اگر امام دین گجراتی آج زندہ ہوتے تو وہ بھی لوگوں کا یہ مؤقف لکھتے ہوئے ہزار بار سوچتے۔
اب آپ سے درخواست ہے کہ آپ سردار جی والے لطیفے کو یہاں مت جوڑئیے گا۔ سردار صاحب ایسٹ لندن میں انگریز کے ساتھ دس منٹ لڑائی کرتے رہے ۔ جب سردار جی کا حوصلہ اور انگریزی کی ڈکشنری بس کر گئی تو ان کے اندر کا پنجابی جاگ اُٹھا۔سردار جی نے انگریزی بولنا بند کی اور (Moreover) کہہ کر مادری زبان میں شروع ہو گئے۔ جس ملک میں کابینہ کے ارکان ایشیاء کی تاریخ کے سب سے بڑے پٹرول بحران پر رنگیلا اور منور ظریف کی جوڑی والی کامیڈی کریں اسے کیا کہا جائے گا؟ تیل کی سپلائی کا بریک ڈائون یا اس ناکام، بے رحم اور عوام دشمن نظام کا بریک ڈائون جسے سارے تاجر اپنے اپنے سودے کے وقت جمہوریت کہتے ہیں...؟
اب آئیے ذرا دیکھ لیں بجلی کے بریک ڈائون پر حکمرانی کے مسخرہ پن نے کس کس حد کو کراس کیا؟ نمبر ایک: وزارتِ نہ بجلی نہ پانی کے انچارج نے کہا کہ بجلی کابریک ڈاؤن نہیں ہوا‘ دہشت گردی کی واردات ہوگئی۔ دہشتگردی بلوچستان کے جس علاقے میں ہوئی وہاں سے ایٹم بم مارے بغیر پاکستان میں بجلی کے نظام کے نیشنل ٹرانسمشن گرِڈ کی تنصیبات کسی بھی دوسرے طریقے سے ناکارہ نہیں بنا ئی جا سکتیں۔ اب یہ بات تو دہشت گردی کا دعویٰ کرنے والا وزیر ہی بتائے گا کہ اس سہ روزہ بجلی بریک ڈائون میں خاندانی کمپنی بہادر کے نااہلی بم کے علاوہ اور کیا استعمال ہوا؟ نااہل نظام کی نا اہل ترین اپوزیشن نے جس تابعداری کا مسلسل ثبوت دیا اس پر لکھنے کے لیے میر جعفر کا قلم اور میر صادق کی سیاہی درکار ہوگی۔ اگر سیاہی بچ گئی تو تاریخ اُسے پیپے میں ڈال کر اس نظام کے چہرے پر ملے گی۔ وہ نظام‘ جس میں عوام کے حق کے علاوہ ہر بات کی جاتی ہے۔