بلا مقابلہ

مقدمے سے پہلا انصاف وکیل کرتا ہے۔ وکیل سے کوئی کسر رہ جائے تو پھر عدالت کے کئی فورم ہیں۔۔۔۔۔ اپیل ، نگرانی، نظر ثانی وغیرہ ۔ لیکن وکالتی اور عدالتی انصاف میں بنیادی فرق ہے۔ اگرچہ قانون کی زبان میں دونوںکو ایک ہی گاڑی کے پہیے قرار دیا گیا ہے، لیکن جن لوگوں نے ٹر یکٹر دیکھا ہوا ہے انہیں معلوم ہے اس کے اگلے اور پچھلے پہیے ویسے ہی ہیں جیسے ترقی پذیر ممالک اور سُپر پاور۔ پاکستان کا حکمران اور غریب عوام دوسری مثال ہے۔ ایک زمین میں گڑا ہوا، خاک میں اَٹا ہوا، مٹی میں ملا ہوا، اُجڑا ہوا، پِسا ہوا بلکہ مَسلا ہوا اور رگڑا ہوا ؛ جبکہ دوسرا کلف زدہ ، تنا ہوا اوراکڑا ہوا، جیسے وہ غریبوں کی طرح گوشت پوست اور ہڈیوں سے نہیں بنا بلکہ جنگلے اور سریے اس کے وجود کے اظہار کا ذریعہ ہیں۔
کہتے ہیں، ڈاکٹرکا مارا ہوا سات فُٹ نیچے جاتا ہے۔ وکیل سات فُٹ اوپر بھیجنے والی صلاحیت سے مالا مال ہے، اس لیے حکومت نے جو مقدمہ ہارنا ہو، اس میں ایسے ہی با صلاحیت و کیل کھڑے کیے جاتے ہیں تا کہ مقدمے کی ناکامی کا مُدّعا سرکارکی بجائے عدلیہ کے گلے میں ڈالا جائے۔ پولیس کے شیر جوان نظامِ انصاف کا تیسرا حصّہ ہیں۔۔۔۔ایف آئی آر ، انکوائری ، تفتیش اور مقدمے کا چالان یا اس کی بربادی خالصتاً پولیس کے ہاتھ میںہے۔ ساتھ ساتھ ایک عدد ہتھکڑی اور دوسری بندوق بھی۔ ملزم کو ہتھکڑی لگا کر بندوق کے ذریعے انصاف''سپیڈی ٹرائل‘‘ کا سب سے موثرذریعہ ہے۔ پچھلے دنوں ایک ٹی وی فوٹیج میں سنٹرل پنجاب کا پولیس مقابلہ دکھایاگیا۔کیمرہ مین کو سلام جس نے پولیس کے ڈالے میں سیٹوںکے عین درمیان ملزموں کی لاشیں دکھادیں جن کے ہاتھوں میں ہتھ کڑیاں تھیں۔ میں یہ نہیں کہتا یہ پولیس مقابلہ فرضی ڈرامہ اور جعلی کارروائی تھی، لیکن پنجاب پولیس کس قدر خوش قسمت ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے آنے والے ملزم اپنے گھر سے ہاتھوں میں ہتھ کڑیاں پہن کر مقتل کی طرف دوڑتے ہیں۔
میرے پاس اختلافی نوٹ کے حوالے سے ایک نہایت نادر و نایاب ویڈیو آئی جس کا تعلق ایک ایسے پولیس مقابلے سے ہے جس میں حجامت بنانے والے ایک نائی کو پارکر دیا گیا۔ ویسے توکسی بھی پیشے کو کمزور نہیں کہا جا سکتا، خاص طور پروہ پیشہ جس کے پاس تیز دھار والا اُسترا اور نوکیلی قینچی بھی ہو۔ پنجاب کی لوک داستان کہتی ہے بابائے بھتہ خوری ''جگّا‘‘ نائیوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ پولیس اس جگّے کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکی۔ بات ہو رہی تھی ویڈیو کی، یہ ویڈیو لاہور میں مارے جانے والے بچے معین کی ہے۔ بچے کی لاش ویڈیو میں ایک عبادت گاہ کے اندر دکھائی گئی جہاں اسے رسی سے کراس کی شکل میں پھانسی پرلٹکایاگیا۔ بچہ چھوٹا مگر خاصاصحت مند تھا،اس لیے قتل کے کرائم سین پراکیلا آدمی دونوں طرف 20,20 فٹ کے فاصلے پر رَسے باندھ کراسے کسی طریقے سے بھی نہیں لٹکا سکا ۔ لاہور کے ایک انتہائی قابل تفتیشی افسر کے پاس معلومات بھی تھیں، لیکن ایک دن پتا چلا کہ مشتبہ حجام پولیس سے لڑتا ہوا ریمبو بن گیا۔ اس نے مسلح سپاہی سے بندوق چھینی، پھر گولیوں سے بھری ہوئی بندوق لے کر اپنی پشت بندوق بردار پولیس والوں کی طر ف کر دی۔ نہ کوئی فائرکیا نہ کسی کو زخمی کیا۔ وہ مشتبہ بھاگتے ہوئے مارا گیا ۔ معصوم بچے معین کی موت کے ساتھ ہی اس کے قتل کا مقدمہ بھی قبر میں چلاگیا۔
سندھ پولیس بھی کسی سے پیچھے نہیں ۔ مہران کی کہانی سننے سے پہلے یہ جان لیں کہ پلڈاٹ نامی این جی او نے پنجاب اور دوسرے علاقوں میں پولیس مقابلوں کے ذریعے قتل کے بڑھتے واقعات پرتشویش کا اظہارکیا؛ بلکہ ان کی تحقیقات کا مطالبہ بھی۔ پلڈاٹ والے محبوب صاحب بھی عوام کے محبوب حکمرانوں کی طرح کیا سادہ ہیں۔ وہ جس کے ہاتھوں مریض ہوئے ، عطّار کے اسی لونڈے سے اپنا علاج چاہتے ہیں۔ ابھی کل ہی کی تو بات ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کی پہلی اور دوسری قسط میںجوملزمان ٹی وی چینلوں کے کیمرہ مینوں نے ویڈیو پر پکڑ لیے،انہیں شیروںکی پسندیدہ پولیس نے چیتے کی آنکھ سے دیکھا تک نہیں۔ پھر اسلام آباد پولیس کے ہاتھوں شاہراہِ دستور پر مارے گئے، مظلوم شہریوںکاکوئی حساب نہیں ہوا۔ فیصل آباد سانحہ کے مقدمے کا حشر آپ کے سامنے ہے۔
میں یہ تو نہیں کہہ سکتا موجودہ فیملی راج فرنگی دور سے بھی بدتر ہے، لیکن اس کا کیا علاج کریںکہ ہماری ہر ماورائے عدالت، ماورائے قانون اور ماورائے آئین واردات کے بعد باوردی ملزمان دنیاوی انصاف سے صاف بچ جاتے ہیں۔ تاجِ برطانیہ نے جلیانوالہ قتلِ عام کی باقاعدہ تفتیش کی؛ بلکہ جلیانو الہ آپریشن کمانڈرکوکٹہرے میں لاکھڑاکیا ۔اس قتلِ عام کے بڑے ملزم جنرل ڈائرکے حوالے سے برصغیرکے غلام لوگ بھی انصاف سے مطمئن نہ ہوئے۔ پھر اُودھم سنگھ کھڑا ہوا، لندن پہنچا اور جلیا نوالہ باغ میں بربریت کا شکار ہونے والے مسلمانوں ، سکھوں اور ہندوؤں کے قاتل کواپنے ہاتھوں سے سزائے موت دے ڈالی۔ وہی اُودھم سنگھ جس نے قتل ٹرائل میں اپنا نام رام محمد سنگھ لکھوایا تھا۔
سندھ میں ہر ہفتے ایک ہی پولیس ٹیم ایک ہی طرح کا دعویٰ کرتی ہے۔ دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے والے ملزمان پر چھاپہ مارا اور وہ پولیس مقابلے میں مارے گئے۔ ہر دفعہ پولیس مقابلہ کرنے والے ہیرومعجزانہ طور پرگولیوں سے بچ جاتے ہیں؛ بلکہ انہیں خراش تک نہیں آتی ۔ ہر مقابلے میں پانچ سات لڑکے پار، ہر مقابلے میں بہادری کا سرٹیفیکیٹ بھی جاری ہوتا ہے۔
میںپچھلے دنوں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصر الملک کے بنچ میں پشاور کے ایک مقدمے میں پیش ہوا۔ باہر نکلتے وقت تخت لاہورکے پسندیدہ آئی جی پولیس کے ساتھ افسروں کا لشکر نظر آیا۔ لندن میں پولیس کے سب سے بڑے افسرکو چیف کانسٹیبل کہتے ہیں ۔ آئی جی پنجاب کا لشکری پروٹوکول دیکھ کر یوں لگا جیسے وائسرائے مفتوحہ علاقے کے دورے پر آیا ہوا ہے ۔ آئی جی عدالت میں پیش ہونے کے لیے آئے تواس کے ساتھ ایک سٹاف افسر اور ایک متعلقہ تفتیشی کافی ہوتا ہے۔
جس ملک کے'' پبلک سرونٹ‘‘ عوام کے تنخواہ دار نوکر نہ ہوں، وہاں پبلک کو سرونٹ بنانے والے افسر ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولزکی خلاف ورزی پرگھر بھجوائے جانے چاہئیں۔ قانون کا تقاضا یہی ہے اور ای این ڈی رولزکا منشا بھی، لیکن سروس آف پاکستان کی تعیناتیاں سفارشی نہیں بلکہ پسندنا پسند پر ہو رہی ہیں، خاص طور پر پنجاب میں ۔ فیملی راج کے قریب سمجھا جانے والا ڈی ایم جی وزیراعظم ہاؤس سے بطور سیکرٹری سروسز پنجاب گیا۔ خادمِ اعظم نے اسے اپنی مرضی کا چیف سیکرٹری تعینات کر کے نوٹیفکیشن بھجوایا، خادمِ اعلیٰ نے خادمِ اعظم کے حکم پر عملدرآمد کو جرم قرار دے دیا۔ بے چارہ افسر سیکرٹری سروسز کے عہدے سے ہٹایا گیا، آج کل وہ اوایس ڈی ہے۔ ہاتھ پاؤں مار رہا ہے کسی طرح بچ کر اسلام آباد واپس چلا جائے۔
اس ملک کے عوام پر اللہ رحم کرے جن کے ملازم اور ان کے ٹیکس پر پلنے والے ''پبلک سرونٹ‘‘ شاہی دربان بن چکے ہیں۔ جعلی پولیس مقابلے کرنے والے شیر ، جب بھی اصلی مقابلہ ہوتا ہے ، کہیں نظر نہیں آتے۔اس دن غریب کانسٹیبل اپنی چھاتیاں پیش کرتے ہیں۔ جعلی پولیس مقابلوںکے ماہر موج لگا رہے ہیں۔ دوسری جانب اے ایس آئی ارشد تنولی شہیدکے بوڑھے ماں باپ سڑکوں پر دھرنے دے رہے ہیں۔ تاجرانہ قیادت اور اس کے درباری کسی جنگ کے کمانڈرانچیف توکیا، لانگری بھی نہیں بن سکتے۔ لشکرکا لنگر میدانِ جنگ میں پکتا ہے،ایوانِ اقتدار میں نہیں۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں