سپاٹ فِکسنگ

وزیراعظم نواز شریف کی پریشانی درست‘ لیکن سب سے بڑا سوال اپنی جگہ جواب کے انتظار میں کھڑا ہے‘ وہ یہ کہ بڑا اور مہاسپاٹ فکسر کون ہے؟ 
اگلے دن اسلام آباد ہائی کورٹ بار میں سپاٹ فِکسنگ موضوع تھا۔مجتبیٰ شیرازی ایڈووکیٹ کے ساتھ ساتھ حافظ ثناء اللہ زاہد کے انکشافات بازی لے گئے۔مجتبیٰ شیرازی شاعر اور وکیل ہونے کے درمیان آوارہ گردی کرتا رہتا ہے۔اس کے ساتھ میری محبت کی یہی دو وجوہ ففٹی ،ففٹی ہیں۔مجتبیٰ شیرازی نے ایک بڑے آئینی عہدے پر فائز پوٹھوہار کے ایک وکیل کی ''ہڈ بیتی‘‘ سنائی‘ جس نے اپنے گاؤں میں عزیزوں اور پڑوسیوں کے جوا کھیلنے پر پابندی لگا دی۔اگلے دن اس نے دیکھا کہ اسلام آباد سے مری جانے والی سڑک کے دونوں طرف جواری نکّمے بیٹھے ہیں۔پھر وہ کئی دن تک ہر روز یہی منظر دیکھتا چلا گیا۔ حیران تھا کہ یہ جواری اتنے دنوں سے بیروزگار مگر خاموش کیسے بیٹھے ہوئے ہیں۔جواریوں کے ایک راز دان نے اُسے بتایا کہ یہ کشمیر اور مری سے آنے والی بسوں کے نمبروں کی سپاٹ فِکسنگ کرتے ہیں کہ اگلی بس کے نمبر میں 9آیا تو دائیںسڑک والے جیت گئے اور اگر7 کا ہندسہ آیا تو بائیں والے بازی لے گئے۔
حافظ ثناء اللہ زاہد حلیے میں مولوی مگر دبنگ آدمی ہے۔اس نے بتایا پنڈی شہر اور کینٹ کو جُدا کرنے والا ریلوے پُل مریڑ حسن بھی سپاٹ فکسنگ کا عوامی اڈہ ہے۔جہاں بیٹھے جواری اس بات پر جوا لگاتے ہیں کہ کونسی ٹرین کتنی لیٹ آئے گی۔ 
کرکٹ نے تو اس دفعہ جوا بازی کے اشتہارتک چلوا دیئے۔ مختلف ٹی وی چینلز کے رپورٹرز یہ ثابت کرنے کے لیے کہ کرکٹ بُکی کی دنیا تک ان کی رسائی کس قدر گہری ہے سارا دن مختلف بُکیوں کے ریٹس اور ان کے کاروباری حوالے اور نام تک کی مشہوری کرتے پائے گئے۔جواری شکر کریں کہ کسی صوبائی یا مرکزی حکومت کے لیڈر نے ان کی سپاٹ فکسنگ کا نوٹس نہیں لیا ورنہ پولیس کے اپنے ہاتھوں ان کے کئی پیٹی بھائی اور ہانڈی وال پکڑے جاتے‘ جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ریونیو عرف نقد مال کا شارٹ فال مزید بڑھ جاتا۔یہ باتیں تو ویسے ہی بر سبیلِ تذکرہ ہوگئیں ۔اب آئیے ''اصلی تے وڈّی‘‘ جمہوریت کے بلا مقابلہ سربراہ وزیراعظم کی پریشانی کی طرف‘ جس کی تفصیل وزیراعظم نواز شریف کے سرکاری بیان کے کئی حصوں سے سمجھی جا سکتی ہے۔
پہلا حصہ یہ کہ میڈیا دو سال کے لیے حکومت کا ساتھ دے۔وزیراعظم کی خواہش بُری نہیں‘ لیکن وہ یہ بتانا بھول گئے کہ میڈیا کا ساتھ کِس کام کے لیے مانگ رہے ہیں؟صرف ایک میڈیانہیں بلکہ پوری قوم کو یاد ہے کہ جب وہ پچھلے دورِ اپوزیشن اور الیکشن مہم میں بڑے فخر سے یہ کہتے تھے کہ میرے پاس تربیت یافتہ ٹیم ہے۔پچھلے دو سال میں اس تربیت یافتہ ٹیم نے ہر میدان میں کمال کر دکھایا۔اتنی شاندار مہارت رکھنے والی ٹیم کی موجودگی میں وزیراعظم کو یہ ضرور بتانا پڑے گا کہ میڈیا دن رات ان کی تقریریں اور تصویریں چلانے کے علاوہ ان کی کیا خدمت کرے؟
وزیرِاعظم کا دوسرا نادر شاہی مطالبہ یہ تھا کہ میڈیا مقابلے کی دوڑ سے باہرنکل جائے۔ الیکٹرانک میڈیا میں اس مقابلے کو ریٹنگ کہتے ہیں ۔مجھے ان سے پورا اتفاق ہے۔ جس ملک میں ایک گروپ کا بینکوں پر قبضہ‘ بجلی پیدا کرنے والے آئی پی پیز پر قبضہ‘ شوگر ملّوں پر قبضہ‘ مرغی اور انڈے کی صنعت پر قبضہ‘ دودھ اور دہی کا شعبہ بلا مقابلہ‘ سیمنٹ، سریا اور جنگلہ پر قبضہ‘ سرکاری زمینوں پر قبضہ‘ قومی وسائل پر قبضہ‘ آلو اور دھنیا پر قبضہ مکمل ہو چکا ہے‘ وہاں میڈیا کے درمیان مقابلہ اور مقابلہ بھی پہلے خبر پہنچانے کا‘ ہے ناں سرکاری ٹی وی سے زیادتی؟ سرکاری دانشوروں نے اسلامی اور جمہوری وزیرِاعظم کو بالکل صحیح لائن پر لگایا ہے۔ انہی مشیروں نے ن لیگ کو بحران لیگ کا ٹائٹل دلوایا اور وزیرِ اعظم کو پرویز مشرف سے بدلہ لینے کی راہ دکھائی۔ اب سرکاری دانشوروں کے اس دستر خوانی گروہ کے سامنے جب بھی جنرل (ر) مشرف کا نام آتا ہے ان کی حالت پانچ سو اجتماعی شادیوں میں بیٹھی دلہن جیسی ہو جاتی ہے‘ جسے گھونگھٹ نکالنے کے بعد جلسۂ عام میں بیٹھ کر شرمانا پڑتا ہے۔
تیسرے یہ کہ نواز شریف چاہتے ہیں کہ ملک تجزیہ نگاروں اور تبصرہ کاروں سے خالی ہو جائے۔ وزیرِاعظم کی یہ خواہش بھی بڑی جائز ہے۔ میں نے اپنے دورِ حکومت میں اسلام آباد کے ماڈرن ریسٹورنٹ، فیشن گھر ،پارلر اور پراپرٹی کے دفتر چلانے والوں کی طرف سے ایٹمی ریاست کی'' فیصلہ بازی‘‘ پر زبانی اور تحریری احتجاج کیے ۔ پھر تحریرو تقریر کے ذریعے قوم کو بتایا کہ اسلام آبادوا لے اقتدار کے 2 کان ہیں ۔پہلا شاہی کان صرف خوشامد سنتا ہے جبکہ دوسرا چغلیوں کی سماعت کے لیے مخصوص ہے۔تبصرہ نگاروں اور تجزیہ کاروں کو وزیرِاعظم کا مشورہ مان لینا چاہیے۔ وہ دل کھول کر لکھیں مگرقصیدے اور درباری راگ۔ پچھلے دوسال میں غریب ختم ہو چکے ہیں۔ بیروزگاری نام کی نہیں۔ کشکول ٹوٹ چکا ۔ یوتھ پر نوٹ اورنوکری کی بھرمار ہے۔ بچے محفوظ۔ عورتوں کی طرف کوئی میلی نگاہ نہیں کر سکتا ۔قومی غیرت چھا گئی ،قرضے ختم۔ ہر طر ف میرٹ اور اہلیت کا بول بالا ہے۔ کچھ نادان لوگ اس بارے میں اختلافی نوٹ رکھتے ہیں۔
میں حکومت کے پے در پے احسانات‘ مفت بجلی اور گیس کی فراہمی پر اپنی قوم کی طرف سے سرکار کی شان میں شورش کاشمیری کا یہ قصیدہ پیش کرتا ہوں: 
خطیبِ خود فروش کی زباں میں دندنائے جا
خدا کے گھر میں تیغِ بے نیام آزمائے جا
نکال کوئی اُسترا زبانِ ذکر و وعظ سے
فریب خوردہ قوم کی حجامتیں بنائے جا
حنائی ریش سیــ ''زلیخا زادیاں‘‘ شکار کر
کلاہِ طرّہ دار سے کرامتیں دکھائے جا
مریدِ حال مست سے فقیہہ مال مست تک
سبھی ترے چراغ ہیں بجھائے جا‘ جلائے جا
حدیثِ زلفِ یار کیا‘ نوائے دل فگار کیا؟
لُٹی پٹی کہانیاں عوام کو سنائے جا
بڑی عجیب قوم ہے بڑی غریب قوم ہے 
اُسی کی جیب کاٹ کر صنم کدے بسائے جا
سمن بَروں کے ساتھ ربطِ خاص کی اساس پر
لگائے جا‘ بجھائے جا‘ بجھائے جا‘ لگائے جا
وزیرِ اعظم آج کل کمال کر رہے ہیں۔ ایک کمال انہوں نے کراچی میں کیا‘ مگر وہ تھا دو سال پرانے بلدیہ قتلِ عام کی نئی تفتیش والا۔ لیکن کراچی میں سرکار کی ہتھیلی پر سرسوں نکل آئی۔ ساتھ ساتھ سند ھ کا وہ وزیر جس نے کسی کی لکھی ہوئی چِٹ پڑھی تھی‘ وہ ابھی تک سرسوں سرسوں یعنی پیلا زرد ہے۔ اس موقع پر جنرل راحیل شریف نے تھوڑا کہا لیکن درست کہا اور مضبوطی سے۔ جنرل راحیل کی کوئٹہ میں باڈی لینگویج سپاٹ لائٹ میں آئی ہے۔ اگر آپ نے اسے ٹی وی پر نہیں دیکھا تو انٹر نیٹ پر ضرور دیکھ لیں ۔ ہمارے جو قائد ین ہر سپاٹ فِکس کر کے کھیلنے کے عادی ہیں وہ قومی ایکشن پلان کو مفاہمتی سیاسی محفلوں میں فوجی ایکشن پلان کہہ رہے ہیں۔ ان کی ہر گفتگو اور محفل کا اختتام ایک ہی جملے پر ہوتا ہے۔ جملہ یہ ہے؛
''قومی حکومت ، اچھا قومی حکومت مگر کیوں...؟‘‘ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں