سلیوٹ

ماں نے کہا: وہ تو ابھی پوری طرح بول بھی نہیں سکتی، وہ توتلی بھی ہے اور اس کی باتوں کو میرے سوا نہ کوئی سمجھ سکتا ہے نہ بتا سکتا ہے کہ وہ کیا کہہ رہی ہے؟ وہ کیا کہنا چاہتی ہے؟ اس نے ان چار سالوں میں مجھ سے چار باتیں بھی نہیں کیں، پانی مانگنا ہو تو زبان نکال لیتی ہے اس کا مطلب میں سمجھ جاتی ہوں کہ اسے پیاس لگی ہے، دو تین دفعہ زبان نکالے تو میں سمجھ جاتی ہوں کہ اسے بہت بھوک لگی ہے، اس کے علاوہ اس نے آج تک نہ کچھ اور کہا ہے نہ اسے پتا ہے کہ کیا کہنا ہے۔ سب چپ بیٹھے تھے جیسے ان کے منہ میں زبان نہیں ہے یا وہ صدیوں سے گونگے ہیں۔ مجھے کیا علم تھا جب میری چار سالہ بچی بات کرے گی تو یہ کہے گی کہ ''انکل نے میرے ساتھ گندی حرکت کی ہے‘‘۔ یہ پولیس سٹیشن کشمور ہے جہاں ایک ماں ڈر ڈر کر بات کر رہی تھی۔ ایک طرف یہ ظلم جو اس پر اور اس کی بیٹی پر ہوا‘ دوسری طرف پولیس کا خوف کہ پتا نہیں یہ پولیس والے اس ظلم کی کہانی کو سچ مانیں گے بھی یا نہیں‘ مگر ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں‘ جن کی وجہ سے انسان کی توقیر باقی ہے۔ 
یہ کہانی اس ننھی بچی کی ہے جس کو بات کرنا بھی پڑی تو کس واقعے سے متعلق؟ اپنا مطلب بیان کرنابھی پڑا تو کن لفظوں سے؟ اُس کی ماں حیران، سراسیمہ اور ڈری ہوئی اپنی چار سالہ معصوم بچی کو دیکھے جا رہی تھی کہ اسے کیسے زبان مل گئی؟ یہ کیسے اپنا دکھڑا بیان کرنے پر قادر ہو گئی؟ اسے تو امی اور ابو بھی ٹھیک طرح سے کہنا نہیں آتا تھا۔ اس معصوم نے کیسے بتایا کہ اس پر کیا قیامت گزری ہے اور وہ کون سا ظلم ہے جو اس پر روا نہیں رکھا گیا؟ ماں اور بیٹی کو کراچی سے نوکری کا لالچ اور جھانسہ دے کر پندرہ دنوں تک نہ صرف حبس بیجا میں رکھا گیا بلکہ خاکم بدہن کچھ کہتے ہوئے‘ کچھ لکھتے ہوئے ضمیر لعن طعن کرتا ہے اور الفاظ اور جملے جیسے اتنی ہمت نہیں پاتے کہ وہ کچھ بیان کر سکیں جو پنجاب، کے پی، اور سندھ و بلوچستان کے سنگم پر ہوا۔ یہ سانحہ وہاں ہوا‘ یہ قیامت ایسی جگہ پر آئی جہاں چاروں صوبوں کی سرحدیں ملتی ہیں۔ چار صوبے جو مل کر ملک کہلاتے ہیں‘ ملک جو اللہ اور اللہ کے رسول کے نام پر قائم ہوا‘ ملک جو مشہور ہی مملکت ِ خداداد کے نام سے ہے۔ 
کشمور کراچی سے چھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر ہے جہاں پہنچنے کے لیے جناح ہسپتال میں ملازمہ کو اپنی بیٹی کے ساتھ یہ جان جوکھوں میں ڈالنے والا سفر کرنا تھا۔ اس کیس کا مرکزی مجرم (ملزم نہیں) رحمت اللہ، خیر اللہ یا مہر اللہ ہے اس کا کیا نام ہے؟ اس کے نام میں کیا رکھا ہے؟ وہ ایک سمبل ہے شقاوت کا‘ ظلم کا‘ کہ اس کا اصل نام ننگِ انسانیت ہے۔ لوگ اسے کسی نام سے پکاریں اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اس کو سبی سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اسی پولیس سٹیشن کے اہلکاروں نے اس سے پہلے بھی گڑھی لاڑو کے علاقے سے رکشہ ڈرائیور حبدار علی کو بھی اغوا کاروں سے بازیاب کروایا تھا۔ کشمور میں 'لیڈیز وائس گینگ‘ بھی کام کر رہا ہے جو عورتوں کی آواز میں لوگوں کو جال میں پھنسا کر اغوا کرتا ہے۔ ابھی چند دن قبل اسی پولیس فورس نے محمد داد کو اغوا ہونے سے بچایا۔ اس کے علاوہ بھی شول لانڈھی کے قریب کچے کے علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران ارباب ڈھانی کو بازیاب کروایا تھا۔ چار سالہ ننھی بچی کی ماں کو اس فرض شناس پولیس سے واسطہ پڑا تو تحفظ اور امان کا راستہ کھلتا چلا گیا۔ چونکہ ماں کچھ نہ کچھ پڑھی ہوئی تھی‘ وہ کشمور تھانے پہنچی اور اپنی بپتا اس شخص کو سنائی جس نے اس مظلوم عورت اور اس کی بچی کے لیے قربانی دینا تھی،قربانی اور وہ بھی اپنی بیٹی کی۔ 
دو سال قبل اسی طرح کا ایک کیس قصور میں پیش آیا جس میں زینب کو اسی طرح بے دردی سے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔ جرم تو ثابت پہلے ہی ہو گیا تھا مگر عدالت میں کیس چلنے کے بعد عمران نامی شخص کو پھانسی دی گئی۔ جنوری 2018 ء کی 4تاریخ کو غائب ہونے والی زینب کے ساتھ اسی طرح کا بہیمانہ اور ننگِ انسانیت سلوک کرنے والے عمران کو 16اکتوبر کو پھانسی دی گئی۔ مجرم تو اپنے کیے کے انجام کو پہنچ گیا مگر یہ دس ماہ زینب کی ماں اور باپ امین انصاری نے جس طرح سولی پر گزارے‘ اس کی سزا کون دے گا؟ جس اذیت سے اس کے والدین گزرے‘ اس کی سزا کیا ہو گی؟
اس کا قطعاً یہ طریقہ نہیں جو عمران کی گرفتاری کے بعد سابقہ پنجاب حکومت کے بڑوں نے پریس کانفرنس میں اختیار کیا تھا اور امین انصاری کو ساتھ نمائش کے لیے بٹھا کر کہا گیا کہ آپ نے صرف اپنے اطمینان کا اظہار کرنا ہے اور کسی قسم کی گفتگو کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کانفرنس میں جس طرح کرتا دھرتا صاحبان نے ہنس ہنس کر باتیں کی تھیں وہ آج بھی یاد آئیں تو زینب کا دکھ دوبارہ اسی شدت سے محسوس ہوتا ہے۔ اب کارپردازانِ حکومت کا فرض ہے کہ ایسے جرم کی ایسی سزا تجویز کی جائے جو دوسروں کے لیے عبرت ناک ہو اور آئے روز پیش آنے والے ایسے واقعات کا قلع قمع کیا جا سکے۔ زینب کے باپ نے اگرچہ مجرم عمران کی پھانسی پر اطمینان کا اظہار کیا تھا؛ تاہم اس کا یہ بھی کہنا تھا اور اس کا مطالبہ‘ مجرم کو سر عام پھانسی دینے کا منظور نہیں کیا گیا۔ 
اس سلسلے میں پہلی گزارش یہ ہے کہ پی ٹی اے ایسی تمام سائٹس پر فوری پابندی لگائے جہاں سے جنسی تشدد کی ترغیب ملتی ہے۔ سماجی حالات درست کرنے کی حقیقی سعی کی جائے۔ اس قسم کے جرائم کی بیخ کنی کے لیے قانون میں ایسی گنجائش پیدا کی جائے کہ ایسے معصوموں سے زیادتی کے کیسوں میں فوری انصاف ملے۔ اس سلسلے میں ملٹری کورٹس کا عوامی مطالبہ منظور کیا جائے تاکہ عام عدالتی نظام میں جس طرح رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں‘ ان سے بچا جا سکے۔ پولیس کا محکمہ پرانی ڈگر کے صدیوں پرانے اصولوں پر چل رہا ہے ان میں بھرتی کا طریقہ کار خالص میرٹ کی بنیاد پر ہو تا کہ اس نئے دور کے نئے تقاضوں سے اس محکمے کو ہم آہنگ کیا جا سکے۔ اب اس سلسلے میں کسی قسم کی دیر اور کوتاہی کی گنجائش نہیں، وہ جو انگریزی میں کہتے ہیں Enough is enough۔ اب بہت ہو چکا۔ بہت جگ ہنسائی ہو چکی، بہت کچھ لٹ چکا، اب کیا باقی رہ گیا ہے؟
محمد بخش برڑو نے ہمت، انسانیت اور شجاعت کی وہ داستان رقم کی ہے کہ اس گئے گزرے دور اور تمام سرکاری محکموں کے زوال اور پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرنے کے باوجود‘ خصوصاً محکمہ پولیس کی نااہلی، کرپشن، ناقص کارکردگی، ناانصافی، لاقانونیت، قبضہ گروپوں کی اعانت کرنے والی عادتِ ثانیہ، عدالتوں میں کذب بیانی، ناقص اور جان بوجھ کر غلط انداز میں تفتیش کرنے اور مجرم کو معصوم اور معصوم کو مجرم ثابت کرنے والی روٹین میں کوئی تو ایک ایسا آدمی ہے جس کے دل کے اندر باپ کی محبت اور ماں کی مامتا جیسے کومل جذبے موجود ہیں۔ یقینا ایسے اور بھی لوگ ہوں گے جن کی وجہ سے یہ محکمہ چل رہا ہے مگر جس طرح اس محمد بخش برڑو نے اپنی فرض شناسی کی مثال قائم کی ہے‘ وہ کم کم لوگوں کے نصیب میں لکھی ہوتی ہے۔ یہ محمد بخش برڑو واجبی تعلیم کا حامل نوجوان ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ فرض کی ادائیگی کے لیے تعلیم قطعاً بنیادی شرط نہیں ضمیر کے جگانے کے لیے تعلیم بھی ضروری سہی مگر اس سے بھی زیادہ ضروری باضمیر ہونا ہے۔ 
اے بہادر اور غیور محمد بخش برڑو محبت بھرا سلیوٹ‘ محبت بھرا سلام!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں