نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:انٹربینک میں ڈالر 27 پیسےمہنگا
  • بریکنگ :- انٹربینک میں ڈالر 176 روپے 75 پیسےپرٹریڈ
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

اپنے آپ کچھ ہونے والا نہیں

زندگی کتنی بڑی نعمت ہے اگر اس کا واقعی ادراک ہو جائے تو ہم میں سے بیشتر کا ذہنی توازن برقرار نہ رہے! زندگی سی نعمت کو ضایع ہونے سے بچانا ایک بڑی مشقّت ہے۔ جو لوگ زندگی کو نعمت کے درجے میں رکھ کر بسر کرتے ہیں وہ اِسے ضایع ہونے سے بچانے کے لیے کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔ اِن میں سے بیشتر وقت کے معاملے میں خاصی شدت کے ساتھ اصول پسند ہوتے ہیں۔ وقت کا ضیاع روکنے کے لیے وہ زندگی کو مختلف خانوں میں بانٹتے ہیں اور ہر خانے کے لیے مختص کیے جانے والے وقت کا احترام کرتے ہوئے اُسے کسی اور مد میں بروئے کار لانے سے گریز کرتے ہیں۔ ایسے لوگ چونکہ کم ہوتے ہیں اِس لیے بہت عجیب دکھائی دیتے ہیں۔ اُن کے شب و روز طے شدہ معمولات کے تحت گزرتے ہیں۔ 
عمومی سطح پر لوگ اس حقیقت کو تسلیم یا ہضم کرنے سے کتراتے ہیں کہ زندگی بسر کرنا ایک باضابطہ فن ہے جو سیکھنا ہی پڑتا ہے۔ جو لوگ یہ فن نہیں سیکھتے وہ زندگی بھر منتشر خیالوں کے اسیر رہتے ہیں۔ اُن کے بیشتر معاملات شدید بدنظمی کا شکار رہتے ہیں اور اِس کے نتیجے میں اُنہیں مستقل بنیاد پر خسارے کا سامنا رہتا ہے۔ 
انگلینڈ کے معروف فلسفی سرل ایڈون مچنسن جوڈ نے ''ڈایوجینیز : دی فیوچر آف لیزیور‘‘ نامی کتاب میں ''دی آرٹ آف لِونگ‘‘ کے زیر عنوان ترتیب دیئے گئے باب میں لکھا ہے ''مہذب انسان کو اپنی عمر کا دو تہائی‘ زندگی بسر کرنے کے لیے ناگزیر سمجھی جانے والی اشیاء و خدمات کا حصول یقینی بنانے پر صرف کرنا پڑتا ہے۔ اُسے جینے کے لیے عمر کا ایک تہائی مل پاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ مہذب انسان زندگی بسر کرنے یعنی جینے کے فن کے حوالے سے قابلِ رحم حد تک بودے پن کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اُس کے ذہن میں یہ غلط فہمی تواتر کے ساتھ پنپتی رہتی ہے کہ زندگی بسر کرنے کا فن جبلی معاملہ ہے یعنی سیکھنے کی ضرورت نہیں، یہ خود بخود آ جائے گا! یہ سوچ محض سراب ہے۔ زندگی ڈھنگ سے بسر کرنا ایک فن ہے جو سیکھنا پڑتا ہے۔ ہر معاملے میں اعلیٰ ذوق کو پروان چڑھانا پڑتا ہے‘‘۔
ہم زندگی بھر نشیب و فراز کے مراحل سے گزرتے رہتے ہیں۔ یہ بالکل فطری ہے۔ جو بھی انسان معاشرے میں رہتا ہے اُسے اشتراکِ عمل کے مرحلے سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ ہر انسان کا مزاج الگ ہے۔ مختلف مزاج کے حامل انسان جب مل کر کام کرتے ہیں تو اُن میں بہت سے امور سے متعلق اختلاف بھی پروان چڑھتا ہے۔ کوئی تیز مزاج کا ہوتا ہے تو کوئی دھیمے مزاج کا۔ کسی میں شوخی ہوتی ہے اور کسی میں سنجیدگی۔ کوئی بات بات پر خوفزدہ ہو جاتا ہے اور کوئی انتہائی خطرناک صورتحال میں بھی ہمت ہارے بغیر کچھ بھی کر گزرتا ہے۔ جب ہم اشتراکِ عمل کو زندگی کا ناگزیر جز گردانتے ہیں تب اس حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں کہ دوسروں سے ہمیں صرف آسانیاں نہیں، مشکلات بھی ملیں گی۔ وقت اپنے ساتھ بہت کچھ لاتا ہے اور بہت لے جاتا ہے۔ یہ سب کچھ زندگی کا حصہ ہے۔ زندگی کسی معیّن انداز کا نام نہیں۔ ہم بھی ایک سے نہیں رہتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم میں فکر و نظر کی تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے۔ قویٰ کے مضمحل ہونے کے ساتھ ساتھ ہم میں کام کرنے کی سکت کا گراف بھی گرتا جاتا ہے۔ یہی تبدیلیاں دوسروں میں بھی رونما ہوتی ہیں۔ جس نے یہ حقیقت سمجھ لی‘ وہی کامیاب رہا۔ 
ہم ایک ایسی دنیا کا حصہ ہیں جس میں کوئی بھی کام خود بخود نہیں ہوتا۔ اگر کوئی مشین کوئی چیز بناتی چلی جاتی ہے تب بھی اُسے آن تو کرنا پڑتا ہے۔ کوئی بھی خود کار نظام اِس بات کا محتاج تو بہرحال ہوتا ہی ہے کہ کوئی اُسے کام پر لگائے، کام سونپے یعنی آن کرے۔ یہی حال انسان کا بھی ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اُس میں خود بخود کوئی صلاحیت پیدا ہو جائے گی تو یقین کیجیے کہ اُس نے خود کو خوش فہمی کی دلدل میں دھنسالیا ہے۔ کسی بھی شعبے سے متعلق میلان تو پایا جاسکتا ہے مگر یہ میلان اُسے حقیقی مطلوب صلاحیت کا حامل نہیں بناسکتا۔ میلان کے مطابق بہت کچھ سیکھنا پڑتا ہے، مشق کرنا پڑتی ہے۔ اس مرحلے سے گزرے بغیر کوئی بھی کچھ نہیں کرسکتا۔ آج زندگی صرف اور صرف مسابقت سے عبارت ہے۔ قدم قدم پر مسابقت کا سامنا رہتا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو جبکہ دنیا کی آبادی بڑھ چکی ہے اور ہر شعبے میں نمایاں مقام تک پہنچنے کے لیے مسابقت کا بازار گرم ہے۔ صلاحیتوں کا اظہار کرنے والوں کی کمی نہیں۔ ایسے میں ہر اس انسان کے لیے شدید مشکلات پائی جاتی ہیں جو کچھ کر دکھانے کا ارادہ رکھتا ہو اور اس حوالے سے سکت کا بھی حامل ہو۔ کسی کام کے لیے درکار سکت کا ہونا خوش آئند سہی مگر محض سکت کا حامل ہونے سے کچھ نہیں ہوتا۔ صلاحیت کا پایا جانا بھی لازم ہے اور صلاحیت کو مشق کے ذریعے نکھارنا بھی ناگزیر ہے۔ مشق ہی انسان کو بہت کچھ کرنے کے قابل بناتی ہے۔ دنیا کے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی صلاحیت ضرور پائی جاتی ہے مگر یہ خام شکل میں ہوتی ہے۔ کسی بھی طرح کی صلاحیت کی fine-tunning کامیابی کے لیے لازم ہے۔ اس مرحلے سے گزرنے پر ہی انسان کچھ کر پاتا ہے۔ ہر دور میں کامیابی کا یہی طریق رہا ہے۔ 
زندگی بسر کرنے کا فن بھی غیر معمولی محنت کا طالب ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی بسر کرنا کوئی فن نہیں یا یہ اگر کوئی فن ہے بھی تو خود بخود آ جاتا ہے‘ محض خام خیالی کے اسیر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈھنگ سے جینے کے لیے بہت کچھ اپنانا اور بہت کچھ ترک کرنا پڑتا ہے۔ یہ فن راتوں رات نہیں سیکھا جاسکتا۔ یہ تو مرتے دم تک کا معاملہ ہے۔ پل پل بدلنے والے حالات ہمیں بہت کچھ سکھاتے ہیں اور ہم سے بہت کچھ چاہتے ہیں۔ کہیں ہمیں ایثار کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے اور کہیں ہمیں سخت مزاجی کے ساتھ دوسروں کو سبق سکھانا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی کسی کو کچھ دینا لازم ٹھہرتا ہے اور کبھی وصولی کے بغیر بات نہیں بنتی۔ 
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ کچھ بھی خود بخود نہیں ہوتا بلکہ کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی معاملہ، بلا واسطہ طورپر نہ سہی تو بالواسطہ طور پر ہی سہی، کسی نہ کسی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ہر عمل کا مساوی ردِ عمل ہوتا ہے۔ دنیا کا نظام اِسی طور چلتا رہتا ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر بات بنتی نہیں۔ ہر دور چند ایک خصوصیات کے حوالے سے شناخت کیا جاتا ہے۔ خصوصیات یعنی تبدیلیاں۔ ہمارا ماحول پل پل تبدیل ہو رہا ہے۔ ع
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں 
ہمارے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ دنیا کو جس طور چلنا ہوتا ہے‘ اُسی طور چلتی رہتی ہے۔ ہمیں تبدیل ہونا پڑتا ہے۔ ڈھنگ سے جینے کا یہی ایک معقول طریقہ ہے۔ ماحول اور اُس میں موجود انسانوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھنے اور سمجھنے کی صورت میں ہم اپنے آپ کو بدلنے کے لیے تیار کر پاتے ہیں۔ یہ ہے زندگی بسر کرنے کا ہنر۔ ہر تبدیلی کے تقاضے نبھانے کی کوشش ہی ہمیں اپنے اور دوسروں کے لیے کارآمد و بارآور بناتی ہے۔ 
عمر کے کسی بھی موڑ پر اور کسی بھی مرحلے میں اِس اُمّید پر بھروسہ یا اکتفا نہیں کیا جاسکتا کہ بہت کچھ اپنے آپ بدل جائے گا اور ہم کسی دن خود کو ایسے مقام پر پائیں گے جس سے آگے صرف آسانیاں ہوں گی۔ ایسا کبھی ہوا ہے‘ نہ ہوگا۔ ہر سطح پر زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت ہے۔ ڈھنگ سے جینے کی خواہش رکھنے والے ہر انسان کو متواتر محنت کرنے سے غرض ہونی چاہیے۔ اور ساتھ ہی ساتھ اِس امر کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے کہ کچھ نہ کچھ سیکھتے رہنا ہے۔ جس نے یہ طے کیا ہے کہ کچھ کرنا ہے، کچھ بن کے دکھانا ہے اُس کے لیے لازم ہے کہ سیکھنے کے مرحلے کو سنجیدگی سے لے یعنی اِس آسرے میں نہ رہے کہ خود بخود بہت کچھ اچھا ہوتا چلا جائے گا اور مشکلات رفتہ رفتہ آسانیوں میں تبدیل ہوتی چلی جائیں گی۔ ایسا کبھی ہونے والا نہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں