نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد : ‏وزیراعظم عمران خان کا ٹویٹ،ویڈیو بھی شیئر کی
  • بریکنگ :- ‏‏ ڈاکیومنٹری بنانے پر ٹیم کی لگن اور جذبہ قابل تعریف ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ‏ڈاکیومنٹری میں مسلمانوں کےعروج اور زوال کو دکھایا گیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہمارےنوجوانوں کو خاص طور پر اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے،وزیراعظم
Coronavirus Updates

ڈینگی کے وار

سانحہ اے پی ایس میں شہید ہونے والے حسن زیب کی والدہ اس وقت پشاور ہسپتال میں ایڈمٹ ہیں‘ کچھ روز قبل ہی ان کے شوہر کا انتقال ہوا تھا۔ زندگی ان کیلئے کبھی بھی آسان نہیں رہی مگر خود وہ اتنی شفیق ہیں کہ کبھی میں نے ان کے ماتھے پرشکن نہیں دیکھی۔ ہمیشہ ان کو صابر و شاکر پایا۔ اب ان کو ڈینگی ہوگیا ہے جس کے سبب وہ ہسپتال میں داخل ہیں اور اس وقت خاصی تکلیف سے گزر رہی ہیں۔ سب سے میری گزارش ہے کہ ان کیلئے دعا کریں، انہوں نے زندگی میں بہت سے مصائب کا سامنا کیا ہے۔ اب بس وہ صحت یاب ہوکر جلدی سے گھر آجائیں۔ ڈینگی کی وجہ سے ان کو تیز بخار اور کافی نقاہت ہے۔ راولپنڈی‘ پشاور اور لاہور جیسے شہروں میں ہر سال مون سون کے دوران اور اس کے بعد ڈینگی مچھر عوام پر حملہ آور ہوتا ہے۔ ایک بار کوئی بیماری ہمارے ہاں آجائے تو پھر جانے کا نام نہیں لیتی، دنیا بھر میں بہت سی ایسی بیماریاں ختم ہوچکی ہیں لیکن ہمارے ہاں اب بھی موجود ہیں۔ اس کی بڑی وجہ بروقت اقدامات کا فقدان ہے۔ دوسرا، ہماری انتظامیہ اور محکمۂ صحت کی سستی اور تساہل سے بھی معاملہ بگڑ جاتا ہے، جب انہیں علم ہے کہ ڈینگی کا سیزن آنے والا ہے تو کیوں نہیں وقت سے پہلے سپرے کرتے؟ ڈینگی کے انڈے‘ لاروا کو مچھر بننے سے پہلے کیوں نہیں مار دیتے؟ گنجان آباد علاقے اور نشیبی علاقوں میں‘ جہاں یہ مچھرپروان چڑھتا ہے‘ وہاں صفائی کیوں نہیں ہوتی؟ ایسے علاقوں میں مچھر مار سپرے کیوں نہیں ہوتا؟ اگر پہلے ہی یہ سب کرلیا جائے تو شاید ڈینگی اس شدت سے حملہ آور نہ ہو۔ اب ملک کے بہت سے علاقے اس کی لپیٹ میں آگئے ہیں اور کورونا کی وبا تو ہے ہی‘ اس پر مستزاد کہ اب ڈینگی بھی آگیا۔ اس وقت خیبرپختونخواکے کافی علاقوں میں ڈینگی پھیل چکا ہے‘ 21 اضلاع میں اس کے مریض سامنے آئے ہیں۔ رواں ماہ 338کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ پشاور شہر سے بھی بڑی تعداد میں کیسز سامنے آئے ہیں۔
پنجاب کی بات کریں تو یہاں اب تک 700سے زائد مریض سامنے آئے ہیں جن میں لاہور میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں بھی ڈینگی کے کیسز سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں اور دو لوگ اس مرض میں مبتلا ہو کر وفات بھی پاچکے ہیں۔ اب تک اسلام آباد میں 94 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق کراچی سمیت سندھ میں بھی ڈینگی کے کیسز سامنے آرہے ہیں لیکن اس حوالے سے ابھی اعدادوشمار میسر نہیں ہیں۔
ڈینگی کے باعث انسان مہک بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اگر اس کا علاج بروقت نہ شروع کیا جائے تو یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈینگی بخار ایک مخصوص مادہ مچھر کے کاٹنے سے ہی ہوتا ہے، اس مچھر کی ایک مخصوص پہچان یہ ہے کہ اس پر سفید دھبے ہوتے ہیں اور یہ دھبے اس کے جسم اور ٹانگوں پر انسان بغیر کسی خوردبین کے‘ آنکھوں سے بھی دیکھ سکتا ہے۔ یہ مچھر صاف پانی میں پروان چڑھتا ہے اور طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت حملہ آور ہوتا ہے۔ یہ مچھر گرم مرطوب علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ بہت عرصہ قبل یہ مچھر ٹائروں کے ذریعے بحری جہازوں سے دیگر ممالک سے پاکستان منتقل ہوا تھا۔ کچھ مچھروں کے کاٹنے سے ملیریا ہوتا ہے اور کچھ کے کاٹنے سے زیکا وائرس‘ جس سے بچوں کے سر چھوٹے رہ جاتے ہیں۔ کچھ مچھروں کے کاٹنے سے ڈینگی ہوتا ہے‘ اس لئے خود کو مچھر کے کاٹنے سے بچائیں۔ ڈینگی چھوت کا بخار نہیں ہے‘ یہ ایک مریض سے دوسرے کو نہیں لگتا البتہ ایک مچھر ڈینگی کا وائرس ایک مریض سے دوسرے مریض میں منتقل کر سکتا ہے تاہم صرف مادہ مچھر کے کاٹنے سے ہی انسان کو یہ مہلک بخار لاحق ہوتا ہے۔ ہر سال‘ پوری دنیا میں لاکھوں لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ جانبر نہیں ہوپاتے۔
ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے انسان تیز بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے ،جلد پر دھبے پڑجاتے ہیں، ہڈیوں میں درد ہوتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے، آنکھوں میں درد، قے، جوڑوں میں درد وغیرہ اس کی نمایاں علامات ہیں۔ اگر یہ بخار بگڑ جائے تو پیٹ میں درد، بے چینی اور گھبراہٹ جیسی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں جبکہ پلیٹ لیٹس میں شدید کمی ہونے کے باعث انسان کے جسم سے خون رسنے لگتا ہے اور پھر وہ کومہ میں چلا جاتا ہے ۔اس سٹیج کے بعد کم ہی مریض واپس زندگی کی طرف لوٹ پاتے ہیں۔ اگر آپ کو ڈینگی مچھر کاٹ جاتا ہے تو گھبرائیں ہرگز نہیں! بلکہ فوری طور پر علاج پر توجہ دیں۔ اس بیماری میں جسم میں نمکیات کی مقدار کو بڑھایا جاتا ہے، بخار اور درد کو کم کرنے والی ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ اگر بخار بگڑ جائے تو پیلٹ لیٹس لگائے جاتے ہیں۔ اس لئے احتیاط ہی اس کا واحد حل ہے۔
ڈینگی سے بچائو کے ضمن میں سب سے پہلی ذمہ داری حکومت اور لوکل انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ سڑکوں‘ پارکوں‘ بازاروں اور تفریح گاہ میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں، اس کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں سپرے کرائیں۔ باقاعدگی سے صاف پانی میں موجودہ لاروا کا ٹیسٹ کیا جائے اور ڈینگی کے لاروا کو فوری طور پر تلف کیا جائے۔ کچی بستیوں اور غربا میں سپرے، مچھر مار لوشن اور نیٹ مفت فراہم کیے جائیں۔ اس میں ادویات ساز کمپنیاں بھی اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ مساجد سے اعلانات کرکے اس بیماری کے بارے میں آگاہی دیں۔ میڈیا ، سوشل میڈیا اور وٹس ایپ پر اس بیماری سے متعلق آگاہی پھیلائیں۔
اس کے بعد عوام یعنی ہم سب کا کردار آتا ہے کہ ہم اس بیماری سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو ہمیں اپنے گھروں میں‘ صحنوں، لانز اور ٹیرس وغیرہ پر بارشوں وغیرہ کا کھڑا پانی نکالنا ہوگا۔ اس موسم میں پرندوں کے لیے جو پانی رکھا جاتا ہے‘ اس حوالے سے بھی اجتناب بہتر ہے یا کم از کم اس پانی کو بلاناغہ تبدیل کیا جائے اور جس برتن میں یہ پانی رکھا جاتا ہے‘ روز اسے بھی اچھی طرح دھویا جائے۔ علاوہ ازیں مکمل آستین کے کپڑے پہنیں اور شارٹس سے بھی اجتناب کریں۔ گاڑی میں بیٹھے وقت تھوڑی دیر کے لیے شیشہ کھولیں تاکہ مچھر وغیرہ نکل جائیں اور سیٹ وغیرہ کو بھی جھاڑیں۔ چھوٹے بچوں کو بھی مکمل کپڑے پہنائیں، ان کی واکر اور پرام پر نیٹ لگادیں۔ ان کے بستر پر بھی جالی لگائیں، بچوں کو سلانے کے لیے کمرے میں لانے سے پہلے مچھر مار سپرے کریں اور پھر پنکھا چلا دیں، اس کے کچھ دیر بعد ہی بچے کو لٹائیں۔ بچوں کو مچھر مار محلول سے الرجی ہوسکتی ہے‘ اس لیے اس ضمن میں خصوصی احتیاط برتیں۔ گاڑی اور گھر میں پرانے ٹائر رکھنے سے مکمل پرہیز کریں کیونکہ یہ مچھروں کی افزائش کے لیے نہایت سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ گھر میں پانی کے ذخیروں کے منہ اور نل وغیرہ سختی سے بند کریں اور اگر لیکیج ہے تو فوری مرمت کرائیں، چھت‘ پورچ‘ لان اور کیاریوں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔ رات کو ہر جگہ مچھر مار سپرے کرکے خود بھی نیٹ میں سوئیں۔
ڈینگی کا مچھر گرمیوں میں انڈے دیتا ہے اس کا بریڈینگ سیزن اگست‘ ستمبر اور اکتوبر کے مہینے ہیں۔ اس مچھر کی نشو و نما کے چار مراحل ہوتے ہیں؛ پہلے انڈا، پھر لاروا، پھر پیوپا اور پھر بالغ مچھر۔ ایک انڈے کو مچھر بننے میں 8سے 10دن لگتے ہیں۔ ایک مادہ مچھر ایک وقت میں سو سے زائد انڈے دیتی ہے‘ یہ انڈے کالے رنگ کے ہوتے ہیں۔ ڈینگی کی مادہ مچھر گھروں ، دفاتر ، گاڑیوں اور بازاروں میں رہنا پسند کرتی ہے اور موقع ملتے ہی انسانوں پر حملہ آور ہو جاتی ہے۔ اس لئے انتظامیہ اور عوام‘ دونوں کو اس کے انڈے اور اس میں سے نکلنے والے لاروے کو تلف کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
اس وقت یہ مرض جتنی تیزی سے پھیل رہا ہے‘ معلوم ہوتا ہے کہ شہری انتظامیہ نے بروقت ڈینگی سے بچائو کے سپرے نہیں کئے ، کیا پانی میں لاروا کو تلف نہیں کیا گیا؟ اس وقت بابوکریسی فیلڈ سے زیادہ سوشل میڈیا پر متحرک ہے‘ عوام کو چاہیے کہ ان کو وہاں ٹیگ کریں اور ان سے مطالبہ کریں کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر انسدادِ ڈینگی سپرے کرایا جائے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں