سول ملٹری تعلقات

پھر صف بندی ہو رہی ہے۔ دو ہفتے پہلے اسی صفحے پر لکھا تھا فائنل رائونڈ آگیا ہے۔ واقعات میری معلومات سے بھی زیادہ تیز رفتارنکلے۔ سول ملٹری تعلقات پر بات کرنے سے پہلے دیوار پر لکھی کہانی پڑھ لینے میں کیا حرج ہے؟
زلزلہ،سیلاب ماضی قریب کی باتیں ہیں ۔ یوحناآباد میں پولیس ناکام ہوئی تو جمہوریت بولی، رینجرزکو بلالو۔ اس سے پہلے دھرنا اُبل پڑا۔ سول حکومت نے مسئلے کا فوری حل ڈھونڈا، آرٹیکل 245 لگائو، فوج لے آئو۔ اُس سے بھی پہلے بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ ہوئی،ایف سی اور لیوی کو بلائو۔ ضربِ عضب کا مرحلہ آیا ، ضرب لگانے کے لیے فوجی آپریشن۔ تیس ہزار سے زیادہ پولیس کی موجودگی کے باوجود کراچی میں بڑا چھاپہ مارنا ہے ، رینجرز کو آگے کردو۔ اور ابھی کل فیصلہ ہوا، مردم شماری کے لیے بھی فوج ہی کو بلائیں گے۔ سویلین جمہوریت کیا کر رہی ہے؟غیر شفاف ٹھیکوں پر ٹھیکے، میگا پراجیکٹس کے ذریعے کمائی۔ اس جمہوریت کی خدمات کا دوسرا میدان بھی ہے۔۔۔۔ بے معنی بڑھک مارنا ، پھیکی جُگت بازی، جھوٹی اَنااور لا یعنی جملے بازی کا مقابلہ۔ وزارتِ دفاع ، وزارتِ خارجہ، دفاعی پیداوار، کنٹونمنٹ بورڈز اور سٹریٹیجک ادارے چلانے کی ذمہ داری عملاً فوج کے سر ہے۔
میں یہاں رُک جاتا ہوں کیونکہ ہو سکتا ہے میرے اگلے دو چار جملے جمہوریت کو ہی ڈی ریل کر دیں۔ مگر میرا قلم رُک جانے یا روک دینے سے کیا ہو گا؟ دنیا بھر کے تھِنک ٹینک مجھ سے پہلے ہی تین نتائج اخذکر بیٹھے ہیں۔
نمبر ایک، پاکستان میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے فوج کا کردار ضروری ہے۔ قوم کے ذہن میں یہ سن کر قدرتی سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ فوج کا تحفظ کون کرے گا؟یہ بات نہ کہنا شدید نا انصافی ہوگی کہ دنیاکی واحد فوج پاکستان میں ہے جسے سِویلین قیادت ہر معاملے میں گھسیٹ لاتی ہے۔ پھر فوج کے خلاف گھنٹوں تقریرکرنے سے آئین کے کان پر جُو ں تک نہیں رینگتی؛ حالانکہ اسی آئین میں لکھا ہے عدلیہ اور فوج کی توہین جرم ہے۔ عدلیہ کی توہین پر روزانہ نوٹس، ریمارکس اور فیصلے آتے ہیں لیکن پاکستان کے امن و امان اور سلامتی کا دفاع کرنے والی فوج خُود اپنے دفاع کے معاملے میں لا وارث ہے۔ 
دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ پاکستان میں واحد منظم ادارہ فوج رہ گیا ہے۔ اس منظم ادارے کے کئی ارکان ''اِن دی لائن آف فائر ڈیوٹی‘‘ عدالت کے کٹہرے میں پہنچائے گئے۔ آج کل وطن کے یہ سپاہی وحشت و قانون شکنی کرنے والوں کے لئے بنائے گئے ڈیتھ سیل کے اندر سزائے موت کے قیدی ہیں۔ یہ کام ایک ایسے چیف جسٹس نے کیا جس کی اپنی سکیورٹی فوج ہی کے خرچ پر 21رینجرز کے ذمے ہے۔ اس مرد انکار اور بہادر آدمی نے صوبہ بلوچستان کے ڈومیسائل پر فائد سمیٹے مگر اس نے وہاں نہ گھر بنایا‘ نہ ریٹائرمنٹ کے بعد ابھی تک وہاں دس دن بھی رہ سکا۔
اس منصف کے دور میں نابالغ بچوںکو دہشت گرد بنوا کر انہیں اپنی نگرانی میں سزائیں دلوائی گئیں۔ اس نے ایسا ماحول پیداکیا جس میں ملک کا دفاع کرنے کے بعد دفاعی اداروںکو اپنا ہی از خود دفاع کرنا پڑا۔ اس کے مردِ انکار ہونے کے ثبوت گلی گلی بکھرے پڑے ہیں۔ تازہ ترین بلٹ پروف گاڑی، ہوش رُبا سہولتیں اور مراعات ہیں، ایسی جیسی امریکہ کا صدر، برطانیہ کا شاہی خاندان ،جرمنی کا چانسلر اور ہندوتواکا مودی بھی صرف خواب میں دیکھ سکیں ۔ مردِ انکار عہدے سے فارغ ہوا لیکن وہ مفت سہولتوں سے انکارکا عادی نہیں ۔
تیسر ے، دنیا کاکوئی طاقت ور ملک یا ادارہ ہماری آئینی جمہوریت سے اہم معاملے میںگفتگو کرنا پسند نہیں کرتا۔۔۔۔ علاقائی امور سے عالمی سیاست تک اور دفاعی معاملات سے سٹریٹیجک معاہدوں تک۔ عالمی سطح پر پاکستان کی جمہوریت کی حیثیت''درشنی پہلوان‘‘ والی ہے۔ ایسا پہلوان جوکُشتی والا تیل چھوڑکرکولڈکریم لگاتا ہے اور اکھاڑے کے بجائے سائے میں بیٹھنا زیادہ پسندکرتا ہے۔
اب آجائیے صف بندی کی طرف۔ وہ مافیازجنہوں سے سیاست، لسانیت، جمہوریت یا فرقہ واریت کے نام پر ریاست کے اندر نوگو ایریاز بنائے ان کے درمیان نئی صف بندی لازمی ہے۔ جس طرح محلے کے بدمعاشوں کو معلوم ہوتا ہے کہ اگرگلی والوں پر چھوٹے بدمعاش کا رعب ختم ہوگیا تو پھر محلے سے بھی اس کی بدمعاشی جاتی رہے گی، اس لیے کن ٹُٹے، بدقماش،گنڈ کپ، جیب تراش اورگُڈی لُٹ گروپ یا قبضہ مافیاکبھی تنہا نہیں لڑتے۔ عام مشاہدے کی بات ہے، اگر دو سوگھرانوں والے محلے میں دوبدقماش ہوں تو وہ بدمعاشی قائم رکھنے کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ دوسو معزز لوگ دو عدد بدمعاشوں کا مقابلہ نہیں کرتے،اپنی اپنی باری پر جوتے کھانا پسند کرتے ہیں ۔
بدقسمتی کے سِوااسے کیا کہیے؟ پاکستان میں ساٹھ ہزار لاشوں کا انبار پڑا ہے۔ مقتولوں کو نہیں معلوم انہیںکیوں قتل کیا گیا؟ قاتل آسانی سے قتلِ عام کی عادت نہیں چھوڑتا۔کون سچا ہے،کون جھوٹا؟یہ عدالت طے کرے،لیکن اجتماعی قتلِ عام،ٹارگٹ، سیریل کلنگ کے اعترافی بیان، اقبالِ جُرم حیرتوں کی نئی دنیا ہے، جس کی بھل صفائی قومی ضرورت۔
آپ کو یاد ہوگا کچھ سال پہلے تیزاب کے ڈرم میں معصوم بچوں کے ٹکڑے ڈال کر انہیں قتل کرنے والا سیریل قاتل گرفتار ہوا۔ یہ قاتل چند ماہ میں کائنات کی آخری عدالت میں بھجوا دیاگیا۔ فوری انصاف کی وجہ صرف ایک تھی۔ قوم کا اجتماعی شعور اور عدلیہ کی حسِ انصاف جاگ پڑی ۔آج پھر پاکستان نئی انگڑائی لے رہا ہے۔ بہت سی مقدس گائیں باں باںکر رہی ہیں، باقی کی بھی باری آ رہی ہے۔
نیوکلیئر پاکستان نے زندہ رہنا ہے،اس لیے کوئی یہ مت سوچے کہ نیوکلیئر ریاست کے اندر متوازی ریاستیں بھی چل سکتی ہیں۔ کراچی کے امن کی واپسی اور پاکستان کی رِٹ کی بحالی وطن کی پیشانی پر لکھی ہے۔ اس صف بندی میں گنڈکَپ اکیلا ہو یا گنڈکپوں کی یونین بنا لے، وہ جاگتے پاکستان کی بیدار رائے عامہ کو ہائی جیک نہیں کر سکتے۔ اجتماعی شعورکو فتح کرنے کے پلان ماضی کے خواب ہیں۔ سول ملٹری تعلقات میں سول حکومت کا ایجنڈا ہے ''ڈو مور‘‘۔ یہ یکطرفہ ٹریفک جام ہو چکی۔ میدان میں آنے کی باری اب سویلین لیڈر شپ کی ہے:
اگر تم پاک داماں ہو تو میداں میں چلے آئو
خطا کے بعد انجامِ خطا سے بھاگتے کیوں ہو
اگر قربانی و ایثار کی راہوں سے واقف ہو
تو پھر فرمانِ تسلیم و رضا سے بھاگتے کیوں ہو
گھروں کی چار دیواری میں غرّانے سے کیا حاصل
قضا آ کر رہے گی اب قضا سے بھاگتے کیوں ہو
اسی پر ہے مدار انقلابِ کرۂ ارضی
ہم ایسے باغیوں کے نقشِ پا سے بھاگتے کیوں ہو
اُگلنا ہی پڑے گا ظالمو! اب ترنوالوں کو
غریبوں کے غضب کی ابتدا سے بھاگتے کیوں ہو 
ادائے انقلابِ مہر و مہ پہچاننا ہو گی؟
ہوائے گردشِ اَرض و سما سے بھاگتے کیوں ہو 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں