"KMK" (space) message & send to 7575

امتحان

عمران خان کے الفاظ میں اگر بات کی جائے تو بات ایک جملے میں سما سکتی ہے۔ ’’خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی خاصی شرمناک ہے۔‘‘ مجھے اندازہ ہے کہ سوشل میڈیا اس جملے پر میرا ’’میڈیا ٹرائل‘‘ کرسکتا ہے مگر یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر عمران خان توہین عدالت سے خوف زدہ نہیں ہیں تو لکھنے والوں کو بھی سوشل میڈیا سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پوت کے پائوں پالنے میں پہچانے جاتے ہیں۔ پرویز خٹک کی حکومتی ترجیحات کا اندازہ تو اسی وقت ہوگیا تھا جب انہوں نے بطور وزیراعلیٰ خیبر پختوانخوا اپنی نامزدگی کے فوراً بعد اپنی متوقع حکومتی اننگ کا آغاز مخصوص نشستوں پر اپنی تین قریبی رشتہ دار خواتین کو منتخب کروا کر کیا تھا۔ وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے فوراً بعد ایک شادی کی تقریب میں ہیلی کاپٹر کی سواری کرکے انہوں نے اپنے طرز حکومت کا اعلان بھی کر دیا تھا مگر انصاف کا تقاضا یہی تھا کہ انہیں تھوڑا وقت دیا جائے۔ مگر کتنا؟ پرویز خٹک کا کہنا ہے بلکہ انہی کا کیا، ساری حکومت کا کہنا ہے کہ انہیں نوے دن دیے جائیں اور وہ نوے دن میں اپنی کارکردگی دکھا دیں گے۔ نوے دن یعنی صرف تین ماہ۔ اس دیے گئے وقت کا دو تہائی عرصہ گزر چکا ہے۔ یعنی نوے دن میں سے ساٹھ سے زائد دن گزر چکے ہیں اور اس عرصے میں امن و امان‘ انتظامی معاملات، عوامی بہبود اور حکومتی کارکردگی؛ سب میں بہتری کی شرح صرف صفر نہیں بلکہ منفی ہے اور اوپر سے ڈیرہ اسماعیل خان جیل کا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ صرف حادثہ نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت، نااہلی اور نالائقی کا ایسا شاہکار ہے کہ اس پر اعلیٰ حضرت پرویز خٹک اور عمران خان کو قوم سے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگنی چاہیے تھی مگر انہوں نے اپنی اس تازہ ترین نااہلی کا سارا ملبہ پچھلے پانچ سالوں پر ڈال دیا۔ تحریک انصاف کی حکومت سے حکومتی معاملات میں نالائقی کے مظاہروں سے ہٹ کر کم از کم اخلاقی جرأت کی توقع ضرور تھی مگر وہ بھی پوری نہ ہوئی۔ ہمارے ہاں ایک عجیب و غریب روایت پروان چڑھ چکی ہے کہ سارا ملبہ گزشتہ حکومت پر ڈال دیا جائے۔ اپنی خرابیوں کی ساری ذمہ داری جانے والوں پر ڈال دی جائے اور اپنی جمہوری ناکامیوں کا ملبہ گزشتہ آمریت پر ڈال کر اپنی جان چھڑوا لی جائے۔ اس روایت کا آغاز پیپلزپارٹی نے کیا اور اپنی ہر خرابی اور ناکامی کا ذمہ دار جنرل ضیا الحق کے گیارہ سالوں پر ڈالنے کا جو مینشن ایجاد کیا وہ اب تک ختم ہونے میں نہیں آرہا۔ بقول جناب انور مسعود ؎ ہم تو بھگت رہے ہیں انہی کا کیا دھرا اس واقعے میں ان کی سیاست کا دخل ہے بچے کے ہاتھ سے جو دہی گر پڑا ہے آج اس میں تمام پچھلی حکومت کا دخل ہے انٹیلی جنس ایجنسیوں نے صوبائی حکومت کو اس متوقع واقعے کے بارے میں آگاہ کردیا تھا۔ یہ بات درست ہے کہ متعلقہ ایجنسیوں نے بھی اس متوقع واقعے کو اس طرح سنجیدگی سے نہیں لیا تھا جس طرح لینا چاہیے تھا اور محض خط لکھنے کے بجائے کمیونیکیشن کے جدید ذرائع کو استعمال میں لاتے ہوئے اتنی اہم معلومات کو اوپر کے لیول تک پہنچانا اور شیئر کرنا چاہیے تھا۔ انہیں اس سلسلے میں محض کمشنر تک کو مطلع کرنے کے بجائے وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری تک کو آگاہ کرنا چاہیے تھا اور صرف آگاہ ہی نہیں بلکہ پوری پلاننگ کا حصہ بننا چاہیے تھا لیکن ہوا کیا؟ کمشنر صاحب نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اطلاعات پر ایک میٹنگ بلائی۔ اس میٹنگ میں کیا ہوا؟ وہی کچھ ہوا جو عموماً ہوتا ہے۔ دنیا کا چلن بدل گیا مگر ہمارے ہاں ہونے والی میٹنگز کا معاملہ نہ بدلا۔ میٹنگز کے بارے میں استاد فردوسی نے سینکڑوں برس پہلے جو فرمایا تھا ابھی تک سرموفرق کے بغیر بالکل ویسے ہی چل رہی ہیں۔ بقول فردوسی ؎ پئے مشورہ مجلس آراستند نشستند و گفتند و برخاستند لہٰذا یہ میٹنگ ہوئی‘ مشورے ہوئے اور ختم ہوگئی۔ ظاہر ہے جب میٹنگ ہی ختم ہوگئی تو بات بھی ختم ہوگئی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ہر طرف خطرے کی گھنٹیاں بجائی جاتیں۔ وزیراعلیٰ ایک جوائنٹ میٹنگ بلاتے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہ بلائے جاتے، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذمہ دار آ کر معلومات کا تبادلہ کرتے، ہر ادارے کو ذمہ داری سونپی جاتی۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں پوری چھائونی ہے۔ کمانڈر کو مدد کی درخواست کی جاتی۔ ایف سی چوکیوں پر نگرانی بڑھائی جاتی اور جیل کے اردگرد حفاظتی حصاروں کی تعداد بڑھائی جاتی اور حصاروں کو مضبوط بھی کیا جاتا مگر عملی طور پر کچھ نہ کہا گیا اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ میلوں دور سے سو ڈیڑھ سو لوگ۔ پوری طرح مسلح۔ اسلحے اور بارود سے لدے ہوئے۔ دس گیارہ چیک پوسٹوں سے گزر کر ڈیرہ اسماعیل خان میں داخل ہوئے۔ شہر میں آرام کیا۔ جیل پر حملہ آور ہوئے۔ مرکزی دروازہ توڑا۔ جیل کی دیواریں گرائیں۔ اندر داخل ہوئے۔ بیرکوں کے تالے توڑے۔ خصوصی سیلوں کے دروازے کھولے۔ مطلوبہ افراد کو تلاش کیا۔ اڑھائی سو سے زائد انتہائی مطلوب ملزمان کو اپنے ساتھ لیا۔ چار گھنٹے کی اس کارروائی کے دوران پولیس سے لے کر سکیورٹی فورسز تک کان لپیٹ کر پڑی رہیں۔ آنے والے سو ڈیڑھ سو مسلح جنگجو واپسی پر چار سو کے لگ بھگ ہوچکے تھے۔ ان تمام چیک پوسٹوں سے نہایت مزے سے گزر گئے جہاں پرشریف لوگوں کو باقاعدہ ذلیل کیا جاتا ہے۔ یہ تمام لوگ خیریت سے وہاں پہنچ گئے جہاں وہ اب مکمل محفوظ ہیں۔ یہ واقعہ اصل المیہ نہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے پچھلے چھیاسٹھ سال میں کسی المیے سے کچھ نہیں سیکھا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے بھی نہیں۔ آج بلوچستان کا مسئلہ منہ پھاڑے کھڑا ہے۔ علیحدگی پسندوں اور جنگجوئوں کو پہلے بھی پال پوس کر بڑے کرنے کا ذمہ ’’ہر فن مولائوں‘‘ کا تھا آج بھی وہی لوگ اسی طریقہ کار پر کاربند ہیں۔ کل بھی ناراض نوجوانوں کو طاقت کے ذریعے بغاوت کی حد تک پہنچایا گیا تھا۔ آج بھی لاپتہ افراد اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ بنوں جیل میں جو کچھ ہوا تھا وہ اس واقعے کا ٹریلر تھا لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہوگا۔ حکومت کو اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ سارے معاملات کو نئے سرے سے دیکھنا ہوگا اور واضح لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔ یکسوئی اور درست اہداف کا تعین کیے بغیر سب کچھ لاحاصل ہے۔ دہشت گرد جدید اسلحہ اور تربیت سے مکمل آگاہ ہیں اور ادھر وہی فرسودہ حکمت عملی کہ آنکھیں بند کرنا ہی شاید مسئلے کا حل ہے۔ ساٹھ دن سے زیادہ گزر چکے ہیں اور بقیہ پچیس دن بھی گزر جائیں گے۔ آخری چند روز میں کوئی الہ دین کا چراغ نہیں مل جائے گا کہ رگڑنے سے جن نکلے گا اور مسئلے حل کر دے گا۔ تبدیلی کے نام پر آنے والی نئی ٹیم نااہل ہے جبکہ پرانی ٹیم تبدیلی کی خواہاں ہی نہیں۔ ساری عمر اِدھر اُدھر اور پیپلزپارٹی میںگزارنے والے پرویز خٹک محض پارٹی بدلنے سے کیسے بدل سکتے ہیں؟ جو لوگ حکومتی عہدے لے کر پارٹی کے عہدے چھوڑنے پر راضی نہ ہوں بھلا وہ اپنی جنموں کی عادتیں کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ اور عمران خان پارٹی اور حکومتی عہدوں کو علیحدہ نہیں کرسکتے تو بھلا اور کر کیا سکتے ہیں؟ عمران خان کا اصل امتحان خیبرپختونخوا کی حکومت نہیں، حکمران ہیں۔ ان سے کیسے نپٹا جائے۔ بظاہر یہ عمران کا مسئلہ ہے مگر حقیقت میں یہ پورے خیبرپختونخوا بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں