’ڈیفالٹ کا خطرہ ٹل گیا‘

جس وقت عمران خان کی گرفتاری کی خبر آئی‘ میں ایک اہم میٹنگ اٹینڈ کرنے کے بعد آفس کی طرف جا رہا تھا۔ پی ٹی آئی کارکنان نے ر استے بند کرنا شروع کر دیے تھے۔ ایک پی ٹی آئی رہنما گلبرگ کے قریب ایک جلوس کی قیادت کر رہے تھے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں ٹائراور پارٹی کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ کارکنان نے ٹائر چوک پر رکھ کر انہیں آگ لگا دی۔ لاہور کی معروف اور مصروف ترین شاہراہ پر ٹائروں کو آگ لگا کر ٹریفک بلاک کی جارہی تھی لیکن پولیس اہلکار وہاں موجود نہیں تھے۔ شاید جلوس کو دیکھ کر ادھر ادھر ہو گئے ہوں۔ اس کے بعد شام کو لبرٹی سے گزر ہوا تو وہاں بھی پولیس کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ مشتعل لوگ لبرٹی چوک پر واقع ایک پلازے کو گھیر کر کھڑے تھے لیکن کوئی سکیورٹی اہلکار موجود نہیں تھا۔ قذافی سٹیڈیم، جیل روڈ، ماڈل ٹاون سمیت کئی مقامات پراحتجاج اور مظاہرے ہو رہے تھے لیکن کسی مقام پر پولیس کی کوئی گاڑی یا کوئی اہلکار دکھائی نہیں دیا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ لاہور پر کسی طاقت کا قبضہ ہو گیا ہے۔ مشتعل ہجوم جہاں جانا چاہ رہا تھا اورجو کرنا چاہ رہا تھا‘ اسے کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں تھا۔ اگر ماضی کو مدنظر رکھا جائے تو پاکستان میں جمہوری پارٹیوں کے سربراہان سمیت مرکزی قیادت کی گرفتاریاں عمل میں لائی جاتی رہی ہیں مگر کبھی بھی اس قسم کا احتجاجی ردِعمل نہیں دیکھا گیا۔ اگر اکا دکا واقعات ہوئے بھی تو پارٹی قیادت نے مشتعل کارکنان سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔ اس کے علاوہ ماضی میں نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے پر پابندیاں لگانے اور ایک دوسرے پر مقدمات قائم کرنے کی ہر ممکن کوششیں کیں مگر مخالف سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کی ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ موجودہ احتجاج کے حوالے سے حکومت کے ردعمل کا انتظار ہے۔ اگر بروقت ردعمل نہ دیا گیا تو مستقبل کے لیے احتجاج کا نیا راستہ کھل جائے گا جو سیاسی و ملکی حوالے سے بالکل بھی خوش آئند نہ ہو گا۔
اگر عمران خان کی گرفتاری پر بات کی جائے تو وہ یقینی تھی۔ میرے خیال میں یہ تاخیر سے ہوئی ہے‘ اسے چار ماہ قبل ہی عمل میں آ جانا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو اب تک ریمانڈ کے بعد ضمانتیں ہو چکی ہوتیں اور الیکشن کا ماحول بنانے کے حالات سازگار ہوتے۔ ایک اعتراض گرفتاری کے طریقہ کار پر کیا جا رہا ہے کہ جب وہ عدالت میں ضمانت کیلئے موجود تھے تو انہیں کیوں گرفتار کیا گیا۔ یہ بات درست ہے کہ جب ملزم عدالت میں ضمانت کیلئے پیش ہو جائے اور پولیس اُس کیس میں گرفتار کرنے آجائے تو جج مداخلت کر کے گرفتاری سے روک سکتا ہے لیکن اگر پیشی کسی ایک کیس میں ہو اور گرفتاری کسی دوسرے کیس میں ڈال دی جائے تو ایسی صورت میں جواز مل جاتا ہے اور اسی نکتے کا فائدہ اٹھا کر گرفتاری عمل میں لائی گئی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں گرفتاری کو قانونی قرار دیا ہے۔
رہی بات کہ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی گرفتاری کتنی ضروری تھی تو اس کا اندازہ نیب کے دلائل سننے کے بعد ہی ہو سکے گا۔ نیب کا ماضی کا ریکارڈ زیادہ اچھا نہیں رہا۔ ملزموں کے خلاف ثبوت اور دلائل کی اکثر کمی رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ پچھلے چار سالوں میں ملزمان کی اکثریت کی ضمانتیں ہوتی رہی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جلد ہی خان صاحب کی بھی ضمانت ہو جائے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت نے ماضی سے کچھ سیکھا بھی ہے یا نہیں؟ جب میاں نواز شریف گرفتار ہوئے تھے تب میں نے کالم میں ذکر کیا تھا کہ آج نوازشریف گرفتار ہوئے ہیں اور کل عمران خان کی باری ہو گی۔ ملک کی ترقی نہ کرنے کی ایک وجہ حکمرانوں کی ذاتی ترجیحات ہیں۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعد سب سے پہلے بدلے کی سیاست سے اَنا کو تسکین پہنچانا ہمارے حکمرانوں کا اولین مقصد رہا ہے۔ تحریک انصاف کے دور میں (ن) لیگ کی پوری سینئر قیادت اور پیپلز پارٹی کی تقریباً آدھی قیادت نیب کیسز میں جیلوں میں ڈالی گئی مگر ثابت کچھ نہیں ہوا۔بلکہ اس وقت ایک ایسا ٹائم بھی آیا کہ ایک پروڈیوسر کا مجھے فون آیا کہ اپوزیشن کا موقف دینے کے لیے کوئی قابلِ ذکر سینئر رہنما موجود ہی نہیں‘ سب جیل میں ڈال دیے گئے ہیں آپ سے درخواست ہے کہ اپوزیشن کا پوائنٹ آف ویو دینے کے لیے آپ پروگرام میں آجائیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تحریک انصاف حکومت میں تھی اور میں نے ہمیشہ سرکار پر زیادہ تنقید کی ہے تاکہ اصلاح کا پہلو نکل سکے۔تحریک انصاف کے دور میں وزرا اور خود خان صاحب پہلے ہی بتا دیتے تھے کہ کون نیب کیس میں گرفتار ہونے والا ہے۔ آج نیب نے خان صاحب کو گرفتار کیا ہے تو کہا جا رہا ہے کہ حکومت اس گرفتاری کے پیچھے ہے۔ اگر ان باتوں کا احساس پہلے ہو جاتا تو شاید آج نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ بدلے کی سیاست میں کسی کی جیت نہیں ہوتی لیکن ملک ہارجاتا ہے۔ شاید ملک کی کسی کو فکر ہی نہیں۔ ملک میں جلائو گھیرائو ہو رہا تھا اور وزیراعظم لندن میں بیٹھے تھے۔
ملک میں ہر روز نئے ایڈونچر ہو رہے ہیں اور سرکار کو کوئی پروا نہیں ہے۔ ایسے وقت میں جب موڈیز نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج کے بغیر ڈیفالٹ کر سکتا ہے‘ وزارتِ خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ''ڈیفالٹ کا خطرہ ٹل گیا ہے‘‘۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 30 جون کو رواں مالی سال کے اختتام تک 3 ارب 70کروڑ ڈالر کی ادائیگی کرنا ہے، اس حوالے سے کسی بھی قسم کی پریشان کن صورتحال نہیں ہے کیونکہ قرض کی ادائیگی کے لیے انتظام کیا جاچکا ہے۔ دوسری جانب موڈیز کے مطابق جون کے بعد آئی ایم ایف کیساتھ معاہدے کی صورت میں کثیر الجہتی اور دوطرفہ شراکت داروں سے اضافی فنانسنگ کی سہولت مل سکے گی۔ ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ کی وصولیوں اور قابلِ استعمال ذخائر کے تناسب کے طور پر پاکستان کی مجموعی بیرونی فنانسنگ کی ضروریات مالی سال2024ء میں بڑھ کر 139.5 فیصد ہوسکتی ہیں جو 2023ء میں 133 فیصد تھیں۔ یہ صورتحال تشویشناک ہے۔ گزشتہ روز انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 5 روپے 38 پیسے اضافے کے بعد 290 روپے 22 پیسے کا ہوگیا، ماہرین اس کی وجہ سیاسی تنائو میں اضافے اور موڈیز کی پاکستان کے دیوالیہ ہونے سے متعلق رپورٹ کو قرار دے رہے ہیں۔ ادھر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بھی کاروبار کا منفی رجحان دیکھنے میں آیا اور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 48 پوائنٹس کم ہونے کے بعد 41 ہزار 325 پر آ گیا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ جب تک آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف کی سطح کا معاہدہ نہیں ہو جاتا اور سیاسی صورتحال میں استحکام نہیں آ جاتا‘ اس وقت تک معاشی دباؤ برقرار رہے گا۔ ان حالات میں وزیر خزانہ ہر چند دن بعد بیان دیتے ہیں کہ ملک سے ڈیفالٹ کا خطرہ ٹل گیا ہے مگر ابھی تک فنانسنگ کا کوئی مستحکم معاشی منصوبہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اس وقت پاکستان کے ڈالر ذخائر تقریباً ساڑھے چار ارب ڈالرز ہیں۔ اگر ان میں سے تین ارب سترکروڑ ڈالرز کی قرض ادائیگی کی جاتی ہے تو 80 کروڑ ڈالر کے ذخائر باقی بچیں گے۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت یہ فنڈ کسی اور ملک سے ملنے کی توقع لگائی بیٹھی ہے۔ آئی ایم ایف کے بغیر گلف ممالک سے قرض ملنے میں شدید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ان کے بعد صرف چین ہی واحد ملک ہے جو پاکستان کو سپورٹ کر سکتا ہے۔ دنیا کے لیے آئی ایم ایف آخری آپشن ہوتا ہے جبکہ پاکستان کے لیے پہلا اور آخری آپشن ہمیشہ چین رہا ہے۔ موجودہ حالات میں چین پاکستان کو کس طرح سپورٹ کرے گا‘ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر پاکستان جون تک کے قرضوں کی ادائیگی کر دیتا ہے تو بھی اگلے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں چھ ارب ڈالر کے قرض ادا کرنا ہوں گے۔ ممکنہ طور پر اس وقت پاکستان میں الیکشن ہو رہے ہوں گے یا وفاق میں نگران سیٹ اَپ کام کر رہا ہو گا۔ آج اگر تین ارب ڈالرز کا اہتمام نہیں ہو رہا تو اس وقت چھ ارب ڈالرز کہاں سے آئیں گے؟ موڈیز کے خدشات بلاوجہ نہیں ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں