نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- جیت پراللہ تعالیٰ کےحضورسربسجودہیں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- کامیابی اپنےمرحوم دوست پرویزملک کےنام کرتاہوں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- مرحوم پرویزملک نوازشریف کےعظیم ساتھی تھے،شہبازشریف
Coronavirus Updates
"KDC" (space) message & send to 7575

بلدیاتی انتخابات اور حکومت

عدالتِ عظمیٰ نے بلدیاتی ادارے فعال کرنے کے حوالے سے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پر پنجاب حکومت کے موجودہ اور سابقہ چیف سیکرٹری کو طلب کیا ہے۔عدالتی حکم پر عمل نہ کر کے پنجاب حکومت عدالتی احکامات کی روشنی میں توہین عدالت کی مرتکب ہوتی نظر آرہی ہے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بلدیاتی طریقہ کار‘ قوانین اور حکمت عملی سے نابلد قرار دیا ہے۔ بادی النظر میں پنجاب حکومت کے سابقہ چیف سیکرٹری اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ عدالت عظمیٰ کو حقائق پر مبنی صورتحال سے آگاہ کردیں گے اور ان کے بیانات کی روشنی میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو بھی توہین عدالت کے معاملے میں طلب کیا جا سکتا ہے۔سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود پنجاب حکومت کے blue-eyedبیوروکریٹس نے لارڈ میئر لاہور کو دفتر سے نکلواکر تالے لگوادیے تھے۔یہ بیوروکریٹس بھی سابق چیف سیکرٹری پنجاب کے حکم کے تابع تھے ‘پنجاب حکومت نے 25مارچ 2021ء کے عدالتی احکامات کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے لوکل گورنمنٹ کے سسٹم کو مفلوج کردیا جبکہ اسی طرح کے کیس میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے بھی عدالت عظمیٰ کے ریمارکس پر برملا کہہ دیا تھا کہ پنجاب کے لوکل گورنمنٹ کے اداروں کو تحلیل کرنا غیر آئینی اور غیر قانونی تھا جس پر وزیراعظم پاکستان نے سینیٹ الیکشن کی آڑ میں چیف الیکشن کمشنر اور چاروں اراکینِ الیکشن کمیشن سے استعفیٰ طلب کرنے پر زور دیا اور حکومت اور الیکشن کمیشن کے مابین کشیدگی کی انتہا گزشتہ ماہ دیکھنے میں آئی جب ایک وفاقی وزیر نے الیکشن کمیشن کو نذرآتش کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر اور ارکان الیکشن کمیشن کے بارے میں جو زبان استعمال کی وہ نازیبا قرار دی گئی۔ بعدازاں مزید دووفاقی وزراء الیکشن کمیشن کے خلاف میدانِ جنگ میں کود پڑے جس پر الیکشن کمیشن نے ان وزرا کو بھی نوٹس جاری کردیے ۔
الیکشن کمیشن کے واضح احکام کو نظر انداز کرنے کی ایک مثال رواں سال فروری میں ہونے والے این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی انتخابی عمل میں دیکھنے میں آئی جب حکومت کے اداروں نے الیکشن کمیشن کے سربراہ کے ٹیلی فون سننے سے گریز کیا اور اس کے جو نتائج سامنے آئے اس سے پاکستانی عوام اچھی طرح آگاہ ہیں۔ اگر صوبائی انتظامیہ کے افسران الیکشن کمیشن کی ہدایات کو نظر انداز نہ کرتے تو یقینی طور پر اُس الیکشن میں جو غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کئے گئے ایسا ہر گز نہ ہوتا۔ پنجاب کے سابق چیف سیکرٹری الیکشن کمیشن کی انکوائری کی زد میں ہیں اور ڈسکہ کے متنازع الیکشن کی رپورٹ بھی منظر عام پر آچکی ہے اورالیکشن کمیشن نے جو ڈیشل انکوائری کا حکم بھی دے رکھا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم آفس نے ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس کے معمول کی ٹرانسفر اور تقرر کو متنازع بناکر بھی ابہام پیداکیا۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی محب وطن اور قومی سلامتی کے امین ہوتے ہیں ‘معمول کی ٹرانسفر کو ایسے انداز میں اچھالنے کی روایت اب ہی دیکھنے میں آئی ہے ۔ اگرچہ اب یہ معاملہ حل ہو چکا ہے مگر ہفتہ بھر پہلے کی جو صورتحال تھی اس پر حیرت کا اظہار ضرور کیا جاتا رہے گا۔اس صورتحال پر پاکستان کے عوام بلا شبہ پریشان ہوئے اور قومی اداروں اور حکومت کے مابین ہم آہنگی کے فقدان پر ہر حلقے کی جانب سے سوال اٹھائے گئے ۔
آئندہ انتخاب میں کامیابی کے لیے حکمران جماعت میں اضطرابی کیفیت نظر آرہی ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ حکومتی اقدامات کا مقصد اصلاحات سے زیادہ آئندہ انتخابات میں اکثریت حاصل کرنا ہے ۔حکومت کی نظر قومی انتخابات پر لگی ہوئی ہے مگر اسے احساس ہی نہیں کہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کو آئندہ مارچ تک بلدیاتی اداروں کے انتخابات کرانے کے لیے پابند کرچکی ہے مگر حکومت اس کی تیاری کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔ مہنگائی ‘رشوت ‘اقربا نوازی ‘ فنڈز میں خورد برد‘ بیوروکریسی کے بے لگام ہونے اور صوبائی قیادت میں صلاحیت کے فقدان کی وجہ سے تحریک انصاف کو بلدیاتی انتخابات میں بھی کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا۔حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں کو بلدیاتی جنگ میں اپنی فتح نظر آرہی ہے۔ موجودہ حکومت نے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے جو سرکاری ترجمان مقررکیے ہیں ان کے بیانات کی وجہ سے حکومت کے لیے مشکلات مزید بڑھتی جا رہی ہیں ۔ایسے آتش فشاں بیانات کو کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کو مدِ نظر رکھنا چاہیے تھا ‘ مگر اب تو وہ انتخابات بھی پرانا واقعہ ہو چکے ہیں کیونکہ بلا مبالغہ روزانہ کی بنیاد پر بڑھنے والی مہنگائی نے عوام کے لیے ہر آنے والا دن گزرے دن سے سخت تر بنا دیا ہے۔
میرے مشاہدے کے مطابق بعض حکومتی ترجمان اور وزرا وزیرا عظم کے بارے میں اندرونی محفلوں میں وہی رائے رکھتے ہیں جو متحدہ اپوزیشن کے ارکان صدارتی الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کو اندھیرے میں رکھ کر قائم کئے ہوئے تھے۔ وزیراعظم کی کابینہ کے اہم وزرا نے ان کو دھوکے میں رکھا ۔تحریک انصاف بلدیاتی انتخابات میں کامیاب ہوجاتی اگر حکومت بننے کے بعد پہلے والے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت انتخابات کرا دیے جاتے ۔اب حکمران جماعت موجودہ حالات میں بلدیاتی انتخابات میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی اہل نظر نہیں آتی۔ یہ بھی جمہوری فارمولا ہے کہ قومی انتخابات میں وہی جماعت کامیاب ہوتی ہے جس کی اکثریت بلدیاتی اداروں میں ہو۔جہاں تک وزیر اعظم عمران خان کی سیاسی حکمت عملی کا تعلق ہے‘ چھ اکتوبر کے بعد ان کے بعض وزرا نے غیر منطقی طورپر معاملات کو غیر اطمینان بخش بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔وزیراعظم کے اتحادیوں میں اضطراب کی لہر دوڑ رہی ہے ‘متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اندرونی خلفشار سے پارٹی کراچی اور حیدر آباد میں اپنے ووٹ بینک سے محروم ہوتی جارہی ہے‘ ایسی اطلاعات ہیں کہ انہوں نے اپنے ووٹ کی طاقت کو جلا بخشنے کے لیے حکومتی گروپ سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اسی طرح گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور چودھری برادران اپنے اپنے مستقبل کی حکمت عملی تیارکررہے ہیں۔چودھری برادران کو بھی پارٹی کے منقسم ہونے کا خطرہ لاحق ہے کیونکہ چودھری برادران نے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کروانے میں بخل سے کام لیا ہے ۔یہ حقائق بظاہر حکومتی حلقوں کو معمولی نظر آرہے ہیں اوروزراوزیراعظم کو باور کروارہے ہیں کہ فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن الیکشن ایکٹ 2017کی دفعہ 210کے تحت متنازع فنڈ بحق سرکار ضبط کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کرسکے گا مگر انہیں ادراک نہیں کہ الیکشن کمیشن نے بادی النظر میں تحریک انصاف کے سالانہ پارٹی گوشوارے کو مسترد کردیا ہے ‘جس کی روشنی میں الیکشن کمیشن سیکشن 215کے تحت پارٹی کا سمبل واپس لینے کے اختیارات بھی رکھتا ہے جس سے پارٹی خود بخود آزاد حیثیت اختیار کرلے گی اور ملک میں پارلیمانی بحران پیدا ہو گا ‘لہٰذا حکومت کے الیکشن کمیشن سے معاملات بہتر اور آئینی طورپر اس کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے ان وزرا اور ترجمانوں کو کچھ سمجھانا چاہیے جنہوں نے الیکشن کمیشن کی توہین کی ہے۔ بہتر ہو اگر کابینہ کے اہم عہدوں پر ازسر نو تقرریاں ہوں اور زیادہ بھڑکیلا مزاج رکھنے والے وزرا کو سبکدوش کیا جائے جو حکومت کے لیے دردِسر بنے ہوئے ہیں ۔موجودہ صورتحال میں یہ کہنا غلط نہیں کہ داخلی اضطراب کی وجہ سے پاکستان20مارچ 1969ء جیسے حالات سے دوچار ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں