آرٹیکل 6کی دوسری دستک

میٹنگ میں راج دربار کے بڑے کھلاڑی شامل تھے۔میں سب کے بیٹھنے کے بعد پہنچا اور اصرار کے باوجود دروازے کے ساتھ والی نشست پر ہی بیٹھا۔آدھے گھنٹے کی گفتگو کے بعد وہ مخاطب ہوئے: آپ بھی بولیں ۔ کہا، آپ کو داد دیناچاہتا ہوں۔ بڑے جب بھی مشکل میں ہوتے ہیں سارے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ میرا تعلق اُس بد بخت طبقے سے ہے جو زبان ، مسلک، علاقے ،مذہب ،رنگ،نسل، فرقہ میں تقسیم ہے۔ غریب، مِڈل کلاس کے متحارب گروپ ہر دن کو قیامت کا دن ،ہر رات کو آخری رات، ہر واقعے کو زندگی یا موت کا مسئلہ اور کفر و اسلام کی جنگ سمجھ کر ایک دوسرے سے لڑتے ہیں۔ ہمیں نہ کوئی اکٹھا کرتا ہے، نہ اکٹھا ہونے دیتا ہے۔ یہ بات سن کر دربار میں کچھ دیر کے لیے سناٹا چھا گیا... پھر ارشاد ہوا: کھانا کھا لیں... پنجابی میں ایسے موقع پر کہتے ہیں: وَنڈ کھاؤ تے کَھنڈ کھاؤ۔ 
کھانے کی لمبی میزوں پر سجی ہوئی نعمت کی قطاریں دیکھ کر مجھے صحرائے تھر،وہاڑی،شیخوپورہ،جڑاں والا، ساہیوال،چھچھڑ وال کے وہ کسان یاد آ گئے جن کی خدمت اور تواضع کے لیے پنجاب کی جمہوریت نے نئی ڈانگیں، اعصاب کو مفلوج کر نے والی آنسو گیس اور تیل میں لتھڑے ہوئے ڈنڈے والے لِتر استعمال کیے۔ وہ بھی سڑکوں، شاہراہوں اور چوکوں میں۔ کسانوں کا قصور تھا ہی ایسا۔ اس لیے انہیں بر سرِعام کیمروں کے سامنے پیٹا گیا۔کسان باغی ہو گئے ہیں، کہتے ہیں: بجلی سستی کرو،کھاد سستی کرو تا کہ ہم سستی گندم، سستی سبزی، سستاگنا اور سستی روٹی پیدا کرسکیں۔ کسان پنجاب کی 80فیصد آبادی کے نمائندے تھے لیکن ان کی حمایت میں نہ کوئی سرمایہ دار باہر نکلا‘ نہ جاگیر دار سامنے آیا‘ نہ ہی چور بازار اور منافع خور۔ آتے بھی کیوں؟ 
بڑے معتبر بنے پھرتے ہیں
محنت کش سے ڈرتے ہیں 
مشرقی پنجاب کی کافر حکومت اپنے کسان کو بجلی مفت مہیا کرتی ہے۔ان کی اس ''کافرانہ ادا‘‘ سے متاثر ہو کر ہمارے پنجاب اور سندھ کے کسان آج کل سڑکوں پر ہیں ۔محنت کش کسانوں کی تازہ جدوجہد کو میرا سلام‘ ساتھ ساتھ آئین کی حمایت بھی ان زرعی مزدوروں کو حاصل ہے ۔جِسے شک ہو وہ آئین کا آرٹیکل 3دیکھے۔ ریاست کے راہ نما اصول پڑھ لے۔
پاک سرزمین لمبے عرصے تک بے آئین رہی۔بے دستور معاشرے بے لگام ''بڑے‘‘ پیدا کرتے ہیں‘ جن کے فیصلے بے ڈھنگے اور مزاج بے مہار ۔1973ء کے آئین کے خالق اپنے سماج کی اس نفسیات سے واقف تھے اسی لیے انہوں نے آرٹیکل 6 تخلیق کیا۔کاش آرٹیکل 6 آئین کے خالق کے کام آ سکتا۔
اگر قائدِ عوا م شہید کو موقع ملتا تو آرٹیکل 6کی ایسی تاریخ بن جاتی کہ دستور شکنی کرنے والے اس بارے میں سوچنے پر بھی تھر تھر کانپ اُٹھتے ۔ ثبوت آئین کے آرٹیکل 12 (2)میں ہے۔
(2)Nothing in clause (1) or in article 270 shall apply to any law making acts of abrogation or subversion of a constitution in force in pakistan at any time since twenty -third day of march ,one thousand nine hundred and fifty -six ,an offence
(2)شق (1) میں یا آرٹیکل 270میں مذکور کوئی امر کسی ایسے قانون پر اطلاق پذیر نہ ہو گا جس کی رو سے تیئس مارچ ،سن ایک ہزار نو سو چھپن سے کسی بھی وقت پاکستان میں نافذ العمل دستور کی تنسیخ یا تخریب کی کارروائیوں کو جرم قرار دیا گیا ہو۔ 
اس آئینی دفعہ کا مطلب سیدھا ہے اور سادہ بھی۔جب بھی کوئی 1973ء کے آئین کو توڑے‘ اُسے معطل کرے یا اُسے پسِ پشت ڈالے تو اس پر آرٹیکل 6لگے گا‘ جس کی سزا موت ہے ۔پاکستان کا آئین اس اعتبار سے دنیا کا واحد دستور ہے‘ جس میں آئین شکنی کی سزا کو قانونی طور پر موثر بہ ماضی رکھا ہے۔ ساتھ ساتھ یہ آئین (Self Speaking)یا خود بولنے والا بھی ہے۔
پچھلے سال جب عوامی مسائل کے حوالے سے ہماری شرمیلی جمہوریت ''نان ایشوز‘‘ پر جارحیت کے موڈمیں آئی، تب سرکاری طوطا کہانی تین دلائل پر مبنی تھی۔ 
پہلی دلیل: یہ کہ پرویز مشرف کے دور سے پہلے کی آمریتیں ماضی کا قصہ ہیں‘ ان کے گناہ بھول جاؤ۔
دوسری دلیل: یہ کہ سکندر مرزا ،ایوب خان،جنرل یحییٰ اور ظالم ترین آمر ضیاء اس دنیا میں نہیں رہے‘ اس لیے ان کے مقدمے کو قدرت کے انصاف کے حوالے کر دیا جائے۔
تیسری دلیل: یہ کہ آئین شکنی 12اکتوبر1999ء سے قابلِ تعزیر جرم نہیں‘ بلکہ سیاسی چیف جسٹس کی معزولی اصل واردات ہے۔ان تینوں دلائل پر میرا موقف قوم کے سامنے درجنوں بار تقریری اور تحریری طور پر آ چکا ہے۔ 
اُ وپر درج تینوں غیر حقیقی اور غیر آئینی دلائل کا نتیجہ دیکھیے۔ آج سرکاری ٹیم کے سارے دبنگ کھلاڑی آرٹیکل 6کا نام لینے سے ڈرتے ہیں۔آرٹیکل6 کے حوالے سے اقتدار کی ریڑھ کی ہڈی میں آج کل خوف کی دو نئی لہریں دوڑ رہی ہیں۔ان میں سے ایک ٹیس لاہور کے تخت سے اُٹھی ہے۔ دوسری وفاق کے شہرِ اقتدار سے ۔پرائم منسٹر یوتھ قرضہ سکیم کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا‘ اس کے نتیجے میں وزیراعظم کا حلف پہلی بار زیرِ بحث ہے ۔ آدھی رات کے بعد فاٹا کے عوام کو ایوانِ بالا سے نکالنے والا صدارتی آرڈر بھی آرٹیکل 6کی ایک اور پٹیشن کی بنیاد بنا۔ اگرچہ وہ آرڈیننس واپس بھی لیا جا چکا ہے۔
برادرم رؤف کلاسرا ہر دوسرے روز پوٹھوہار سے لیہ تک اور پھر ایوانِ اقتدار سے مقامی بلدیہ تک ، عمر رسیدہ حکمرانی پر احتجاجی مجلس برپا کرتے ہیں۔مجھے ایک صاحبِ حال بزرگ نے وہ حرفِ راز کہا‘ جو میں رؤف کلاسرا کے نام کرتا ہوں‘ وہ یہ کہ کبھی مت سمجھنا تمہارا موقف کمزور لہروں کا وہ پانی ہے‘ جو پتھر کے صنم یا پہاڑ سے ٹکرا ٹکرا کے سر پھوڑ رہا ہے۔زندگی کو توانائی دینے والا پانی کا موم سے بھی نرم قطرہ گولی سے زیادہ کاٹ رکھتا ہے ۔بالکل ویسے ہی جیسے گنڈاسے اور تلوار سے نہ کٹنے والا ہیرے کا جگر موم سے بھی نرم پھول کی پتی سے دو لخت ہو جاتا ہے۔
یوں لگتا ہے جیسے وطنِ عزیز میں کچھ چیزوںکے فائنل رائونڈ کا وقت آ رہا ہے۔ اُن میں سب سے پہلا طبقاتی کشمکش ہے۔ پاکستان کا موجودہ قانونی ، پارلیمانی اور حکومتی ڈھانچہ اس کشمکش کا ثالث تو کیا بنتا‘ یہ محض تماشائی ہے۔ غریب، محنت کش، زرعی مزدور، چھوٹے تنخواہ دار ملازم، غربت، بے ایمانی، کرپشن، مہنگائی، ریاستی اور غیر ریاستی جبر اور لاقانونیت کی چکّی میں پسنے والا دلیہ ہیں۔ دوسری جانب جمہوریت کے نام پر پاکستان کی قومی چراگاہ کے وسائل چرنے والے مافیاز، جو کٹا پھٹا، سڑا ہوا اور بچا بچایا وسائل کا پھل فروٹ بھی غریبوں کے لیے چھوڑنے پر تیار نہیں۔
آئین کا آرٹیکل6 اگر سن سکتا... تو میں اسے ضرور کہتا‘ تم بھی بڑوں کے خلاف بڑوں کے ہاتھ کا بڑا ہتھیار بن کر رہ گئے ہو۔ اگر فرصت ہو تو کبھی غریبوں کے لیے زندگی آسان بنانے کی خاطر اپنی طاقت استعمال کرو۔ باقی سب جمہوریت ہے، مفاہمت ہے، مشاورت ہے بلکہ منافقت ہے۔
دوستو مشورے نہ دو ہم کو 
مشوروں سے دماغ جلتا ہے
یہ کسی نے غلط کہا تم سے 
ان کھلونوں سے جی بہلتا ہے 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں