سوال تھا،برطانیہ اور پاکستان کی جمہوریت میں کیا فرق ہے؟ساتھ یہ بھی کہا: فرنگی اور مسلم قیادت پر تبصرہ کروں۔
افرنگ اور پاکستان کی جمہوریت میں اتنا ہی فرق ہے جتنا بھائی پھیرو اور ٹوکیو میں‘یا پھر کچّا گڑھی افغان بستی اور حامد کرزئی کے محل میں ۔برطانوی جمہوریت کو چار نکات میں سمجھا جا سکتا ہے۔
پہلا: ایک آدمی ایک ووٹ کا ایسا نظام جس میںپولنگ سٹیشن پر پولنگ آفیسر اور نہ ریٹرننگ آفیسر کا کوئی کردار ہے۔جس کا ووٹ وہی ووٹ ڈالے‘ اور انتخابی نتیجہ بھی وہی ہو گا جو عوام چاہیں ۔
دوسرا: دارالعوام اور ہاؤس آف لارڈز میں گلیاں ،نالیاں، سڑکیں ،ایل این جی،سی این جی ،جنگلہ بس جیسے پروجیکٹ اور ان کے ٹھیکیداروںکا داخلہ مکمل بند ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے دونوں ایوان سُرخ بیوروکریسی، سُرخ فیتے اور گوری قیادت کو سیدھا کرنے کے لیے پالیسی اور ریاستی فیصلوں پر نظر رکھتے ہیں۔ دارالعوام میںوزیراعظم کی حیثیت ''پنچنگ بیگ‘‘ والی ہے۔ جو رکن چاہے مُکا لگائے یا دھکا۔ سوال وزیروں سے نہیں وزیراعظم سے پوچھے جاتے ہیں‘ جواب وزیراعظم ذاتی طور پر دینے کا پابند ہے۔ہر سوال پروزیراعظم اپنی سیٹ پرکھڑا ہو تا ہے‘ ہر جواب پر ضمنی سوال بھی اُٹھتا ہے۔
تیسرا: اس جمہوریت میں بیروزگار مقامی شہری ہوں یا پناہ گزین‘ دونوں کو سرکاری وظیفہ ملتا ہے ۔ہر نئے شادی شدہ جوڑے کو بلدیاتی ادارہ ''سِٹی کونسل‘‘ فلیٹ کی چابی گھر آکردیتی ہے۔ سستی ٹرانسپورٹ، فول پروف سکیورٹی، صحت عامہ، زندگی بچانے سے متعلقہ ایمرجنسی کے لیے فوری رسپانس والا نظام۔
چوتھا: ہر نمائندہ اپنے حلقے میں ہی رہتا ہے۔جمعہ کو مسجد یا اتوار کو چرچ میں جا کر عوام کے سامنے جوابدہ ہے۔کوئی رکن پارلیمنٹ مسلح محافظوں کی فوج کے ساتھ نہیں گھومتا۔ دارالعوام‘ ہزار سالہ پرانی جمہوریت کا ایوان‘ لکڑی کے پھٹوں والی کرسیوںپر مشتمل ہے۔اکثر ارکان کھڑے ہو کر کارروائی میں حصہ لیتے ہیں۔سپیکر ممبران سے دو فرلانگ اونچا ہو کر نہیں بیٹھتا ۔نہ ہی برطانوی وزیراعظم نوکروں کے لشکر میں دارالعوام کے دروازے تک آتا ہے۔
اس کے مقابلے میں ہم کیا ہیں؟ہماری جمہوریت کیسی ہے؟ پارلیمنٹ کی سرگرمیاں کیا ہیں اور وہ سپوت جو پارلیمنٹ پہنچتے ہیں‘ وہ کیا مقاصد لے کر اقتدار میں آتے ہیں، 67 سالوںسے سب جانتے ہیں۔
برطانیہ کی آئرن لیڈی وزیراعظم تھیچر نے عملی طور پر آئر لینڈ کا مسئلہ حل کیا۔ وہ ایک ایسے گھر میں رہتی تھی جس کا کل رقبہ ہمارے وزیراعظم ہاؤس کے کچن سے چار گنا چھوٹا ہے ۔ہمارے صدر ہاؤس کے پِنک روم سے بھی بہت چھوٹا۔جس میں کھانے کی میز ہماری وزارتِ خزانہ کے استقبالیہ کاؤنٹر سے پانچ گنا چھوٹی۔ وزیراعظم برطانیہ کا کمرہ ہمارے کسی بھی لیڈر کے سرونٹ کوارٹر جتنا بھی نہیں۔10ڈائوننگ سڑیٹ والا وزیراعظم ہاؤس بے رعب اور بے حیثیت ہی نہیں بلکہ انتہائی بے مزہ بھی ہے۔نہ سوئمنگ پول ،نہ واکنگ گراؤنڈ ،نہ سوانہ روم، نہ سٹیم کاغسل خانہ، نہ کُلّے والے چپڑاسی، نہ شیروانیوں والے خادم ،نہ کورنش ،نہ آداب ،نہ سلیوٹ۔ ڈیوڈ کیمرون کا وزیراعظم ہاؤس تو ''تھانہ ٹبی‘‘ سے بھی گیا گزرا ہے۔ برطانیہ کے جمہوری نظام میں اکثر نوآبادیاتی غلاموں کے بچے،پوتے، پڑپوتے گھس بیٹھے ہیں۔ کوئی کالا ،کوئی پیلا،کوئی رنگدار سب الیکشن لڑ کر جیت سکتے ہیں۔جارج گیلو ے جیسا عالمی چہرہ غیر معروف کشمیری دوشیزہ ناز شاہ کے سامنے شکست کھا کر بھی بد مزہ نہیں ہوتا ۔
حالیہ الیکشن کے دوران ایک برطانوی ٹی وی نے ووٹروں کا سروے کیا ۔بڑا سوال یہ تھا کیا آپ گورے کو ووٹ دیں گے یا تارکین ِ وطن کو؟جواب میں ایک خاتون نے کمال کر دیا ۔کہنے لگی: میرا جوتا چین کا بنا ہوا‘ پاجامہ سپین کا ،شرٹ مصر ی کاٹن کی، میرا گرم مصالحہ ہندوستان سے آتا ہے‘ میں جاپانی گاڑی چلاتی ہوںجبکہ سوئٹزر لینڈ کی گھڑی بھی باندھتی ہوں، میری منگنی کی انگوٹھی دبئی سے خریدی گئی‘ میرے ہاتھ میں امریکی کتاب ہے اور گلے میں جرمنی کا رومال۔آپ بتائیں میں کس کو اجنبی سمجھوں؟ اس لیے میرا ووٹ اچھے امیدوار کو جائے گا۔اگر گورا امیدوار اچھا نہیں تو میری چوائس کالا ہو گا یا رنگدار ۔
فرنگی اور پاکستانی جمہوریت میںاس سے اچھا فرق کوئی اور واضح نہیں کر سکتا جتنا برطانیہ کی ووٹر لڑکی نے کر دیا۔ذراغور کیجیے گا، کیا ہم ووٹ دیتے وقت امیدوار کی اہلیت دیکھتے ہیں یا برادری؟ ہمارا ووٹ صلاحیت کے بل پر پڑتا ہے یا زبان ،علاقے اور فرقے کے تعصب کے نتیجے میں؟کُھلے دل سے سوچ کر ایمانداری سے تجزیہ کریں توفرق صاف ظاہر ہو جائے گا ۔
اب آئیے دوسرے سوال کی طرف یعنی برطانیہ اور پاکستان کی لیڈر شپ پر تبصرہ۔
برطانیہ میں کبھی وزیراعظم کا بیٹا یا بیٹی آج تک وزیراعظم نہیں بن سکے۔تازہ ترین بینڈ برادرز کا معاہدہ آپ کے سامنے ہے ۔اگر ایک بھائی وزیراعظم بنے گا تو دوسرا استعفیٰ دے دے گا ۔دوسری جانب ذرا ''پنجابی بینڈ‘‘ دیکھ لیں ۔بڑے بھائی صاحب کے خیال میں چھوٹے خادمِ اعلیٰ سے بہتر وزیراعلیٰ نہ ترکی میں، نہ چین میں اور نہ ہی سعودی خاندان کی حکومت میں۔یہ دوسری بات ہے کہ ترکی ،چین اور سعودیہ میں وزیراعلیٰ ہوتا ہی نہیں ۔ دو سال پہلے تک چھوٹے خادم صاحب کہتے تھے میرے سلطان جیسا پورے جہان میں کوئی نہیں۔آپ سوچ رہے ہوں گے میں نے دو سال پہلے کا ذکر کیوں کر دیا۔آپ یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ آج کل چھوٹے خادمِ اعلیٰ، خادمِ اعظم کی تعریف کیوں نہیں کر تے؟پہلی بات تو یہ ہے کہ دو سال پہلے وہ انتخابی تقریریں کررہے تھے ۔ہم جانتے ہیں اگر کوئی شخص لمبے وعدے یا اونچے دعوے کرے تو سننے والا فوراً کہتا ہے‘ چھوڑ یار الیکشن والے وعدے نہ کر۔ آج کل خادمِ اعلیٰ اور میرے سسرالی گاؤں سے تعلق رکھنے والے وزیرداخلہ ''عین ایک‘‘ صفحے پر ہیں۔ان دونوں کے مقابلے میں وزیراعظم ہاؤس کا صفحہ چِٹا سفید خالی ہے۔ شاید اسی لیے اطلاعات کے خانے میں لکھا ہے ، فوج کو بُرا بھلا کہہ کر ''سوری‘‘ کہہ دینے سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ یہ وہی صفحہ ہے جہاں کچھ عرصہ پہلے لکھا گیا، ہم دلیل کے مقابلے میں غلیل والوں کا ساتھ نہیں دیں گے۔اسی صفحے پر تازہ فرمان یہ آیا کہ سارے ملک کے دینی مدرسے دہشتگردی کی یونیورسٹیاں ہیں۔ ابھی مدرسوں کا ذکر ہوا۔مسجد ،پیر خانے ،مُرشد اور مولانا سمیت یوںلگتا ہے ہر درس گاہ ،عبادت گاہ میں علم چند خاندانوں پر نازل ہوتا ہے۔ ویسے تو ابدی حقیقت یہ ہے کہ علم کسی کی میراث نہیں سوائے ایمان والوں کے۔لیکن کیا ایک ہی گھر کے مولانا ،مرشد اور امیر صاحب ہی عالم فاضل ہیں باقی بے علم یا بے دین؟ یہ پاکستانی لیڈر شپ کے رول ماڈل ہیں‘ قیامِ پاکستان کے بعد جن کی تین نسلیں مذہبی،روحانی اور سیاسی اداروں میں برسرِ اقتدار ہیں۔یہ ان ساروںکی مہربانی ہے کہ آج پاکستان میں عام گھرانوں اور غریبوں کی نوجوان نسل، قوت، طاقت اور اختیارحاصل کرنے کے متبادل ذرائع کی تلاش میں ہے۔کبھی ہم نے غور کیا کہ منظم جرائم ،وحشت گری اور گینگ وار میںصرف عام آدمی کے بچے کیوںشامل ہوتے ہیں۔کسی بڑے کا کوئی بڑا اس جنگ کا ایندھن نہیں بنتا‘ حالانکہ بڑے بڑے پوری خوشی بلکہ خوشحالی کے ساتھ پاکستان میںپرائی جنگ امپورٹ کرتے ہیں۔
دنیا بھر کے قوانین میں جتھے ،گروہ اور انجمنِ مفاد باہمی کے ہرکارے ''مافیا‘‘ کہلاتے ہیں۔ہمارے ہاں یہی کام کرنے والے مقدس لبادے، نام اور حلیے میں ملیں گے ۔کوئی خادم عوام اور کچھ خادمِ اسلام ‘ لیکن مذہب خانوں میں بانٹ دیا گیا ۔ عوام تقسیم در تقسیم کی کھائی میں گرتے ہی چلے جاتے ہیں ۔ہمارے ریاستی نظام کے4 پارٹنر ہیں۔ مقامی طور پر وہ طبقے جن کا ذکر اوپر آیا۔ دوسرے وہ طاقتیں جن کو اپنے مطلب کی مارکیٹ دستیاب ہے۔ تیسرا آئی ایم ایف اور چوتھا عالمی بینک۔
تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو آپ کو یہ سارے کردار اپنے درمیان چلتے پھرتے نظر آئیں گے۔یہ دوسری بات ہے عوام بے گھر ہوں گے لیکن محل سراؤںکے یہ پرندے جہازوں اور لینڈ کروزروں سے بھی اوپر۔
خدایا، یہ مظالم بے گھروں پر
کوئی بجلی گِرا فتنہ گروں پر