لہو لہو فلسطین … (2)

اگر ہم مشرقِ وسطیٰ کے اس خطے کی جغرافیائی اور سیاسی تاریخ دیکھیں تو یہ خطہ ہمیشہ طاقتوروں کے درمیان تنازع کا سبب بنا رہا ہے۔ ہر کوئی اس پر تسلط چاہتا تھا۔ اتنی مقدس سرزمین پر انسانوں کا خون بہتا رہا اور اب بھی بہہ رہا ہے۔ ماضی طرف دیکھیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کو یہاں آباد کیا۔ ان کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام‘ جن کے لقب 'اسرائیل‘ پر ان کی قوم کا نام بنی اسرائیل پڑگیا‘ یہاں آباد ہوئے۔ مختلف انبیاء کرام یہاں کے حکمران رہے ہیں۔ حضرت سموئیل نے اپنی ضعیف العمری میں حضرت طالوت کو یہاں کا بادشاہ مقرر کیا‘ جس کا ذکر قرآن پاک میں بھی موجود ہے۔ طالوت اور جالوت کی جنگ میں حضرت دائود علیہ السلام نے بہت بہادری کا ثبوت دیا اور جالوت کو قتل کر کے اس خطے کے بادشاہ بن گئے۔ حضرت دائود علیہ السلام نے ہی بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت مقرر کیا۔ ان کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام یہاں کے بادشاہ مقرر ہوئے۔ ان کے بعد یہاں کے لوگوں میں نااتفاقی پیدا ہو گئی اور ریاست دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ یہ قوم آپس کی لڑائیوں کا شکار ہو گئی۔ ان کے انتشار کا فائدہ اٹھا کر بابل کے بادشاہ بخت نصر نے بیت المقدس پر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ اتنا شدید تھا کہ یروشلم میں موجود ہر چیز تباہ ہو گئی۔ ہزاروں بنی اسرائیلیوں کو قتل کر دیا گیا اور ہزاروں کو قیدی بنا لیا گیا۔ اس کے بعد ایران کے حکمران نے یہاں اپنا تسلط قائم کیا اور بابل فتح کرنے کے بعد بنی اسرائیل کو واپس یروشلم میں آباد کیا۔ یہاں سکندرِ اعظم نے بھی حکمرانی کی۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں جب اسلامی ریاست کا رقبہ 22 لاکھ مربع میل تھا‘ بیت المقدس بنا کسی جنگ کے مسلم ریاست کا حصہ بن گیا۔ یہود اور عیسائیوں کے صحیفوں میں حضرت عمرؓ کا حلیہ مبارک درج تھا۔ جب آپؓ بیت المقدس آئے تو یہود اور نصاریٰ کے راہبوں نے بنا کسی مزاحمت کے شہر کی چابیاں آپؓ کے حوالے کر دیں۔ حضرت عمرؓ نے وہاں کے لوگوں کو جان ومال‘ گرجا وصلیب اور عبادت گاہوں کی امان دی اور یہ رعایت تمام مذاہب لوگوں کیلئے یکساں تھی۔ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں یہ خطہ نہایت پُرامن رہا۔ حضرت معاویہؓ نے یہاں اموی خلافت کی بنیاد رکھی اور اموی دور میں ہی مسجد اقصیٰ کا گنبد تعمیر کیا گیا۔ پھر عباسیوں نے یہاں حکومت کی۔ دسویں صدی میں پوپ اربن نے مسیحیوں کو جمع کیا تاکہ یروشلم کو مسلمانوں سے واپس لیا جائے۔ 1099ء میں پہلی صلیبی جنگ کے نتیجے میں یہ خطہ مسیحیوں کے پاس چلا گیا تاہم وہ ایک صدی بھی اس خطے میں اپنا تسلط قائم نہیں کر سکے۔ فریڈرک دوم کے دور میں 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں مسلمان اس کو دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ بعد ازاں یہ خطہ سلطنت عثمانیہ کے زیر اثر آ گیا اور سلطان سلیمان کے خانوادے نے حرمین شریفین کے ساتھ بیت المقدس میں بھی بہت سے ترقیاتی کام کرائے۔ پہلی عالمی جنگ میں عثمانی سلطنت کے خاتمے کے بعد انگریز جنرل ایلن 1917ء میں یہاں داخل ہوا اوربرطانیہ کی مکمل اشیرباد سے یہاں صہیونیت کا جنم ہوا۔ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے سے امتِ مسلمہ کا شیرازہ بکھیر گیا اور صہیونی طاقتوں نے یہودیوں کو فلسطینیوں کی جگہ پر آباد کرنا شروع کر دیا۔ صہیونیوں نے مقامی فلسطینیوں کی اراضی پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔1947ء تک یہودیوں کی آبادی یہاں چھ لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔ یہودیوں کو آباد کرنے کیلئے 15 ہزار سے زائد بے گناہ مسلم شہریوں کا خون بہایا گیا اور لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے محروم ہوگئے۔ 1948ء میں صہیونیوں نے اسرائیل کے باقاعدہ قیام کا اعلان کر دیا جس پر جنگ شروع ہو گئی۔ عرب اسرائیل جنگوں میں اسرائیل مزید علاقوں پر قبضہ کرتا گیا‘ جن میں مصر‘ شام‘ لبنان اور اردن کے وسیع علاقے بھی شامل تھے۔ اسرائیل کے قیام کے بیس سال بعد بھی بیت المقدس اردن کا حصہ تھا لیکن 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں یہ اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا اور اسرائیل نے اس کو اپنا دارالحکومت قرار دے دیا۔
اسرائیلی جارحیت کے خلاف فلسطینیوں نے 1964ء میں پی ایل او کی بنیاد رکھی‘ جس نے جدوجہد اور سیاسی تدبر کے ذریعے فلسطین کی آزادی کی تحریک شروع کی۔ 1973ء میں اسرائیل نے ایک بار پھر جارحیت کرتے ہوئے فلسطین کے مزید علاقوں پر قبضہ کر لیا اور اس حوالے سے اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں کو پس پشت ڈال دیا۔ 1982ء میں جب اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تو فلسطین میں ایک بڑی تحریک کا آغاز ہوا۔ اسی دوران حماس کی بنیاد رکھی گئی جس کے بانی شیخ احمد یاسین تھے۔ حماس دو طرح سے کام کرتی ہے۔ ایک دھڑا فلاحی کام کرتا ہے‘ جس میں سکولوں‘ ہسپتالوں کا قیام اور مذہبی مقامات کی تعمیر شامل ہے جبکہ دوسرا حصہ آزادیٔ اور دفاع فلسطین کیلئے جہاد کرتا ہے۔ 1993ء میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ یاسرعرفات اور اسرائیلی وزیراعظم ضحاک رابن کے مابین ایک معاہدا ہوا جس کے تحت فلسطینی عبوری خودمختاری‘ فلسطینی ریاست کے قیام اور ان علاقوں سے اسرائیلی فوج کے انخلا پر اتفاق کیا گیا۔ 1995ء میں اوسلو میں ایک اور معاہدہ ہوا جس کے نتیجے میں مغربی کنارے اور غزہ کے کچھ حصوں کو انتظامی خودمختاری ملی مگر ان تمام سالوں میں فلسطینیوں کا قتل عام جاری رہا۔ ان کو ان کی ہی زمینوں سے بیدخل کرنے کا ظلم ہوتا رہا۔ خاص طور پر غزہ کی پٹی میں مسلمانوں کی منظم نسل کشی کی گئی۔ اسرائیل نے 2005ء میں اپنی فوجیوں کو بظاہر غزہ سے نکال لیا لیکن اب بھی ان کا یہاں مکمل تسلط ہے۔ یہ خطہ جنگ کی وجہ سے نڈھال ہے‘ عوام بنیادی حقوق معطل ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کو دنیا کے سب سے بڑے جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔ اسرائیل کے مقابلے میں حماس اور فلسطینیوں کے پاس مادی وسائل نہیں‘ تاہم جذبہ ایمانی اور اللہ پر توکل کے ساتھ وہ اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اکتوبر 2023ء میں حماس نے 'طوفان الاقصیٰ‘ کی صورت میں اسرائیل پر ایک شدید حملہ کیا جس میں 1400 سے زائد اسرائیلی مارے گئے اور سینکڑوں یرغمال بنا لیے گئے۔ اس دوران اسرائیل کا جدید آئرن ڈوم ڈیفنس سسٹم مکمل طور پر ناکام نظر آیا۔ اس کے نتیجے میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی کو مکمل بند کر دیا اور وہاں دن رات حملے کرنا شروع کر دیے۔ ان حملوں میں عورتوں اور معصوم بچوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ہسپتال‘ رفاہی ادارے اور مذہبی مقامات پر بھی حملے کیے گئے۔ ان حملوں کے نتیجے میں اب تک پچاس ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اب جب جنگ بندی کے بعد فلسطینی اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں تو اسرائیل نے ایک بار پھر نہتے شہریوں پر حملیشروع کر دیے ہیں‘ ساتھ ہی امدادی سامان لے جانے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ اس وقت فلسطین کے نہتے عوام کو مدد کی ضرورت ہے۔ خوراک‘ پانی اور ادویات کی اشد قلت ہے۔ یہ ان کا وطن ہے‘ یہاں ان کو پُرامن رہنے کا حق ملنا چاہیے۔ یہ صہیونیوں کا علاقہ نہیں ہے‘ وہ یہاں ہجرت کر کے آئے تھے۔ یہ خطہ فلسطینیوں کا ہے‘ یہ وہی کنعانی نسل ہے‘ جس کی وجہ سے اس خطے کا نام ارضِ کنعان پڑا تھا۔ صہیونیوں کے تاتاری‘ الخرز اور اشکنار قبائل تو وسطی ایشیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اس خطے میں امن کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ غزہ کی تعمیر نو میں حصہ لے اور فلسطین کو ان کا علاقہ واپس دلانے کیلئے اقدامات کرے۔ اس ضمن ترکیہ‘ سعودی عرب اور پاکستان اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہم اسرائیلی اور اسرائیل کے حمایتی برانڈز کا مکمل بائیکاٹ کرکے اپنی آواز اٹھا سکتے ہیں۔ اس طرح اظہارِ یکجہتی بھی فلسطینیوں کو حوصلہ دیتا ہے۔ فلسطین کیلئے مسلسل آواز بلند کرتے رہیں اور مکمل جنگ بندی کے آواز اٹھائیں۔ کاش کہ اس خطے میں امن ہو جائے اور ہم سب بیت المقدس میں تینوں مذاہب کے مقدسات کو دیکھ سکیں۔ (ختم)

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں