نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- شہبازشریف کہتےہیں کہ مہنگائی بہت ہوگئی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ہمارامقابلہ مافیا سے ہے،وزیراطلاعات فوادچودھری
  • بریکنگ :- عمران خان سڑکوں کےنہیں،کرپشن کیخلاف تھے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- عمران خان اس کرپشن کیخلاف تھےجوسڑکوں کےنام پرکی گئی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ن لیگ نےشاہراہوں کی تعمیرمیں بہت زیادہ کرپشن کی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- لاہوراسلام آبادموٹروےکےوقت لندن میں ایون فیلڈاپارٹمنٹ خریدے گئے،فواد
  • بریکنگ :- 60 ارب روپےکی لاگت سےموٹروےبنائی گئی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- شریف فیملی نےسڑکوں کوکاروباربنالیاتھا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- سڑکوں کےٹھیکوں میں بہت بڑی کرپشن کی جاتی تھی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- موٹروےمہنگاترین منصوبہ تھا،وزیراطلاعات فوادچودھری
  • بریکنگ :- حکومت نے 10 ارب ڈالرکےقرض واپس کیے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- اسلام آباد:شریف اورزرداری فیملی نےپیسہ باہربھیجا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کابینہ ارکان اگرکرپشن میں پڑجائیں توقومیں تباہ ہوجاتی ہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- شہبازشریف کوچپڑاسی کےاکاؤنٹ سےپیسہ آیا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- 2 ارب ڈالرڈائیووکمپنی کوسودکی مدمیں ادائیگی کی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- جس معاملےکواٹھاتےہیں،نیچےکرپشن کےپہاڑکھڑےہوتےہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- لندن اورفرانس میں اربوں روپےابھی بھی چھپائےہوئےہیں،فوادچودھری
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

لائل پوری شاعروں کی شاعری اور ’’دریاواں دا ہانی‘‘…( 2 )

حسب وعدہ ڈاکٹر ریاض مجید کی غزل۔ سقوط ڈھاکہ کے تناظر میں
نہتے بھائی گھنے جنگلوں میں چھوڑ آئے
ہم اپنے یوسفوں کو بھیڑیوں میں چھوڑ آئے
زمیں بچانا تھی ہم کو تو جان دے کر بھی
بچا کے جان اسے دشمنوں میں چھوڑ آئے
سنبھالتے کہاں تک اس شکستہ کشتی کو
لگا کے آگ اسے پانیوں میں چھوڑ آئے
وہاں سے لوٹ کے اپنی شباہتیں نہ ملیں
ہم اپنا عکس بھی ان آئینوں میں چھوڑ آئے
خبر نہ تھی کہ اندھیرے ہیں راہ ہجرت میں
چراغ جلتے ہوئے کھڑکیوں میں چھوڑ آئے
چلے تھے ہم بھی جہاں میں ریاض بکنے کو
ہم اپنی آب مگر سیپیوں میں چھوڑ آئے
ہاں یاد آیا۔ آج صبح ہی صبح ملتان سے ثاقب ملک کی ای میل آئی۔ پوچھا کہ یہ ''لائل پوری شاعروں سے کیا مراد ہے؟ لائل پور کے شاعر یا پھر کوئی ٹرم ہے؟ تو وضاحت ضروری ٹھہری۔ یہ لائل پور المعروف فیصل آباد کے شاعروں کا تذکرہ ہے۔ یہ شاعر ابھی تک لائل پور کی نرگسیت کا شکار ہیں اور لائل پوری کہلانا پسند کرتے ہیں۔ بخش لائل پوری کی طرح۔ ایمانداری کی بات ہے میں خود بھی اس شہر کو لائل پور کہہ کر لطف لیتا ہوں۔ بھلا اس طرح شہروں کے نام تبدیل کرنا کہاں کی حکمرانی ہے کہ چند لمحوں میں صدیوں کی تاریخ ملیامیٹ کر دی جائے۔اب ایک غزل شوکت فہمی کی۔
کہاں کے تھے کہاں رکھا ہوا ہے
مگر خوش ہیں جہاں رکھا ہوا ہے
بتائیں کیا ٹھٹھرتے موسموں میں
لہو کیسے رواں رکھا ہوا ہے
اسے مت کاٹنا تم اس شجر پر
ہمارا آشیاں رکھا ہوا ہے
مجھے واپس آنا تھا فہمی
میرا سب کچھ یہاں رکھا ہوا ہے
امریکہ جانے سے افتخار نسیم افتی یاد آ گیا۔ اس کے دو تین اشعار سے لطف لیں۔
کٹی ہے عمر کسی آبدوز کشتی میں
سفر تمام ہوا‘ اور کچھ نہیں دیکھا
تو میرے ساتھ کہاں تک چلے گا میرے غزال
میں راستہ ہوں‘ مجھے شہر سے گزرنا ہے
جلاوطن ہوں میرا گھر پکارتا ہے مجھے
اداس نام‘ کھلا در پکارتا ہے مجھے
لائل پور کے دو نوجوان شعراء کا ایک ایک شعر۔ ثناء اللہ ظہیر کا ایک شعر ؎
میں دے رہا ہوں تمہیں خود سے اختلاف کا حق
یہ اختلاف کا حق ہے‘ مخالفت کا نہیں
سرور خان سرورکا شعر ؎
چھت ٹپکتی ہے تو کیچڑ نہیں ہونے دیتے
کتنے اچھے میں میرے گھر کے پرانے برتن
عماد اظہر کی ایک خوبصورت غزل
جو تو یہاں ہے پھر یہ جہاں مناسب ہے
زمین ٹھیک ہے اور آسماں مناسب ہے
ابھی سے ڈال دے تو کشتیاں سمندر میں
ابھی سکون ہے‘ آبِ رواں مناسب ہے
مجھے تو مانگ دعائوں کی اس بلندی سے
جہاں سے میں بھی کہوں‘ ہاں یہاں مناسب ہے
بس ایک ضد کو نبھانا ہے عمر بھر میں نے 
وگرنہ تجھ سے محبت کہاں مناسب ہے
عدنان بیگ کی غزل سے تین شعر 
کہیں میں آنکھوں کو بو رہا ہوں‘ کہیں میں دل کو اگا رہا ہوں
میں کوہکن سے علیحدہ بھی‘ اک اور راستہ بنا رہا ہوں
گماں کی بے سمت راہگزر ہے‘ خبر نہیں ہے کہ کیا خبر ہے
کبھی یہ لگتا ہے آ رہا ہوں کبھی یہ لگتا ہے جا رہا ہوں
کہانی ہے یہ نبھانے کی‘ یہ چاہے جانے کی چاہنے کی
سنی سنائی سنی ہے میں نے‘ سنی سنائی سنا رہا ہوں
مقصود وفا کی ایک نظم جو گزشتہ کالم میں جگہ کے مسائل کے باعث رہ گئی تھی۔
پیاس بجھتی نہیں
آستانے وہی‘ سبز گنبد وہی اور کبوتر وہی
ایڑیوں سے نکلتا ہوا آب زم زم وہی
پیاس بجھتی نہیں
دار کی خشک ٹہنی وہی‘ سب صحیفے وہی اور خامہ وہی
ریگ قرطاس پر سر پٹختا ہوا
خون روتا ہوا‘ خوں رلاتا ہوا
ہر تصادم وہی‘ ہر کجاوہ وہی
اور وہی حشر کا سا سماں ہے جہاں پر
اِدھر بھی‘ اُدھر بھی
سبھی حق پرستوں کے مابین
جنگ جمل ہو رہی ہے
سررہ گزر بھی وہی ہے
پسِ رہ گزر بھی وہی ہے
مگر پیاس بجھتی نہیں
آستانے وہی‘ سبز گنبد وہی اور کبوتر وہی
لائل پور کی شاعری اور شاعروں کا ذکر ہو اور افضل احسن رندھاوا کا ذکر نہ ہو؟ پنجابی زبان کے بڑے لکھاری۔ مترجم‘ سیاستدان‘ ناول نگار اور شاعر۔ 1971ء کے الیکشن میں لائل پور کے حلقہ این اے 49 (تب یہ شہر واقعتاً لائل پور ہی تھا) سے ممبر قومی اسمبلی ۔ساری عمر پنجاب زبان و ادب کے لیے کوشاں بھی رہے اور عملی طور پر اس میں حصہ بھی ڈالتے رہے۔ چند روز قبل 18 ستمبر کو اسی سال اور سترہ دن کی عمر میں اپنے اہلخانہ دوستوں اور پنجابی زبان کو سوگوار چھوڑ کر رخصت ہو گئے۔ کالم کا اختتام ان کی ایک چھوٹی بحر کی پنجابی غزل پر ۔
انج ہالوں بے حال نی مائے
بھل گئی اپنی چال نی مائے
اونے پھٹ میرے جُثے تے
جنے تیرے وال نی مائے
ہن تے کُجھ نئیں نظریں آئوندا
ہور اک سورج بال نی مائے
میں دریاواں دا ہانی ساں
ترنے پے گئے کھال نی مائے
میرا متھا چمیاں تینوں
ہو گئے چوی سال نی مائے
ہر چھوٹی وڈی آفت وچ
توں سیں ساڈی ڈھال نی مائے
جنہوں ملیے پھاہ لیندا اے
ہر بندہ کوئی جال نی مائے
افضل احسن لوہیا سی‘ پر
کھا گیا درد جنگال نی مائے
یہ کوئی مبالغہ یا تعلیِ نہیں‘ جس شخص نے بھی افضل احسن رندھاوا کو دیکھا ہے وہ یہ کہے بغیر نہیں رہتا تھا کہ سرتا پایہ کھرا جٹ واقعتاً ''دریاواں دا ہانی‘‘ تھا لیکن اسے ''کھال‘‘ تیرنے پڑے۔(ختم شد)

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں