کروڑ روپے کی تقریر

کراچی میں سابق صدر آصف زرداری نے وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کیوں نہیں کی؟ اور شہباز شریف صاحب کوایک دفعہ پھر گلے میں رسہ ڈالنے والی بات پر معافی مانگنے کی ضرورت کیسے پیش آئی؟ اس سے پہلے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدارتی خطاب پر زیادہ دلچسپ بات آپ کو سناتا ہوں۔گزشتہ روز ممنون و مشکور صدر ممنون کی مشکور تقریر نے وہ بات یادکروائی۔یہ صدر زرداری کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اولین تقریر تھی۔
مجھے معلوم نہیں تھا کہ صدر ہائوس کا لنچ اس مقصد کے لیے ہو رہا ہے۔میں تلہ گنگ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرنے گیا ہوا تھا‘ اس لیے دیر سے واپس اسلام آباد پہنچا۔صدر ہاؤس میں داخل ہوا تو آگے پولیس کی اصطلاح میں دو شخصیات کی چھتر پریڈ نما ''تربیتی نشست‘‘ شروع تھی۔ پتہ چلا کہ دونوں نے صدارتی تقریر کے لیے مفت مشورے دیے تھے۔ صدر کی تقریر آئین کا تقاضا ہے جسے سال میں ایک مرتبہ پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ویسے بھی پاکستان کی پارلیمانی عمارت کے تین ستون ہیں۔ ہائو س آف فیڈریشن یعنی سینیٹ،قومی اسمبلی اور صدرِ پاکستان ۔اسی لیے ''اس تقریر کی تیاری، مواد اور ڈیلیوری صدر کے عہدے کے شایانِ شان ہونی چاہیے‘‘۔ میں نے یہ الفاظ کہہ کر ''چھتر پریڈ‘‘ والوں کو رہائی دلوادی۔ پتہ چلا صدر نے میرے لیے دال چاول اور اپنی بکری کے دودھ کا دہی بنوا رکھا ہے۔ کھانا کھانے کے بعد پھر تقریر کا موضوع شروع ہوا ۔ میں نے کہا پہلے روسٹرم منگوایا جائے چنانچہ روسٹرم آیا۔ صدر صاحب نے فی البدیہہ معقول حد تک اچھی تقریر کر دی۔
پچھلے صدر اور موجودہ صدر کی پارلیمانی تقریروں میں کئی حوالے سے فرق موجود ہے ۔سابق صدر کی تقریر کے وقت اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار اور ن لیگ مخالفانہ حکمت عملی بنا کر آتے تھے۔تقریر سے پہلے سپیکر سے تُو تڑاک،تقریر کے دوران نعرے بازی ہوتی تھی‘ جس کے ذریعے میڈیا اور عوام سمجھتے تھے کہ نہ صرف پارلیمنٹ متحرک ہے بلکہ اپوزیشن ابھی زندہ ہے۔حالیہ صدارتی تقریر صحیح معنوں میںمردہ پارلیمنٹ کا نوحہ تھی۔اپوزیشن کی طرف سے مُک مُکا کہاں تک پہنچا ہے‘ اس کی ایک جھلک ملاحظہ فرما لیجیے۔
پارلیمنٹ کے اس مشترکہ اجلاس کے لیے میری نشست سفارتی گیلری اور فوجی سربراہان کی نشستوں کے عین سامنے قطار میں پہلے نمبر پر تھی۔میں نے اجلاس شروع ہونے سے پہلے مذہبی سیاست کرنے والی پارٹی کے ایک لیڈر صاحب سے کہا‘ آئیے مل کر میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتلِ عام پر احتجاجی آواز اٹھائیں ۔یہاں سارے سفارتی مشن بیٹھے ہوئے ہیں۔ لہٰذا یہ آواز اٹھانے کے لیے بھرپور اور مناسب ترین موقع ہے ۔پھر میں نے موصوف کو سوشل میڈیا پر چلنے والی ان مظلوم انسانوں کی تصاویر کے بارے میں بتایا۔ جناب نے پہلے میرے سوٹ کی تعریف کی پھر کہا کہ ابھی مشورہ کرتے ہیں۔اس کے 15منٹ بعد صدر کی تقریر شروع ہو گئی۔
میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ میانمار کے مسلمانوں کے نام پر چندے اکٹھے کرنے والے ذاتی مفاہمت میں چھاتی تک نہیں بلکہ گردن تک گڑے ہوئے ہیں‘ بالکل ویسے ہی جس طرح مسلمانوں کی تقدیر کے مالک اور فرنگیوں کے دست بستہ غلام ،ہر نئے دن ذاتی حکمرانی اور خاندانی جاہ و جلال چِھن جانے کے خوف میں تھر تھر کانپ رہے ہیں۔صدر کی تقریر میں خارجہ پالیسی کی تعریف ایسا مرحلہ تھا جس پر میں نے اور پی ٹی آئی کے ڈاکٹر امجد آف میانوالی ،جمشید دستی اور کئی دوسرے ارکان نے با آواز بلند توبہ استغفار کی۔جس ملک کے پاس اپنا وزیرِ خارجہ ہے ہی نہیں اس ملک کے صدر کی طرف سے وزارتِ خارجہ کے حُسن ِ کارکردگی پر شاندارخراجِ عقیدت سال کا بہترین لطیفہ کہلا سکتا ہے۔لیکن صدر کی تقریر لکھنے والے ''ظالم نگار‘‘ نے اگلے فقرے میں لکھ رکھا تھا ''ہم سب ہندوستان سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں‘‘۔ ایک لمحے کے لیے خیال آیا کہ پاکستان کا صدر تو پاکستان کی مسلح افواج کا کمانڈر انچیف بھی ہے۔اسی ہفتے بھارت کے صدر پرناب مکھرجی نے انڈیا میں گائے اوردُنبے کا گوشت کھانے سے لوگوں کو منع کیا اور کُھل کُھلا کر ہندوتوا کا ساتھ دیا‘ جبکہ بھارت کے وزیرِ دفاع منوہر پریکار نے پاکستان کے اندر دہشتگردی کروانے کا اعتراف بھی کیا اور اعلان بھی۔ہم سب نے سوچا کہ ہمارا صدر بھارت کو منہ توڑ جواب دے گا‘ لیکن صدر کی تقریر میں منہ توڑنے والی کوئی بات نہیں تھی بلکہ منہ بسورنے والی باتیں بہت تھیں۔
امریکہ کا صدر اپنے ریڈیو خطاب میں لوگوں کے مسائل پر روشنی ڈالتا ہے‘ ان کے حل کے لیے روڈ میپ دیتا ہے ۔ پھر عوام کے کٹہرے میں کھڑا ہو کر یہ بھی بتاتا ہے کہ اس کی راہنمائی میں عوام کو کتنا اور کہاں کہاں ریلیف ملا۔اسی طرح یہی صدر اپنے ریاستی خطاب میں ملک کی طویل المدتی پالیسی، اہداف اور ویژن قوم سے شیئر کرتا ہے۔یہ والی تقریر ویژن سے عاری ،قومی پالیسیوں سے خالی اور عوامی ریلیف سے دامن بچا کر نکل گئی۔ ویسے ہی جیسے جمہوریت آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن کی نمائندہ تنظیم ایپکا کے مطالبات سے کَنی کترا گئی۔ایپکا کے پُرامن دھرنے کے ساتھ حکومت نے وہی سلوک کیا جو شاہراہِ دستور پر ہونے والے ہر دھرنے کے ساتھ کرتی آئی ہے۔
صدر کی ایک تقریر قوم کو کم از کم ایک کروڑ روپے میں پڑتی ہے۔اگر صدر اس اہلیت یا مینڈیٹ سے ہی عاری ہو کہ وہ قومی امور پر کوئی آزادانہ رائے دے سکے تو پھر ایسی تقریر کا کیا فائدہ؟صدر عہدے کے اعتبار سے وزیراعظم سے برتر ہے۔وزیراعظم سربراہِ حکومت ہے جبکہ صدر سربراہ ِریاست ۔مجھے اچھی طرح سے یاد ہے اٹھارہویں آئینی ترمیم پاس ہونے کے بعد صدر کا عہدہ بظاہر اختیارات سے خالی ہو گیاتھا‘ اس کے باوجود قوانین کے اسلامی تشخص کامعاملہ ہو یا ناموسِ رسالت کا مسئلہ، پھانسی کی سزا کے خاتمے کا سوال ہو یا آغازِ حقوقِ بلوچستان‘ ہر اہم قومی یا ریاستی پالیسی سازی پر صدر ہاؤس نے کبھی وزیراعظم کی ایڈوائس کے سامنے سر جُھکا کر ہاں نہیں کی‘ بلکہ ہر بڑے معاملے پر صدر اور اس کی رائے نظر آتی تھی۔ پارلیمنٹ کے ایک سال بعد منعقد ہونے والے خاص مشترکہ اجلاس میں اگر حکومت کی تعریف ہی مقصود ہے تو اتنے خرچ اورترّدُد کی کیا ضرورت ہے؟سرکار وزارتِ اطلاعات کے کسی پسندیدہ رپورٹر سے اپنی تعریف کروا لیا کرے۔
کراچی میںخادمِ اعلیٰ پنجاب کو سابق صدر کے گھر شرف ِباریابی نہ ملنے کی ''اصلی تے وڈی‘‘ وجہ ایک ہے ۔وہ ہے بلاول کی واپسی۔یہ واپسی کیسے ہوئی اس بارے میں ایک انگریزی اخبار نے داستان نویسی بھی پیچھے چھوڑ دی۔کل سپریم کورٹ سے نکلا تو آصف زرداری کا ایس ایم ایس تھا ''کال کر رہا ہوں اٹھاتے کیوں نہیں...؟‘‘ پھر بات ہوئی اور داستان گوئی کی وجہ بھی پتہ چلی۔یہ کہانی پھر کبھی سہی۔ چلتے چلتے اتنا جان لیجیے کہ ایک بیورو کریٹ نے پاکستان کے انرجی بحران اور پانی بحران کے خاتمے کی تجویز دی تھی ۔ساتھ یہ بھی کہا بجٹ میں کالا باغ ڈیم کے لیے رقم مختص کرو۔ بیچارہ بیورو کریٹ ابھی تک دو طرح کے زخم چاٹ رہا ہے۔ پہلے جو آئی ایم ایف نے لگائے تھے اور دوسرے جو مفاہمت کے چُھرے سے آئے۔
کسی سے حالِ دل زار مت کہو سائیں
یہ وقت جیسے بھی گزرے، گزار لو سائیں
اکیلے جاگتے رہنے سے، کچھ نہیں ہو گا
تمام خواب میں ہیں، تم بھی سو رہو سائیں

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں