ایشیاء میں ایٹمی تصادم…تجزیہ یا تجویز؟

اگر بغداد کی حکومت کویت پر چڑ ھ دوڑنے کا مشورہ نہ مانتی تو آج عربستان کی تاریخ مختلف ہوتی۔لاکھوں بچے یتیمی کے عذاب سے محفوظ رہتے،اَن گنت بیواؤں کے سہاگ سلامت ہوتے۔ اسرائیل کے مزید چوکیدار مشرقی وسطیٰ میں نہ گُھس سکتے۔ فلسطینیوں کی آزادی کی منزل کا سفر مختصر ہو جاتا۔
بھارت کی قیادت کے ساتھ امریکی صدر اوباما کی ملاقات سے پہلے اور بعد دو واقعات ایسے ہوئے جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلا واقعہ بھارت کے اندر ریاستی اداروں کی جانب سے کشتی والا دہشت گردی کا ڈرامہ سٹیج کرنے کی ناکام کو شش۔ دوسرے بھارت کی جانب سے ایشیاء میں اسلحے کی دوڑ کی سپیڈ بڑھانے کے لیے چار ارب ڈالر کی مزید سرمایہ کاری۔ان واقعات کی ٹائمنگ اہم ہیں ۔ وہ اس لیے کہ اسی دوران امریکہ کے ایک اہم تھنک ٹینک ''کارنیگی‘‘ کے ماہرین پر کووچ اورایشلے ٹیلیس نے امریکی انتظامیہ کے بڑوں کو بریفنگ دی ۔یہ بریفنگ ایسے اجلاس کو دی گئی جس کا اہتمام امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کیا ۔ مقصد یہ بتایا گیا کہ اس میں 2016ء کے بجٹ پر تجاویز مرتب ہوں گی۔امریکی انتظامیہ کے اہم کرداروں نے اجلاس میں شرکت کی‘ جن میں امریکہ کے خارجہ سیکرٹری سینیٹر جان کیری بھی شامل ہیں۔
اس بریفنگ نے جہاں ایک طرف ساری دنیا کو متوجہ کیا، وہاں دوسری جانب جنوبی ایشیاء کے مسائل میں اضافہ کر دیا‘ لہٰذا ''کارنیگی‘‘ کے ایشیائی ماہرین اپنی کارروائی میں کامیاب رہے۔ میرا خیال ہے اس صورتحال کو دو طرح سے دیکھنا چاہیے۔
پہلا ، بریفنگ کا مقصد پاک، بھارت، چین کی ٹرائیکا کے مابین تعلقات کا تجزیہ کرنا ہے‘ لیکن ہمیں نہیں بھولنا چاہیے‘بریفنگ کو ایسے وقت میں لیک کیا گیا جب دنیا ایشیاء کو انسانیت کا مستقبل کہہ رہی ہے‘ لہٰذا یہ سوال ضرور اُٹھے گا کہ امریکی سر زمین سے ایشیاء میں ایٹمی تصادم پر جو خبر آئی وہ امریکی ماہرین کا تجزیہ ہے یا ایشیاء میں ایٹمی تصادم کی تجویز...؟ 
اس ''واردات‘‘ کی تہہ تک جانے کے لیے ضروری نکات یہ ہیں! 
پہلا: مغرب کے تھِنک ٹینکس نے جہاں جہاں بھی تصادم کی پیشین گوئی کی‘ ان ملکوں میں اسلحے اور گولہ بارود کے تاجروں نے کھلی جنگ کروا دی۔
دوسرا: امریکی کانگرس کے پاس اطلاعات کہاں سے آئیں کہ بھارت میں ایک بڑے دہشت گرد حملے کے نتیجے میں انڈیا، پاکستان کے اندر بڑے پیمانے پر فوجی حملے کر سکتا ہے؟
تیسرا: امریکی کانگرس میںسماعت کے دوران پروکوچ اور ایشلے نے یہ کیسے کہہ دیا کہ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے خطے میں ایٹمی جنگ شروع ہو سکتی ہے؟
چوتھا: جنوبی ایشیاء کے معاملات پر ان دو امریکی ماہرین نے امریکی سینٹ کے پینل کے سامنے پاک بھارت ایٹمی جنگ کے دن کا قیامت خیز منظر کن بنیادوں پر کھینچا؟
پانچواں: ماہرین کا یہ کہنا کہ مستقبل قریب میں جنوبی ایشیاء میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا سب سے زیادہ امکان ہے۔ اس ہو لناک تجزیے کی بنیاد کیا اور مقصد کون سا؟
میں نے پارلیمانی ذرائع سے ان خبروں پر وزارتِ خارجہ اور حکمران ٹولے کے ردِ عمل کا کھوج لگایا۔ میںحیران ہی نہیں ہوا‘ پریشان بھی ہو گیا۔ پاکستان کی سلامتی کی ذمہ دار سیاسی کردار ایشیاء میں ایٹمی تصادم کی خبر پر تب سوچیں گے‘ جب یہ خبر اُن تک پہنچے گی۔
اس سے پہلے کہ میں بتاؤں ، مجھے دونوں جگہوں سے کیا جواب ملا‘ ایک مکالمہ سُن لیجیے۔ یہ آج کا واقعہ ہے‘ جِسے آپ لطیفہ کہہ لیں یا المیہ ۔کراچی سے متعلقہ سینٹ کے امیدوار کو سینیٹر محسن لغاری نے سینٹ آتے دیکھا تو کہا: سینٹ الیکشن سَر پر آ گئے ہیں‘ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں‘ جائیں ووٹ مانگیں۔ موصوف نے شاہانہ بے نیازی سے فرمایا ووٹروں کے پاس میرا کیا کام؟ ان سے وہ رابطہ کریں جن کے ذریعے ووٹ پڑتے ہیں۔ محسن، ضِدّی بچہ ہے باز نہیں آیا۔ کہنے لگا: کم از کم ووٹروں کی چہرہ شناسی کرو، ہیلو ہائے ہی کر دو ۔وزیر کا جواب تھا: چلیں جانے دیں‘ اگر آپ کے ذہن میں وزیر کا کوئی بھرم ہے تو میں اُسے کیسے توڑدوں۔ 
پھر کہا: کون سا وزیر ایسا ہے‘ جو عوام میں گُھلنا مِلنا پسند کرتا ہے؟ اس دوران ایک اور سینیٹر آ گئے۔ یہ سرکاری بنچوں کے لیے خاصا بولتے ہیں۔انہوں نے سرکار کی جانب سے بلائے گئے تازہ پارلیمانی اجلاس کی روداد سُنائی ۔اس ڈرامے کی ایک جھلکی آپ سے شیئر کرتا ہوں ۔اجلاس میں وزیرِ خالی خزانہ صاحب نے بریفنگ دینا تھی۔وہ کانفرنس روم میں داخل ہوئے، بغیر سلام دعا کے کرسیِ صدارت پر تشریف فرما ہوگئے۔ اجلاس کا آغاز یوں کیا: میں بہت زیادہ ضروری کاموں میں مصروف ہوں اس لیے تین، چار منٹ سے زیادہ وقت نہیں دے سکتا ۔اسی حالتِ اضطرار میں موصوف نے ہلکا پُھلکا ایمرجنسی خطبہ دیا ۔ اجلاس سے اُٹھے اور چل دیے۔ اس بھر پور عزت افزائی پر سرکاری ممبر نے اپنے تاثرات پنجابی میں بیان کیے‘ لہٰذا یہاں نہیں لکھے جا سکتے ۔یہ مت سمجھیے مجھے پنجابی لکھنا نہیں آتی۔باقی آپ سیانے ہیں... خود اندازہ لگا لیں۔
ایشیاء میں ایٹمی تصادم کے تجزیے یا تجویز کو غور سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایک طرف امریکہ، بھارت کا ایٹمی پارٹنر ہے ۔ دوسری طرف ایران کے ساتھ ایٹمی تعاون پر گفتگو جاری رکھے ہوئے ہے۔ تھوڑا پیچھے جائیں تو یہ ثبوت بھی ملتا ہے کہ میونسپل کمیٹی سائز والے اسرائیل کو بھی امریکہ نے ہی مشرقِ وسطیٰ کا پہلا ایٹمی ملک بنایا۔ مجھے کارنیگی گروپ کی یہ بریفنگ کئی وجوہ کی بنا پر کھٹک رہی ہے۔ وجوہ پر جانے سے پہلے، شاعرِ عوام کی سُن لیں۔ انڈیا،امریکہ گٹھ جوڑ پر برسوں پہلے کہا تھا: 
نام چلے ہرنام داس کا کام چلے امریکہ کا 
مورکھ اس کوشش میں ہیں سورج نہ ڈھلے امریکہ کا
نردھن کی آنکھوں میں آنسو آج بھی ہیں اور کل بھی تھے
برلا کے گھر دیوالی ہے تیل جلے امریکہ کا 
دنیا بھر کے مظلوموں نے بھید یہ سارا جان لیا 
آج ہے ڈیرا دھن والوں کے سائے تلے امریکہ کا 
کام ہے اس کا سودا بازی سارا زمانہ جانے ہے
اسی لیے تو مجھ کو پیارے نام کھلے امریکہ کا 
غیر کے بل بوتے پر جینا مردوں والی بات نہیں 
بات تو جب ہے اے جالب احسان نہ لے امریکہ کا
امر یکی سینٹ ہمارے اداروں کی طرح بے تو قیر اور بے حیثیت نہیں۔امریکہ میں ساری انتظامی اور پارلیمانی اتھارٹی سینٹ کے پاس ہے ۔پاکستان میں قومی اسمبلی اور سینٹ کے اندر جاتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے وزیراعظم کو پھر اٹک قلعہ لے جایا جا رہا ہو۔خادمِ اعلیٰ کو ہی دیکھ لیں ساڑھے آٹھ ماہ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کی اسمبلی کو لِفٹ نہیں کرائی۔اس بادشاہی نظام کی وجہ سے نہ وزیراعظم ہاؤس اور نہ ہی وزارتِ خارجہ نے ایٹمی تصادم کی خبر کو کوئی اہمیت دی۔مغرب میں پاکستان کو ہر قسم کے تشدد کی نرسری بنا کر پیش کیا جا تاہے۔ہم ہیں کہ جنگلہ اور سریا لگا لگا کر ہانپ چکے ہیں۔حکمرانوں کو کون بتائے عالمی سفارت کاری میں نہ جنگلہ فِٹ ہو تا ہے نہ سریا۔ نہ ہی امریکہ، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، وینزویلا اور ترکی میں خریدے گئے جزیرے، محلات، شیٹو۔ 
یہ بھی ہو سکتا ہے اس طرح کی سمندر پار پناہ گاہیں ایشیاء میں ایٹمی تصادم سے بچنے کے لیے بنائی جا رہی ہوں۔ 
خدا اس دھرتی ماں کی خیر کرے اور دھرتی ماں اپنے بچوں کی پناہ گاہ بنی رہے۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں