سماج،نظام اور سٹرکچر اگر ڈوب رہے ہوں تو ہم کیا کہیں۔ ملک تیرنے جارہا ہے یا سب کچھ ڈبونے کے لیے یہ اشارے (Indicators)کافی ہیں؟
ہمارا ریاستی ڈھانچہ کسی بھی منظم ملک کی طرح چار ٹانگوں پر کھڑا ہے۔یہ ٹانگیںمضبوط ہیں یا لڑکھڑا رہی ہیں‘ اس سوال سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ایسے معجزے آپ گلی محلوں میں روز دیکھتے ہیں۔ جن میں فالج کا مارا ہوا مریض، لڑکھڑاتی زبان، بے حِس بازو اور کانپتی ٹانگ والے مرحلے سے نکل کر پھر نارمل ہوجاتا ہے۔قوموں کی زندگی میں ایسے معجزے برپا کرناذاتی بیماریوں سے بھی زیادہ ضروری ہے۔لیکن شروع کہاں سے کیا جائے؟ مرض کی تشخیص؟... بیماری کے علاج سے؟... یا خرابی کے انکار سے؟ آج ہم جس چوراہے یا چھ راہے پر کھڑے ہیں اُسے انگریزی میں ''کراس روڈز‘‘ کہتے ہیں۔کوئی ادارہ،کوئی گروہ، کوئی حکمران ،کوئی بیوروکریٹ،کوئی منصف ،کوئی پراسیکیوٹر ،کوئی قانون کا رکھوالایا ادارے کا سربراہ یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں کہ کہیں کوئی خرابی بھی ہے۔
ملکی نظام کی پہلی ٹانگ سروس آف پاکستان( بیوروکریسی)، صوبائی سروس،پولیس سروس،سرکاری اور نیم سرکاری محکمے ہیں۔ جو 100فیصد قوم کے خرچے پر پلتے ہیں۔ اس کے ملازمین بطورِ رنگروٹ بھرتی ہونے کے دن سے ریٹائرمنٹ بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ساری زندگی پینشن ،میڈیکل اور دیگر مراعات کی صورت میں قوم کے ٹیکس پر ہی چلتے ہیں۔
ملک کی اس پہلی ٹانگ کا ''کِلّہ‘‘ خاصا مضبوط ہے۔نوکری کے دوران ان کی خدمت میں ہاؤسنگ کے ا دارے پلاٹ لے کر دست بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ یہ نوکری سے فارغ ہوتے ہیں لیکن پلاٹوں سے نہیں۔ان کے لیے کالونیاں ، بنے بنائے تیار فلیٹ ایسے ہی ہیں جیسے کوئی کہے کہ مرغِ مُسلّم چھوڑ کر ذرا مسور کی دال چکھ لیں۔
اگر آپ پاکستان کی تین سطح پر عدالتی کارروائیوں کا ڈیٹا نکالیں توسرکار کے ملازموں کی آپس کی لڑائیاں ،مفادات اور مراعات کے جھگڑے‘ اور مزید کے بعد ''کچھ اور زیادہ مزید‘‘ کی خواہش کی ہوش اُڑا دینے والی داستانیں ملیں گی۔آئینی عدالتیں ،نوکریوں کے ٹربیونل یعنی سروس ٹربیونلز تو بنے ہی ان کے مسائل کے لیے ہیں۔اس کیٹیگری کے سرکاری خادموں کی تربیت میں صرف ایک کمی چھوڑ دی جاتی ہے ۔وہ ہے عام آدمی سے تمیز کا مظاہرہ کرنا۔ یا اپنے ٹیکس میں سے تنخواہ دینے والے عوام کے مسائل کو حل کرنا۔
آئیے آپ سے ایک آپ بیتی واردات شیئر کروں۔جن دنوں میں نیا نیا وفاقی وزیر بنا‘ ایک بیوروکریٹ مجھے یہ یقین دلانے لگا کہ وہ میرا ماں جایا اور خالہ زاد کے درمیانی رشتوں سے بھی زیادہ میٹھا ہے۔سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کی حیثیت سے جرح کرنا میرا پروفیشن ہے ۔میں نے دو تین سوالوں میں اُسے گھیر لیا۔ بیوروکریٹ سے کہا‘ مجھے حلف دے کہ وہ جو کچھ کہے گا سچ کہے گا اور سچ کے علاوہ کچھ نہیں کہے گا۔پھر میں نے سوال کیا کہ آپ کو خوشامد کے علاوہ بھی کچھ آتا ہے ؟کیونکہ ابھی تک میں نے آپ کا ایک ہی فن دیکھا ہے۔ بڑا فرینک شخص تھا‘ مسکرایا اور کہنے لگا، سر مجھے تربیت ہی خوشامد کی دی جاتی ہے ۔اس کے علاوہ بھی کچھ سکھایا جائے تو وہ بھی ضرورکر لوں گا۔یہ حضرت آج کل ایسی جگہ تعینات ہیں جہاں انہیں سب کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے ۔خدا کرے انہیں سکھانے والے آخر میں یہ نہ کہیں کہ اس سیکھنے کے دوران جو کچھ ہوا اس کا ہمیں کوئی علم نہیں۔
بات ہو رہی تھی سروس سٹرکچر کی تباہی کی۔اس حکومت نے 2 سال میں سی ایس ایس افسروں سے گھریلو ملازموں جیسا سلوک روا رکھا۔ جسے یقین نہ آئے وہ ان بیچاروں کی تفصیل منگوا لے جن کو اٹھارویں گریڈ سے انیسویں گریڈ میں ترقی کے کورس کے لیے منتخب کیا گیا۔پھر دو دن پہلے انہیں بتایا گیا ''مِڈ کیڈر کورس‘‘ سے ان کے نام ڈراپ کر دیے گئے ہیں۔ آڈٹ اینڈاکاؤنٹس کے افسروں کی سینیارٹی اور براہِ راست سی ایس ایس والوں کی پروموشن کی تفصیلات ثابت کرتی ہیں‘ جیسے پاکستان کاسروس سٹرکچر گلو بٹ کا ڈنڈا ہے۔جب چاہا مارا،جب چاہا توڑ دیا۔
ریاستی ڈھانچے کی دوسری ٹانگ انصاف ہے۔انصاف کے ذکر پر مظلوم فریق رو تے ہیں‘ جبکہ سانحۂ ماڈل ٹاؤن،شاہراہِ دستور،فیصل آباد قتل ِعام ،بلدیہ ٹاؤن سمیت سارے ملزم ہم سب پر ہنس رہے ہیں کہ کیا یہ ہے تمہارا نظامِ انصاف؟ آگے جانے سے پہلے عشق بدوش کی سُن لیں۔حسن رضا نے اپنی تازہ کتاب دی جس میں سستے اور فوری انصاف کا نوحہ یوں رقم ہے:
ماضی بھی میرے ساتھ ہی لپٹا رہا، تو پھر؟
میں تیرا ہو کے بھی، نہ تِرا ہو سکا، تو پھر؟
سب جانتے ہیں کس طرح ٹوٹا ہُوں تیرے بعد
یہ سانحہ دوبارہ ہُوا رونما، تو پھر؟
خواہش تو ہے کہ ایک نیا بُت بناؤں میں
وہ بُت بھی ہُو بہو تیرے جیسا بنا، تو پھر؟
تم سے کہا تھا آنکھ میں رکھنا سنبھال کر
الماریوں سے خواب کوئی لے اُڑا، تو پھر؟
تم آگ لا رہے ہو، کہ کچھ روشنی کریں
اس کھیل میں تمہارا حَسَنْ جل مَرا، تو پھر؟
سپریم کورٹ نے تسلسل سے کہہ رکھا ہے کہ ہر مقدمے کا چالان 14دن میں عدالت کے اندر جائے۔ ہر ظلم کا ملزم جیل کے اندر۔ ضابطہ فوجداری اور عدالتیں دونوں کہتی ہیں کہ ٹرائل شروع ہونے کے بعد مقدمے کی دوبارہ تفتیش نہیں ہو سکتی۔لگتا ہے بلدیہ ٹاؤن میں 260گلی سڑی لاشوں سے کسی وی آئی پی کو خطرہ ہے ۔اسی لیے پنجاب سرکار کی طرح پہلی تفتیش پر ایک نئی تفتیش ہونے جا رہی ہے۔یہ ہولناک وارداتیں سارے ٹی وی چینلز پوری دنیا کو لائیو دکھاتے رہے۔اس قدر سستا انصاف اور اس قدر جلدی میں...؟اس ٹانگ پر فالج نہیں گینگرین کا حملہ ہے ۔میڈیکل کی زبان میں گینگرین کے حملے کا علاج مرہم پٹی سے نہیں ہوتا۔ ٹانگ پر آری چلا کر اُسے کاٹ دیا جاتا ہے۔
اب تیسری ٹانگ دیکھ لیں۔آپ اسے کینگرو کی دُم کہہ سکتے ہیںجسے بیچارہ کینگرو بوقت ضرورت ٹانگ کہہ لیتا ہے۔لیکن بھاگنا پڑے تو اس کی تیسری ٹانگ اس کا شکار کرنے والے کے کام آتی ہے۔کینگرو کی تیسر ی ٹانگ ہمارے پارلیمان والی ہے۔جس کو ساری دنیا کا استحقاق ،مراعات اور مفادات ملتے ہیں مگر یہ موقع یا فرصت کبھی نہیں ملی کہ وہ عوام کے ریلیف کے لیے آواز اُٹھائے۔
اس ہفتے پورے دو دن سے پنجاب اسمبلی شور شرابا کر رہی ہے ۔ سب سے بڑے صوبے کے سارے منتخب ارکان کا مطالبہ متفقہ ہے۔تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ۔میں پنجاب کے سارے ایم پی ایز کو مفت مشورہ دیتا ہوں۔ وہ سوموار کے دن اس پر عمل کر کے دیکھ لیں‘ ان کی تنخواہ فوراََ بڑھ جائے گی ۔ سپیکر ان کا مطالبہ از خود ماننے کا اعلان کرے گا۔مشورہ یہ ہے کہ وہ نعرہ لگائیں ''رقم بڑھاؤ نواز شریف، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘۔
ہمارے ریاستی ڈھانچے کی چوتھی ٹانگ ریاست کا وہ اختیار ہے جس کے تحت قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون شکن قوتوں کیخلاف تشدد کا قانونی اختیار رکھتے ہیں ۔جس ملک میں ایف آئی آر درج کرانا کوہِ نور ہیراحاصل کرنے جتنامشکل ہو ۔نہ کوئی تفتیش،نہ گرفتاری،نہ فردِ جُرم کا معقول نظام۔وہاں صرف آگ لگانے سے روشنی نہیں پھیل سکتی۔تشدد سے تشدد کا جواب تو دیا جا سکتا ہے تشدد کی جَڑ نہیں کٹ سکتی۔اس نظام کا ڈوبتا جہاز بچانے کے لیے فالتو بوجھ اُتارنا ہو گا۔
جہاز پر جو سواریاں اور سامان زیادہ ضروری دکھائی دیتا ہے ، وہی تو فالتو بوجھ ہے...!