آپ اسے اتفاق کہہ سکتے ہیں یا حُسنِ انتظام بھی کہ ٹیلی فون ٹیپ کے تینوں مقدمات میں وزیر اعظم نواز شریف کا ذکر آ تا ہے۔ پہلا مقدمہ 1980ء کے عشرے کا ہے‘ جس میں سابق وزیر ملک نعیم، میجر عامر اور صحافی منیر احمد کا وکیلِِ صفائی میں تھا۔ فون ٹیپ کرنے کی دوسری دو وارداتوں کا ذکر بعد میں کریں گے‘ پہلے منیر احمدکی کہانی۔ سپیشل عدالت تب پشاور روڈ پر ایک بے ڈھنگی عمارت کے چھٹے فلور پر تھی۔ انتہائی پتلی سنگل سیڑھی والی بلڈنگ، گندے نالے پر تجاوزکرکے تعمیر ہوئی۔ نہ کوئی لفٹ نہ زلزلے یا آگ سے بچاؤ کا متبادل راستہ۔ میں سٹاف کے ہمراہ عدالت پہنچا تو آگے اُلجھی ہوئی زلفوں اور ناتراشیدہ داڑھی والا ایک نوجوان ڈھیلی پتلون میں ہاتھ ڈالے عدالت سے مخاطب تھا۔ جج نے بتایا: آپ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہیں،کوئی ضامن ہے؟ جج پھر بولا، اگر ضامن نہ ہوا تو آپ جیل جائیں گے۔ صحافی کہہ رہا تھا: پیش ہو گیا ہوں، پھر جیل کیوں؟ مجھے دیکھتے ہی جج صاحب نے ریلیف سے بھرپور سانس لی۔کہا: آپ انہیں سمجھائیں۔ میں نے ڈھیلی پتلون والے سے نام پوچھا۔ وہ انٹرویو لینے کے انداز میں مجھ سے کہنے لگا: آپ بابر اعوان ہیں؟۔ میں نے ذاتی مچلکے پر اسے چھڑوایا۔ پھر بغیر کسی فیس کے وکالت نامہ داخل کروا دیا۔ یہ تھا پاکستان میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کا سیاسی کردار نامی کتاب کا مصّنف منیر احمد‘ جو آج کل ایک غیر ملکی نیوز ایجنسی کا عہدیدار ہے۔ مڈ نائٹ جیکال کے عنوان سے ملکی تاریخ کا یہ مشہور ترین مقدمہ جن ریکارڈنگز پر مشتمل تھا‘ ان میں نواز شریف کی کال ریکارڈنگ بھی شامل تھی۔ مقدمے میں بغاوت کی دفعات لگائی گئی تھیں۔ ملزموں میں ٹاپ کلاس سپائی ماسٹر اور سیاستدان شامل تھے۔
اب اس کو بھی حُسنِ اتفاق ہی کہہ لیں کہ اس مقدمے کے گیارہ سال بعد پاکستان میں سیاسی گفتگوؤں کے ٹیپ کیے جانے کا دوسرا سکینڈل سامنے آیا ہے۔ فون ٹیپ سکینڈل2 کے وقت میں شہید وزیر اعظم بینظیر بھٹو کا وکیلِ صفائی تھا۔ تب راشد عزیز لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ ایک گفتگو‘ جو اب تاریخ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اعلیٰ ترین عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ مرحوم چیف جسٹس کی ایک گفتگو موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب سے تقریباًََ یوں تھی:
'' بڑے میاں صاحب آپ سے بہت ناراض ہیں، آپ نے کہا تھا میاں بیوی کو جلد سزا ہو گی‘‘۔ اس کے جواب میں جج صاحب کہتے ہیں: ہم لگے ہوئے ہیں، امید ہے جلد فیصلہ ہو جائے گا۔ پھر پنجابی میں میرے بارے میں یہ جملہ کہا: اوہ کیس نُوں چلن نئیں دیندا‘‘ (وہ مقدمے کو چلنے نہیں دیتا)۔
یہاں ایک اور دلچسپ واقعہ بھی سُن لیجیے۔ اس گفتگو کے چند دن بعد مجھے دہشت گردی کے الزام میں پنجاب پولیس نے عدالت جاتے ہوئے گرفتارکر لیا‘ جس پر پورے ملک کے وکلا سراپا احتجاج بن گئے۔ انسدادِ دہشت گردی کے جج مرحوم سیف اللہ بُٹر نے مجھے ضمانت پر رہا کیا۔ ان کا تعلق گجرانوالہ سے تھا اور وہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گجرانوالہ کے صدر بھی رہے۔ میری رہائی کے کچھ دنوں بعد میرے معاون منشی چودھری شبیر اور راجہ پرویز اشرف کو ساتھ ملا کر دہشت گردی کے ایک اور مقدمے میں گرفتارکر لیا گیا۔ اس ٹیپ سکینڈل کو آئی بی کا ایک ذمہ دار افسر بہت بڑا رِسک لے کر لندن میں منظرِ عام پر لایا، لیکن اس کا سیاسی کریڈٹ ایف آئی اے کا ایک چالاک ملازم لے گیا۔ اقتدار کی محلاتی سازشوں کی یہ کہانی بھی سننے کے قابل ہے۔ فی الحال اس کا خلاصہ یوں سمجھ لیں:
ہم نے اقبال کا کہا مانا اور فاقوں کے ہاتھوں مرتے رہے
جُھکنے والوں نے رفعتیں پائیں، ہم خودی کو بلند کرتے رہے
ٹیلیفون ٹیپ کرنے کے حوالے سے تاریخ بھی چھیڑ چھاڑ پر تُلی ہوئی ہے۔ آپ ٹیلی فون ٹیپ سکینڈل3 کو حسنِ انتظام کہہ لیں یا تیسرا اتفاق، کیونکہ اتفاقیہ طور پر موجودہ ٹیپ سکینڈل بھی وزیر اعظم نواز شریف کی تیسری حکومت کے حصے میں آ یا ہے۔ تفصیلات آپ نے ٹی وی پر سُنی اور پڑھ بھی لی ہیں۔ اس کے تین پہلو ایسے ہیں جنہیں ایک آئینی ملک میں نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔
پہلا: کیا پاکستان کا کوئی قانون، ضابطہ، رولز آف بزنس مجریہ 1973ء کسی حکومتی اہلکار کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ کسی شہری کی ٹیلی فون گفتگو سنے اور اس کو ریکارڈ کر سکے؟ اس کا جواب ہے، جی ہاں! یہ اختیار صرف اور صرف پاکستانی وزیر اعظم کو بحیثیت چیف ایگزیکٹو حاصل ہے۔ وزیر اعظم سول انٹیلی جنس ایجنسی کی طرف سے ملک کی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر یہ اختیار استعمال کرتا آیا ہے۔
مجھے وہ صبح نہیں بھولی۔ جب کابینہ اجلاس سے پہلے وزیر اعظم نے میرا ہاتھ پکڑا، کیبنٹ بلڈنگ سے اپنے چیمبر میں لے گئے اور بتایا: آپ جانتے ہیں آپ کا فون ٹیپ کرنے کی اجازت لینے آپ کا کولیگ آیا تھا؟ میں نے بے پروائی سے کہا، صرف میرا فون؟ وزیر اعظم نے کہا: آپ کے نام کے ساتھ 47 نام اور بھی تھے‘ میں نے فون ٹیپ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ پھر وزیر اعظم کہنے لگے: آپ وکیل ہیں اور جانتے ہیں ایسی سمری یا اجازت ہمیشہ چھپی نہیں رہ سکتی، کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی رپورٹر اسے ڈھونڈ نکالتا ہے۔ اب سُنیے سب سے مزے کی بات۔ کچھ دن بعد میرے وکالتی دفتر میں اسی ایجنسی کا ایک باحمیت افسر آیا اور میرے چھوٹے بھائی فاروق اعوان ایڈووکیٹ سے کہا: ملک صاحب سے کہیں کہ اپنا ٹیٹرا زیرو والا نمبر استعمال نہ کریں، وہ ٹیپ ہوتا ہے۔
موجودہ جمہوریت میں بھی ایسا دو بار ہوا۔ ایک تب جب میرے بزرگ دوست اور شعلہ بیان سینیٹر حاجی عدیل نے کمیٹی میں ان افراد کی فہرست مانگی‘ جن کے فون ٹیپ ہوتے ہیں۔ دوسری مرتبہ تب جب ایک بڑے گھر کے شناسا نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ اہم گفتگو لینڈ لائن سے کیا کریں۔ پاکستان کا آئین چادر اور چاردیواری کے تحفظ کو ریاستی پالیسی اور بنیادی حق سمجھتا ہے، لیکن حالیہ ٹیلی فون سکینڈل کے بعد ہلکی پھلکی گفتگو جس میں غصہ یا علاقائی قسم کی بے ضرر گالیاں شامل ہوتی ہیں‘ وہ بھی منظرِ عام پر آئیں گی۔ اس سکینڈل سے ثابت ہو گیا کہ پاکستان میں آج بھی فون ٹیپ ہوتے ہیں۔ پرویز مشرف صاحب ڈکٹیٹر تھے مگر ان کے دور میںکوئی فون سکینڈل نہیں بنا۔ آپ ٹیلی فون ٹیپ کرنے کی کارروائی کو بھی جمہوریت کا پھل فروٹ سمجھ لیں۔ عوامی اور ذاتی گفتگوؤں میں ہر شخص لاپروائی سے کال کرتا ہے۔ کراچی میں ہونے والی ہزاروں کالوں میں ایک دوسرے کو اَبے سالے کہاں ہے؟ کیوں نہیں پہنچا؟ جیسے جملے مل جائیں گے۔ پنجاب میں ہلکی پُھلکی گالیوں میں سالے کی طرح کے بڑے سنجیدہ رشتوںکا حوالہ آ جاتا ہے‘ اس لیے کوئی سی آٹھ دس گفتگوئیں ملا کر بہترین پروڈکشن تیار کی جا سکتی ہے۔
میرے ایک موکل نے‘ جن کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا‘ گفتگو کے آغاز میں فون ٹیپ کرنے والے کو تین چار موٹی گالیاں دیں، پھر کہا، اب آئیں اصل موضوع کی طرف۔
تیسرے یہ کہ پاکستان کا آئین دیباچے سے آرٹیکل 280 تک اسلامی طرزِ حیات کا تذکرہ اور تلقین کرتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ شریعت کے مطابق چُھپ کر، گھات لگا کر یا پسِ دیوار کھڑے ہو کر اپنے اہلِ خانہ کی گفتگو سُننے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ ایسے میں ٹیلی فون ٹیپ کرنا، پھر نشریاتی لہروں کے ذریعے گھر گھر پہنچانا قانونی سے بھی بڑا شرعی جُرم ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل شادیوں کی تعداد، بیویوں کے اجازت نامے اور کم عمر دلہن کی اجازت جیسے اہم ترین فقہی مسائل سے فارغ ہو گی تو وہ فون ٹیپ کر کے پرائیویٹ گفتگوکو طشت از بام کرنے یا بلیک میلنگ کرنے کے بارے میں رائے ضرور دے گی:
بات کہنے کی نہیں لیکن یہی کرتے رہے
ابنِ سالک، دوستوں کی مخبری کرتے رہے
کانپ اٹھتا ہوں سیاسی نٹ کھٹوں کو دیکھ کر
کیسے کیسے لوگ اپنی رہبری کرتے رہے
سانحہ کہہ لیجئے لیکن ہمارے رہنما
نام پر جمہوریت کے رہزنی کرتے رہے