تاریخ اور فکشن دونوں کہتے ہیں ٹروجن کی جنگ دنیا کی طویل تر ین لڑائی تھی۔ جو پورے ایک ہزار سال تک لڑی گئی۔ اسی لیے اپنے موقف پر ڈٹ جانے والے ایک ہی محاورہ بولتے ہیں کہ ہم ہزار سال تک لڑیں گے۔ قائدِ عوام شہید نے بھی کشمیر کی آزادی بارے اپنا استقلال انہی لفظوں میں بیان کیا ۔
ہیلن آف ٹرائے شہر ئہ آفاق ناول تھا جسے ہالی وڈ نے شاندار طریقے سے فلمایا۔ ہیلن پَریوں جیسی شہزادی تھی جس پر سمندر پار شہزادہ قربان ہوا اور دو سلطنتیں دس سو سال تک ہیلن کی خوبصورتی کی قیمت ادا کرتی رہیں۔ ٹروجن وار کے بعد نپولین کی جنگوں سمیت دوعدد عالمی لڑائیاں مشہور ہیں ۔مگر جس جنگ میں پاکستان پھنس گیا ہے وہ دنیا کی طویل ترین لڑائیوں میں سے ایک ہے۔ 1979ء تا2015ء سب آپ کے سامنے ہے۔
اس جنگ کے سیاسی سالار کہاں سے سوچتے ہیں اس کا اظہار پچھلے ہفتے قوم نے تب دیکھا جب وزیرِ اعظم کو شہرِ کراچی کی کاروباری تنظیموں نے آٹھ ہانڈیوں والا لنچ پیش کیا۔ اسی روز شکار پور میں اکسٹھ شہری مارے گئے۔ وزیرِ اعظم نے کھانے کو نا پسندیدہ قرار دیتے ہوئے اسے ہلکا کھانا کہہ دیا۔ اسی سے آپ اندازہ لگائیں کہ آپ کے لیڈر آپ کے غم میں کیا کیا اور کتنا کتنا کھاتے ہیں۔ اس عظیم ''بَطنی اور شِکمی‘‘ جد و جہد پر قوم کو وزیرِ اعظم کا تا حیات شکر گزار رہنا ہو گا۔ ہلکا کھانے پر مجھے ایک کہانی یاد آ گئی۔ اعجاز بٹالوی ایڈووکیٹ صاحب نے سنائی تھی۔ بٹالوی صاحب، خواجہ سلطان ایڈووکیٹ صاحب اور اٹارنی جنرل آف پاکستان بیرسٹر شہزاد جہانگیر میرے دعاگو اور انتہائی شفیق تھے۔ اعجاز بٹالوی صاحب مرحوم اور ایس ۔ایم ظفر صاحب کے اصرار پر میں نے90 کے عشرے میں کالم نگاری شروع کی۔شہزاد جہانگیر شاعری کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔لاہور ہائی کورٹ کے پنڈی بنچ میں شام گئے تک ایک مقدمے میں بحث چلتی رہی۔ واپسی پر میں اور شہزاد جہانگیر اکٹھے باہر نکلے تو انہوں نے عدالت کے اندر ہونے والے واقعات پر کئی شعر سنائے۔ان میں سے دو تین آپ بھی سن لیں ۔وکیلوں پر جج صاحبان کی طرف سے متعلقہ اور غیر متعلقہ سوالات کی چاند ماری پر کہنے لگے۔
سامنے آتے ہیں پڑھ پڑھ کے دعائیں اکثر
ماننا پڑتی ہیں ناکردہ خطائیں اکثر
میں نے انہیں جونیئرز سمیت کھانے کی دعوت دی ۔انہوں نے میری دعوتِ عصرانہ کہہ کر قبول کی اور میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئے ۔مال روڈ صدر پہنچنے تک ان کے شعروں نے ساری تھکاوٹ دور کر دی ۔خاص طور پر یہ شعر؛۔
شہرِ آسیب میں، آنکھیں ہی نہیں ہیں کافی
اُلٹا لٹکو گے تو پھر، سیدھا دکھائی دے گا
یاں تو منصف بھی ہے قاتل، تُو عدالت میں نہ جا
چو ر تو چور ہی کو ، اِذنِ رسائی دے گا
اب آئیے اعجاز بٹالوی صاحب کے سنائے ہوئے واقعے کی طرف۔ان کے بقول شریف خاندان کے دوستوں کو جنرل مشرف اور نواز شریف کی دس سالہ ڈیل کا تقریباً تین دن پہلے پتہ لگ گیا تھا۔ایک بڑے اردو اخبار کے ایڈیٹر نے اعجاز بٹالوی صاحب سے درخواست کی کہ وہ اٹک قلعہ میں جائیں نواز شریف سے ملاقات کریں اور ان سے پوچھیں کہ کیا وہ جنرل مشرف سے ڈیل کر کے سعودی عرب جا رہے ہیں ؟لاہور سے بذریعہ کار چھ گھنٹے کا سفر کر کے اعجاز بٹالوی اٹک قلعہ پہنچے۔یہ سفر انہوں نے لاہور ہی کے ایک نوجوان وکیل کی گاڑی میں کیا۔نواز شریف اٹک قلعے کے اندر اپنے سیل میں‘ جو شاہی حمام کے اندر تھا‘ لنچ میں مصروف تھے۔اعجاز بٹالوی صاحب کو ان کے پاس اس وقت پہنچایا گیا جب وہ تَوے پر دریائے کابل کی مچھلی تَل رہے تھے۔اعجاز بٹالوی نے ہاتھ ملاتے ہی سوال داغ دیا۔ جواب مِلا فرمائیں آپ تَوا مچھلی کھائیں گے یا گُلگلے...؟ پھر اس کہانی کا اختتام جدّہ کے سرُور پیلس میں ہوا۔ اُن دنوں اٹک قلعہ کے اندرایک ہی لمبی چوڑی فوجی بیرک میں بنائی گئی دو عدد عدالتیں چل رہی تھیں۔ایک میں نواز شریف کاٹرائل ہورہا تھا دوسری میں اعظم ہوتی،آصف زرداری،احمد ریاض شیخ وغیرہ کے مقدمات میںوکیل صفائی کی حیثیت سے میں پیروی کر رہا تھا۔قلعے میں ایک انتہائی چھوٹا کمرہ اور انتہائی بڑا دالان گپ شپ کے لیے موجود تھے۔جہاں وکلاء ایک دوسرے سے ''اندر کی جھلکیاں‘‘ شیئر کرتے رہتے ۔
ہلکے اور بھاری کھانے کے موضوع پر پنجابی کے ایک شاعر نے کمال کر دیا۔بندہ اور آقا، مالک اور مزدور کے کھانے میں تفریق اور امتیاز پر اس سے اچھا کوئی تبصرہ مجھے یاد نہیں۔شاعر نے کہا؛۔
ہِکناں نُوں تُوں اَیناں دِیویں
بَس بَس، کَرن زُبانوں
ہِکناں نُوں تُوں کُجھ نہ دیویں
اَیویں اِی جَان جہانُوں
ترجمہ(کچھ پر تُو اس طرح رزق برساتا ہے کہ وہ اسے کھاتے وقت بَس کرو بَس کرو کہہ اٹھتے ہیں۔اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کو ایک نوالہ بھی نہیں ملتا اور وہ اسی طرح اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔)
وزارتِ خالی خزانہ کے انچارج سمدھی صاحب کہتے ہیں پاکستان کی 52فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے ۔جس کا سادہ مطلب یہ ہوا کہ 100میں سے 52فیصد لوگوں کو دو وقت کھانے کے لیے سوکھی روٹی بھی نہیں ملتی۔میرا موقف یہ ہے پاکستان میں 60فیصد لوگ غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔اس وقت پاکستان کے لوگوں کے لیے اہم ترین سوال یہ ہے کہ اقتصادی چوروں، سرمایہ دار ڈاکوؤں اور ان کے چور بازار چمچوں اور کڑ چھوں کا تخفظ کرنے والا یہ نظام‘ جمہوریت ہے...؟ اور اگر ہم اس نظام کو جمہوریت کہیں تو کیا اس نظام میں غربت کا جنازہ نکلے گا یا عوام جیتے جی زندہ درگور ہو جائیں گے؟
ہلکا کھانا کھانے والے تاجر ان کی معاشی پالیسیاں اس کا کھلا جواب دیتی ہیں ۔جواب یہ ہے۔
(1) سٹیٹ بنک کے قائم مقام گورنر نے اعتراف کیا ہے پاکستان کی معیشت میں جعلی کرنسی نوٹ گردش کر رہے ہیں ۔جس کا مطلب یہ کہ حکومتِ پاکستان آپ کو یہ ضمانت نہیں دے سکتی ، جو نوٹ آپ اصلی سمجھ کر بنک ،دکان یا تاجر سے لے رہے ہیں وہ کرنسی نوٹ ہے یا ردّی کا ٹکڑا۔
(2) پاکستان میں بالغ شہریوں کی اکثریت کے پاس شناختی کارڈ ہیں ۔جن میں یتیم ،بیوہ ،معذور ،پنشنر،بے روزگار بھی شامل ہیں ۔حکومت نے ان محروم اور بے بس طبقات کے گلے میں ٹیکس کا رَسہ ڈالنے کے لیے فیصلہ کر لیا ہے ۔ آج سے ساڑھے چار ماہ بعد جس کے پاس قومی شناختی کارڈ ہو گا اس کے نام انکم ٹیکس کا نوٹس آئے گا۔یہ پالیسی فیصلہ ایف بی آر کی فائلوں میں فائنل ہو چکا ۔
(3)تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق بجٹ میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے جو مونگ پھلی کا دانہ نما رقم رکھی گئی تھی۔ اس میں سے مریضوں، اساتذہ، طالب علموںاور ڈاکٹروں پر پچھلے 5 سالوں میں صرف9فیصد رقم خرچ کی گئی۔ باقی پیسہ ہضم،کھیل ختم ؎
مصلحت اندیش لوگوں کا سیاسی قافلہ
صورتِ حالات سے پیچھا چھڑا سکتا نہیں
اک عمارت گِر رہی ہے گردشِ ا یاّم سے
شہر یاروں میں کوئی اس کو بچا سکتا نہیں
بندہِ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں ہو یا محفلِ طرب و چنگ کے درمیان۔ وہ ہلکا کھانا ہی کھائے گا۔خواہ وہ ترکی میں کھائے، سعودی عرب میں‘ چین یا برطانیہ میں۔ بہرحال اس کھانے کا بِل انشاء اللہ آپ ہی دیں گے۔ اس لیے کہ آپ کا شناختی کارڈ بن چکا ہے۔