نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پنجاب کے 2 اضلاع کےاسکولوں کے شیڈول میں توسیع
  • بریکنگ :- 50فیصد حاضری 15 فروری تک جاری رکھنےکا اعلان، وزیرتعلیم پنجاب
  • بریکنگ :- اسکولوں میں 31جنوری تک 50 فیصدحاضری کا نوٹیفکیشن جاری ہواتھا
  • بریکنگ :- لاہوراورراولپنڈی میں بچے 50فیصدتک حاضرہوں گے، مرادراس
  • بریکنگ :- ساتویں سے12ویں تک کی کلاسزپرانےشیڈول کو برقراررکھیں گی،مرادراس
Coronavirus Updates

یہ شہر اداس اتنا زیادہ تو نہیں تھا!

کراچی پاکستان کا معاشی دارالحکومت ہے، اور اداس اتنا کہ شاید ہی پاکستان کا کوئی اور شہر اس کیفیت میں مبتلا ہو۔ لفظ ''اداسی‘‘ ایک استعارہ ہے۔ جب یہ کراچی کے حوالے سے استعمال کیا جاتا ہے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ روشنیوں کے اس عظیم شہر‘ جہاں بانی ٔ پاکستان، عظیم قائد نے آنکھ کھولی، آج ہر طرح کے مسائل کا شکار ہے۔ مورخہ پانچ اور چھ اگست کو ایک سیمینار اور ایک شادی کے سلسلے میں کراچی میں قیام ہوا تو بارش نے بعد شہر کی زبوں حالی نے دل کو بہت رنجیدہ کیا۔ اربوں کا روپے کا محاصل دینے والا شہر بنیادی سہولتوں کو ترس رہا ہے اور اس کے سر پر خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ اس کی بہار بے کل، اس کا ساون ایک طوفان۔ عوا م کبھی آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو کبھی اپنے حکمرانوں کی طرف، اور پھر اپنی قسمت کو کوستے ہیں، یہاں تک کہ ایک اور دن بیت جاتا ہے۔ 
اتنے پھیلے ہوئے شہر کے لیے نہ سرکلر ٹرین، نہ جدید انڈر گرائونڈ ریل کا کوئی انتظام۔ صحت اور صفائی کے لیے ترستے ہوئے عوام اور ننھے بچے سکول جانے کے لیے ناکارہ بسوں اور ویگنوں پر سوار ہوتے ہیں۔ کہاں وہ شہر جہاں میں نے 1980ء میں کل وقتی صحافی کے طور پر امن و امان اور خوشحالی کا دور اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کئی راتیں دوستوں کے ساتھ دیر تک سڑکوں پر بلا خوف مٹر گشت کرتے گزاریں۔ یہ پاکستان کا واحد میٹروپولیٹن شہر تھا۔ آج وہ کراچی کہاں کھو گیا جہاں معقول ٹرانسپورٹ تھی، خوشحالی کا دور دورہ تھا، ہر ایک کے لیے روزگار تھا، امن تھا‘ راتیں جاگتی تھیں اور دن کو زندگی رواں دکھائی دیتی تھی۔ یہ غریب پرور شہر ہر آنے والے کے لیے دامن دل وا رکھتا تھا۔ لوگ خالی ہاتھ آتے اور جیبیں بھر کر لے جاتے۔ اب دولت کے انبار تو ہیں مگر محض چند ہاتھوں میں۔ اب یہ ارتکاز انکار کے پیرائے میں ڈھل چکا، میزبانی کے معانی بدل گئے، سیاست نے سماج کو نگل لیا۔ 
مسائل پاکستان میں ہر جگہ موجود ہیں لیکن اس معاشی شہ رگ میں کیوں؟ اس شہر میں لاکھوں انسان سطح غربت سے نیچے رہ رہے ہیں۔ غلاظت‘ اور غلاظت کے انبار، گندگی اور گندگی کے پہاڑ، جرائم اور جرائم کی نہ کوئی حد نہ شمار، یہ سب آج کے کراچی کا اصل چہرہ ہے، اور پھر اس کے وسائل نوچنے کے لیے اس پر ہر طرح کے مافیا کا راج، ریاستی مافیا، سیاسی مافیا، نجی غنڈوں کا مافیا۔ شہر کی اداسی ہمہ جہت ہے۔ یہ سیاسی، سماجی اور معاشی تو ہے ہی، یہ نفسیاتی بھی ہے۔ لوگ ہمت ہار چکے ہیں، اور نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ مزاحمت کے لفظ سے بھی ناآشنا ہیں۔ ایک تقریب میں لاکھوں کا خرچہ کھانے پر دیکھا تو دوسری طرف ایک گھر میں برساتی پانی کے آ جانے سے دو دن تک کھانے کا ایک دانہ بھی نہ تھا۔ ہر طرف بھوک کا خوف تھا۔ دیہاڑی دار پریشان تھے کہ اگر مزید کچھ دن تک بارش جاری رہی تو کام کہاں ملے گا؟ نومنتخب وزیر اعلیٰ نے فرمایا۔۔۔ ''مجھے لوگوں کے درد کا احساس ہے۔‘‘ کاش درد مند دل کا احساس شہر کے درد کو دور کرنے میں عملاً بھی فعال دکھائی دے۔ بارش کے بعد بہت سے پوش علاقوں میں بھی گھٹنوں تک پانی کھڑا تھا۔ نکاسیء آب کے نظام کا فقدان، کوڑے کرکٹ اور کچرے کے ڈھیر دیکھ کر احساس ہوا کہ یہ شہر اداس، ''لاوارث‘‘ بھی ہے۔ اگرچہ نومنتخب وزیر اعلیٰ سندھ نے جگہ جگہ دورے کیے اور شہر کی سڑکوں سے پانی نکالنے کی ہدایات
جاری کیں مگر یہ کام محض نصیحت اور ہدایت سے نہیں ہو سکتا۔ نکاسیِ آب کے لیے جو کام کیے جانے تھے، وہ تو کبھی ہوئے نہیں۔ لوگوں کو ایک معقول ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کے لیے کبھی کوئی سنجیدہ کام کیا نہیں کیا گیا۔ خون خرابہ، سیاسی کشیدگی، قتل و غارت، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، دہشت گردی، سٹریٹ کرائمز، کس کس بات کا تذکرہ کیا جائے۔ اس اداس شہر، جسے شہر قائد بھی کہا جاتا ہے، کو کون ساگھائو نہیں لگا، کون سا بار ہے جو اس کے شانوں پر نہیں لادا گیا، کون سی اذیت ہے جو اسے نہیں پہنچائی گئی۔ 
اس میںکوئی شک نہیں کہ کراچی میں امن و امان کی صورت حال خاصی حد تک بہتر ہوئی ہے۔ یہ بات ہر مکتبہ فکر کے ہونٹوں پر تھی‘ مگر رینجرز کے ذریعے ''عارضی قیام امن‘‘ کو کس طرح مستقل کیفیت میں بدلا جائے؟ یہ سوال سب کی زبان پر تھا۔ معاشی ترقی بذریعہ نئی صنعتوں کے قیام اور پرانی کی بحالی... روزگار کے نئے مواقع... بجلی اور پانی کی سہولیات اور سب سے ضروری، سرمایہ کاری کے موضوع پر سیمینار میں سب ماہرین نے محصولات کے نظام کو منصفانہ اور قابل قبول بنانے پر زور دیا۔ سب کا اصرار تھا کہ حکومت کو معاشی ترقی پر زور دینا چاہیے۔ معاشی ترقی کا ثمر محصولات میں اضافے کی صورت ہو گا۔ کاش محترم فنانس منسٹر مزید ٹیکس کی بجائے مزید ترقی کی طرف توجہ دیں کیونکہ اس کے نتیجے میں ہی محصولات بڑھیں گی‘ لوگوں کو روزگار ملے گا اور بدامنی ختم ہوگی۔ بدامنی اور بھتہ خوری کی وجہ سے سرمایہ کار اس شہر کا رخ کرنے سے کتراتے تھے، لیکن اب اُن کا اعتماد بحال ہونا چاہیے۔ امن و امان کی بحالی کا بیرومیٹر سرمایہ کاری کی آمد کو مانا جائے۔ 
امن و امان کے مسئلے کی ایک بنیادی وجہ معاشی ناہمواری اور غربت بھی ہے۔ وہ نوجوان‘ جو تعلیم یافتہ اور بے روزگار ہوتے ہیں‘ مافیاز کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ جرائم کی دنیا میں معاشی مجبوری کے عمل کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی میں لوگوں کی اکثریت معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ اس شہر کی اداسی میں اس پہلو کی اہمیت کو ہی زیر بحث لایا جاتا ہے ۔ اگر ہم امن و امان کے مسئلے کا حل‘ دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کو درپیش دیگر مسائل کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ہر حال میں نظام محصولات کو درست کرکے عوام سے اکٹھے کیے گئے اربوں روپوں کو ان کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا ہو گا۔ بندوق اور گولی سے مستقل اداسی اور محرومی کا علاج ممکن نہیں۔ 
کراچی اور تمام بڑے شہروں میں لوکل گورنمٹ کا نظام، جو مقامی لوگوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرے اور مقامی پولیس کے نظام کے ذریعے امن و امان کا قیام ممکن بنائے، لائے بغیر موجودہ صورت حال میں مستقل بہتری ممکن نہیں۔ کراچی شہر پر چھائی اداسی اس یوم آزادی پر ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ حکمرانوں کو اب مزید وقت ضائع کیے بغیر معاشی ناہمواریوں کو دور کرنا چاہیے۔ معاشی ترقی کا حصول بھی تبھی ممکن ہے جب ہم سب لوگوں کو ساتھ لے کر چلیں، اور اُنہیں نہ صرف روزگار فراہم کریں بلکہ اُن کے کام کا جائز معاوضہ بھی یقینی بنائیں۔ معاشی انصافی مسائل کی جڑ ہے اور جرائم کا جواز۔ اسے ختم کرنا ہو گا۔ امید ہے کہ نئی سیاسی قیادت اس یوم آزادی پر نیا عزم کرے گی اور کراچی کو پاکستان کا ایک مثالی عالمی شہر بنانے کا آغاز کیا جائے گا۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں