نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرکاویکسین نہ لگوانےوالوں کےلیےانتباہ
  • بریکنگ :- ویکسین نہ لگوانےوالےافرادپریکم اکتوبرسےمختلف سہولتوں کی بندش کردی جائےگی
  • بریکنگ :- ویکسی نیشن کاعمل جلدازجلدمکمل کروائیں اورزندگی بحال رکھیں،این سی او سی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ہم اور ہماری زرعی خود کفالت

کچھ زندگی مصروف ہو گئی ہے اور باقی ہم لوگوں نے بھی بہت سے لاحاصل قسم کے شوق پال لیے ہیں‘ سو وقت وہیں کھڑا ہے اور کام بڑھ گئے ہیں۔ ان کاموں کی بھی بھلی پوچھیں‘ بہت سے لوگوں کی زندگی کا سب سے اہم کام اب سوشل میڈیا رہ گیا ہے۔ فیس بک، ٹویٹر، وٹس ایپ اور اسی قبیل کی اور مصروفیات۔ کئی دوستوں کی فیس بک پر مصروفیت اور تندہی دیکھ کر یقین سا ہونے لگتا ہے کہ موصوف فیس بک پر کم از کم گریڈ اکیس کے آفیسر لگے ہوئے ہیں۔ وٹس ایپ کے بعض گروپ ایڈمن اپنے اس عہدے پر اتنے متفاخر دکھائی دیتے ہیں کہ گمان ہوتا ہے کہ صاحب وٹس ایپ کے ایڈمنسٹریٹر نہیں بلکہ شاید سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) کے صوبائی سیکرٹری سے کم کے عہدے پر فائز نہیں ہیں۔ اب ایسی مصروفیت میں بھی چودھری بھکن اور ڈاکٹر پھجا اگر وقت نکال کر اس عاجز سے ملنے آ جائیں تو آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہر دو حضرات کو مجھ سے کتنی شدید قسم کی محبت ہے۔ دونوں صاحبان کو درج بالا کسی مصروفیت سے کوئی لینا دینا نہیں‘ مگر ان دوستوں کی مصروفیات کا دائرہ کار بھی اتنا ہی بے کار‘ لاحاصل، فضول اور وقت کا ضیاع ہے جتنا کہ فیس بک، وٹس ایپ، ٹویٹر، انسٹاگرام اور ٹی وی کے ٹاک شوز ہوتے ہیں‘ لیکن یہ ان کی محبت ہے کہ اپنی دیگر گوناں گوں مصروفیات سے وقت نکال کر ملنے آ جاتے ہیں۔
کل بھی ایسا ہی خوش قسمت دن تھا جب دونوں دانشور میرے پاس تشریف لائے۔ میں ان کی آمد کو اپنے غریب خانے پر قدم رنجہ فرمانا نہیں کہوں گا کیونکہ بقول چودھری بھکن قدم رنجہ وہ قدم ہوتا ہے کہ جہاں بھی رکھا جائے وہاں رنج و غم پھیل جاتا ہے۔ اس لحاظ سے ان کی آمد قدم رنجہ نہیں بلکہ میرے لیے قدم خوشیہ تھا۔ ابھی بیٹھ کر سانس بھی نہیں لیا تھاکہ ڈاکٹر پھجے نے چودھری بھکن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: چودھری یار تو بڑا کاشتکار بنا پھرتا ہے‘ اس سال فصلوں کی پیداوار میں اضافے اور قیمت فروخت میں بہتری کی وجہ سے تمہاری معاشی حالت بھی کافی بہتر ہوئی ہے اور چہرے کی حماقت میں کمی کے علاوہ رونق میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہمہ وقت کا رونا بھی تھوڑا کم ہوا ہے لیکن مجھے ایک بات بالکل سمجھ نہیں آرہی کہ آخر یہ ہماری زراعت کے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟ ہر دوسرے چوتھے سال بمپر فصل کا اعلان ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ریکارڈ پیداوار کی خوشخبری سنائی جاتی ہے اور اس کے بعد درآمد کی نوید سنا دی جاتی ہے۔ مثلاً گزشتہ سال گندم کی فصل کے بارے میں ایسی خوشخبری سنائی گئی۔ اس سال بھی یہی نوید سنائی گئی کہ گندم کی ریکارڈ پیداوار حاصل ہوئی ہے اور ساتھ ہی اعلان سنائی دیا کہ تین ملین ٹن گندم درآمد کی جائے گی۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟ گنے کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے‘ چینی کی پیداوار کہاں تو ملکی ضرورت سے زائد تھی اور برآمد کر دی گئی‘ پھر پتا چلاکہ چینی کم پڑ گئی ہے اور نئے سرے سے درآمد کرنا پڑی۔ ہمارے ساتھ ہر دوسرے‘ چوتھے سال یہ کیا کرتب بازی ہورہی ہے؟
چودھری بھکن ہنس کرکہنے لگا: میرے پیارے ڈاکٹر! یہ کوئی مسئلہ فیثا غورث نہیں ہے۔ یہ بڑا آسان سا معاملہ ہے لیکن تمہاری بات اور ہے۔ گندم کی پیداوار واقعتاً بہت اچھی تھی۔ فی ایکڑ کے حساب سے بھی گزشتہ سال سے بہتر فصل تھی اور کاشتہ رقبے میں اضافہ بھی ایک وجہ تھی‘ جس کے باعث گندم بہت ہی بہتر ہوئی؛ تاہم اس کی اگر حقیقی وجہ تلاش کی جائے تو وہ بڑی سادہ ہے‘ یہ کہ گندم کا سرکاری ریٹ کافی بہترہو گیا تھا۔ کاشتکار کواگر کسی فصل میں چار پیسے بچیں گے تو وہ اسے کاشت کرے گا ورنہ اس فصل کو چھوڑ کر کوئی اور فصل کاشت کرلے گا۔ یہ بڑا سیدھا سا کلیہ ہے جس کی بنیاد معاشیات کے سادہ سے قانون سے جڑی ہوئی ہے‘ نفع نقصان کا قانون۔ کوئی شخص نقصان والا کاروبار یا سودا کرنا پسند نہیں کرتا۔ کاشتکاری ذریعہ روزگار ہے اور اگر اس میں آمدن لاگت سے کم ہو تو کوئی شخص ایسا کام کرنا قبول نہیں کرتا۔ ریٹ مناسب تھا۔ کاشتکار کو اس میں چار پیسے بچنے کی امید نظر آئی تواس نے نسبتاً زیادہ رقبے پر کاشت کی اور منافع کی امید میں اس پر خرچہ بھی کیا۔ اچھے بیج، کھاد اور پانی پر آپ آمدن کی امید کی بنیاد پر خرچہ کرتے ہیں۔ سو کاشتکار نے ذرائع مداخل پر دل سے خرچہ کیا اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ گندم کی ریکارڈ فصل حاصل ہوئی۔ اس کے باوجود ہمیں گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ اس کی وجہ بڑی سادہ ہے۔ ہماری آبادی میں ہونے والا اضافہ فصلات میں ہونے والے اضافے سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں‘ بڑا سادہ سا حساب کتاب ہے۔ یہ ملک زرعی ملک کہلاتا ہے مگر حقیقت میں یہ زرعی پیداوار پر زور دینے والا نہیں بلکہ آبادی کی پیداوار پر زور دینے والا ملک ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ آبادی کی شرح میں اضافہ اتنا زیادہ ہے کہ زرعی پیداوار اور آمدنی میں ہونے والے اضافے کے باوجود ہمارے ہاں غربت میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور زرعی پیداوار بھی پوری نہیں پڑ رہی۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے فوڈ سکیورٹی کے سلسلے میں وارننگ دی کہ آئندہ سالوں میں ہمیں اس معاملے میں بہت مشکلات پیش آنے والی ہیں۔ دراصل یہ تصویر کا دوسرا رخ ہے‘ اصل رخ یہ ہے کہ آبادی میں ہونے والے بے پناہ اضافے نے ہر چیز میں ہونے والی بہتری کے اثرات کو ملیامیٹ کرکے رکھ دیا ہے۔ زرعی پیداوار میں اضافہ اگر آبادی میں ہونے والے اضافے سے زیادہ ہو تو آپ کو فوڈ سکیورٹی کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں آئے گا جبکہ دوسری صورت میں مشکلات نوشتہ دیوار ہیں۔ ہمارے ساتھ یہی ہو رہا ہے مگر ہم نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دیوار پر کچھ نہیں لکھا ہوا۔
دنیا بھر میں آبادی بڑھ رہی ہے اور انسان اپنے وسائل، آمدنی اور زرعی پیداوار میں اضافہ کرکے آبادی میں ہونے والے اضافے کی ضروریات پوری کرنے کی سعیٔ مسلسل کر رہا ہے لیکن ہمارے ہاں آبادی میں ہونے والا اضافہ تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ یورپ وغیرہ کو تو گولی ماریں‘ ان سے موازنہ کرنا توایک غیر منطقی مقابلہ ہوگا‘ ہم اپنے علاقائی تناظر میں دیکھیں تو 1971 میں پاکستان کی کل آبادی تیرہ کروڑ سے کچھ کم تھی۔ تب مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کی آبادی ساڑھے چھ کروڑ اور مغربی پاکستان کی آبادی پانچ کروڑ اسی لاکھ تھی‘ یعنی مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان سے ستر لاکھ نفوس زیادہ تھی اور تب انڈونیشیا کی آبادی گیارہ کروڑ ستر لاکھ تھی۔ آج پاکستان کی آبادی بائیس کروڑ‘ انڈونیشیا کی آبادی ستائیس کروڑ اور بنگلہ دیش کی آبادی ساڑھے سولہ کروڑ ہے۔ اگر بنگلہ دیش کی آبادی میں پاکستان کی آبادی کی شرح سے اضافہ ہوتا تو آج بنگلہ دیش کی آبادی پچیس کروڑ کے لگ بھگ اور انڈونیشیا کی آبادی چوالیس کروڑ ہونی چاہئے تھی‘ لیکن ایسا نہیں ہے۔ دونوں ممالک مسلمان ہیں اور آبادی میں اضافے کے کافی شوقین ہوں گے‘ مگر اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ان کا یہ شوق بہرحال ہمارے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ پاکستان میں ایسے معاملات پر لکھتے ہوئے سب سے پہلے تو ایسے خود ساختہ مفتیوں سے ڈر لگتا ہے جنہیں عملی طور پر دین اور اس کی تعلیم سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا اور وہ سنجیدہ اور نازک معاملات کو ان کے سیاق و سباق کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے سستی شہرت کے طلبگار ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آبادی میں اضافے کو ہی عین اسلام سمجھتے ہیں۔ آبادی میں اس بے پناہ اضافے سے شاید ہم عالم کفر کو تو فتح نہ کر سکیں مگر اپنے آپ کو برباد ضرور کر لیں گے۔ بقول چودھری بھکن ہماری بائیس کروڑ آبادی بھی سمجھیں سراسر جھوٹ ہے‘ اصل آبادی اس سے کروڑ دو کروڑ زائد ہوگی۔ ہم نے اور کون سا کام ڈھنگ سے کیا ہے جو مردم شماری ٹھیک سے کر لی ہوگی؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں