این اے 125 لاہور کا فیصلہ بہت کچھ ثابت کر گیا۔ یہ کہ عمران خان نے آر اوز کے لیے جو لفظ استعمال کیا‘ وہ ٹھیک تھا۔ فیصلے میں لکھا گیا ہے: بے ضابطگیوں کی حد ہو گئی۔ ووٹوںکی چوری کرنے والے بنارسی ٹھگ اور چوری کروانے والے بہروپیے ضرور پکڑے جائیں گے۔ لیکن طے ہو گیا مینڈیٹ دو نمبر تھا۔ اب دھاندلی کا ثبوت مانگنا ویسے ہی ہے جیسے کسی سے کہا جائے، ڈکیت کا وزٹنگ کارڈ کہاں ہے؟ یا چور نے جو رسید جاری کی پیش کرو!! میرے کالج فیلو اور جونیئر نواب اسلم رئیسانی کے الفاظ میں دھاندلی دھاندلی ہوتی ہے امیدوار اپنے حق میں کروائے یا ریٹرننگ افسر امیدوار کے حق میں دھاندلی کر دے۔
2013ء کا الیکشن پہلے دن سے ہی متنازع رہا‘ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ 2013ء میں انتخابی تنازع ووٹوں کی گنتی سے بھی پہلے شروع ہو گیا تھا‘ جس کا زیادہ کریڈٹ موجودہ وزیر اعظم کو جاتا ہے یا پھر اس ایڈوائزر کو جس نے دس گیارہ فیصد حلقوں کے نتائج آنے سے پہلے ہی بھرپور مینڈیٹ مانگ لینے کا مشورہ داغا۔ تنازع کی دوسری قسط ایکشن سے بھرپور تھی‘ جس میں لاٹھی اور گولی سے ہی نہیں بلکہ فائرنگ اور لاشوں سے بھی جمہوری نازی ازم کا چہرہ اُبھرا۔
انتخابی دھاندلی کا آخری سٹاپ عدالتی فورم پر اس معاملے پر لڑائی ہے‘ لیکن ہارنے والوں نے انتخابی ٹربیونل کو بالکل نظر انداز کر دیا؛ چنانچہ انتخابی تنازعات کے جو فیصلے عوامی نمائندگی ایکٹ مجریہ 1976ء کے تحت 120 دن میں ہونے والے تھے‘ وہ 800 دن میں بھی صادر نہ ہو سکے۔ دھاندلی کا سراغ لگانے کے لیے قائم کمیشن اس خون آشام تنازع کا آخری مورچہ بن چکا ہے۔ اس کمیشن کی عمر صدارتی آرڈیننس نے 45 دن مقرر کی۔ 3 اپریل 2015ء کو آرڈیننس جاری ہوا۔ آج دھاندلی کمیشن کی باقی عمر دو ہفتے رہ گئی ہے۔ ملک بھر سے 74 انتخابی حلقوں کے تنازعات صرف پی ٹی آئی دھاندلی کمیشن میں لے گئی۔ اس کے علاوہ درجن بھر دیگر سیاسی جماعتیں اور اتنے ہی شخصی طور پر دائر کیے گئے مقدمے دھاندلی کمیشن کے سامنے ہیں۔ حلقہ 125 نے سرکار کی ایک ''بڑی وکٹ‘‘ کو خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا۔ اس فیصلے کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہاں قومی اسمبلی کی نشست پر وزیرِ ریلوے جبکہ صوبائی اسمبلی میں دو ایم پی ایز کے حلقے شامل ہیں۔ ایم این اے اور ایک ایم پی اے کے خلاف دھاندلی ثابت ہوئی‘ لہٰذا دونوں عہدے خالی قرار پائے۔ ایک ایم پی اے کے خلاف دھاندلی کے الزامات مسترد ہوئے اور سیٹ قائم رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ این اے 125 کے بارے میں الیکشن ٹربیونل نے اندھادھند انتخابی فیصلے نہیں کیے‘ بلکہ صاف شفاف طریقے سے کارروائی چلائی۔ شہادت اور ثبوت کا سہارا لے کر عدل کیا۔ نون لیگ کی حکومت کے بڑے ہمیشہ اپنے سیاسی مخالفین کو مشورہ دیتے آئے ہیں کہ وہ عدالت کے سامنے سر جھکا دیں‘ عدلیہ کا احترام کریں اور اس کا فیصلہ من و عن تسلیم کر لیں۔ اب ن لیگ اپنے اس موقف کا مذاق اڑائے گی یا عدلیہ کے فیصلے کے بعد عوام کا سامنا کرنے کی ہمت کر سکے گی؟
اس سارے تنازع میں قانون شکنی کا بڑا الزام ایک قانون دان چیف الیکشن کمشنر اور سابق سیاسی چیف جسٹس کے ذمے آیا۔ شاید آپ کو معلوم نہ ہو کہ متنازع انتخابات کرانے والے چیف الیکشن کمشنر صاحب اس عہدے پر آنے سے پہلے مختلف مقدمات میں شریف برادران کے وکیل رہے۔ خاص طور پر حسین حقانی کے خلاف میمو گیٹ سکینڈل میں فخرو بھائی نواز شریف کے وکیل تھے‘ جبکہ نواز شریف صاحب نے میمو سکینڈل کا بڑا ملزم اُس وقت کے صدرِ پاکستان آصف زرداری کو قرار دیا تھا۔ دھاندلی گیٹ سکینڈل کا تیسرا بڑا کردار وہ سیاسی جج ہے‘ جس نے بطور چیف جسٹس خادم اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کی۔ اس کی روٹین میں تردید ہوئی‘ لیکن اندھیرے میں کی گئی ملاقات کی خبر لیک کرنے والے رپورٹر اپنی خبر کی سچائی پر ڈٹے رہے۔ اسی چیف جسٹس کے دورِ اختیار میں شریف برادران کے حق میں فوجداری قانون کی نئی تاریخ لکھی گئی۔ ایسا جرم‘ جس میں اپیل30 دن کے اندر اندر ہو سکتی تھی‘ وہ تقریباً 9 سال بعد دائر ہوئی اور پھر منظور بھی ہو گئی‘ جس کے نتیجے میں عدالتی طور پر مفرور قرار دیے گئے ملزمان بری بھی ہوئے۔ ریکارڈ درست کرنے کے لیے یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اسی چیف جسٹس نے درجن بھر سے زائد مقدمات میں لکھ کر کہا کہ اگر مقدمہ تاخیر سے دائر کیا جائے تو دائر کرنے والی پارٹی ہر دن کی تاخیر کا علیحدہ علیحدہ جواز پیش کرے‘ ایسا جواز جس کے واقعاتی ثبوت بھی ہوں اور جو Plauseable یعنی معقول طور پر قابلِ قبول بھی ہو۔ مختلف عدالتوں میں فوجداری مقدما ت کی پریکٹس کا عدالتی ریکارڈ یہ بھی کہتا ہے کہ قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا مقدمہ پہلا اور اس کے بعد محمد نواز شریف کے بری ہونے کا مقدمہ دوسرا کیس ہے‘ جو کوئی عدالت بطور نظیر ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتی۔
دھاندلی کمیشن اس تحریک کا آخری سٹاپ ہے جو 4 حلقوں میں دھاندلی کے الزام سے شروع ہوئی۔ عمران خان کی کوشش ہے جبکہ بہت سے دوسرے حلقوں کی خواہش بھی کہ 2015ء الیکشن کا سال ثابت ہو۔ اگر یہ الیکشن کا سال نہ ہوا تو ملک گیر سیاسی جھگڑے کا سال ضرور ثابت ہو گا۔ اس کی بہت ساری وجوہ ہیں۔ ان میں سے ایک سیالکوٹ کے عثمان ڈار بتاتے ہیں: وزیرِ نہ بجلی نہ پانی کو الیکشن میں دندانِ شکن شکست ہوئی، پھر پریزائڈنگ آفیسر اور ریٹرننگ آفیسر کی جادوگری نے سیالکوٹ کی شکست کو عثمان ڈار کے نام الاٹ کر دیا۔ یہ حلقہ ان چاروں حلقوں میں سے ایک ہے‘ جن کے بارے میں عمران خان ''حق الیقین‘‘ کی منزل پر کھڑے ہیں۔ عمران خان کے بقول یہاں عوامی مینڈیٹ پر دن دیہاڑے ڈکیتی پڑی۔ اگر عثمان ڈار سے پوچھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے ساتھ سنگل کے بجائے ڈبل دھاندلی ہوئی۔ دوسری جانب جوڈیشل کمیشن کے پہلے گواہ نے یہ کہہ دیا کہ 35 پنکچروں والی عبوری حکومت نے منصفانہ الیکشن کے لیے اردو بازار سے 200 ''ماہرین‘‘ کی خدمات حاصل کیں۔ اب قوم یہ سوال پوچھتی ہے کہ اردو بازار والے ماہرین کس کام کے ماہر تھے؟ ویسے بھی کرائے پر ملنے والے ماہرین کیا کرتے ہیں ہم سب یہ جانتے ہیں۔ موجود شواہد اور واقعاتی شہادتیں نئے الیکشن کا تقاضا کرتی ہیں‘ جس کی بڑی وجوہ یہ ہیں:
1 : ساری سیاسی جماعتیں کہتی ہیں‘ الیکشن دھاندلی شدہ تھا‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ منصفانہ، شفاف اور آئینی الیکشن کروانے کا تقاضا پورا نہیں ہوا۔ اصل سوال یہ ہے آئین شکنی کا سب سے بڑا ملزم کب پکڑا جائے گا؟
2: دھاندلی کا ثبوت اگر تھیلوں میں ہے تو تھیلے کھولنے میں تاخیر کیوں؟ جس طرح مذاق رات والے بابے کی پٹاری سے کبھی سانپ نہیں نکلا‘ اسی طرح انتخابی تھیلوں سے فارم چودہ یقینا نہیں نکلے گا۔
3: دھاندلی ثابت ہو گئی۔ کیا اب قومی ادارے اس کی لمبائی، چوڑائی، موٹائی اور گہرائی ناپنا چاہتے ہیں۔ ایک مچھلی تالاب گندا کر دیتی ہے۔ الیکشن چوری ہونے کے زمینی ثبوت موجود ہیں کیا چور آسمان پر پکڑے جائیں گے؟
اگر نئے الیکشن 2015 میں ہو جائیں تو ہو سکتا ہے‘ انتخابی شور میں چور بچ نکلیں۔ اگر دھاندلی کی تلاش کے نام پر مزید دھاندلی جاری رہی تو پھر سمجھیں قوم کے مینڈیٹ چوروں کے گرد گھیرا مزید تنگ ہو گا۔ بڑے ملزم کو مفاہمت، سودے بازی یا سارے مُک مُکا والے مل کر شور ڈالیں‘ تب بھی نہیں بچا سکتے:
صدیوں سے گھیراؤ میں ہم تھے، ہمیں بچانے کوئی نہ آیا
کچھ دن ہم نے گھیرا ڈالا، ہر ظالم نے شور مچایا
جان پہ اپنی کھیل کے ہم پھر شہر وفا آباد کریں گے
آخر کب تک چند گھرانے لوگوں پر بیداد کریں گے