نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آپ کو تاریخی جدوجہد کرنے پرمبارکباد پیش کرتا ہوں،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:سندھ حکومت اور جماعت اسلامی نے مل کر ایک مسودہ بنایا ہے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:صوبائی فنانس کمیشن کے قیام پر رضامندہیں،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- کراچی: بلدیاتی قانون پر جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے مذاکرات کامیاب
  • بریکنگ :- سندھ حکومت اور جماعت اسلامی کےدرمیان تحریری معاہدہ
  • بریکنگ :- پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی میئر کراچی کو بااختیار بنانےپر متفق
  • بریکنگ :- جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کےدرمیان بلدیاتی قانون میں ترمیم پر اتفاق،ناصر حسین
  • بریکنگ :- مئیر اور ٹاؤن چیئرمین کمیشن کے ممبر ہوں گے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- سندھ حکومت تعلیمی ادارے اور اسپتال بلدیہ کو واپس کرنے پر تیار،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- آکٹرائے اور موٹر وہیکل ٹیکس میں سےبھی بلدیہ کراچی کو حصہ ملے گا،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- کراچی: مئیر کراچی واٹر بورڈ کے چیئرمین ہوں گے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- بلدیہ کو خود مختار بنانے کیلئےمالی وسائل دینےپر سندھ حکومت تیار، ناصر حسین
  • بریکنگ :- کراچی:سندھ حکومت کا وفد مذاکرات کے بعد روانہ
  • بریکنگ :- کراچی:امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا دھرنے کے شرکا سے خطاب
Coronavirus Updates
"MABC" (space) message & send to 7575

پورٹ قاسم اور مقامِ شکر

پاکستان میں گیس کی کمی دور کرنے کیلئے اس وقت در آمدی گیس کے دو ٹرمینل پورٹ قاسم‘ کراچی میں کام کر رہے ہیں۔ اس کے با وجود کہ ملک میں گیس کا ایک بہترین انفرا سٹرکچر موجود ہے جسے معیاری ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام کہا جاسکتا ہے‘ ملک گیس بحران کا شکار ہے۔ اس وقت پاکستان میں 13 ہزار 315 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائنوں اور1 لاکھ 49 ہزار 715 کلو میٹر ڈسٹری بیوشن جبکہ 39 ہزار 612 کلو میٹر سروس گیس پائپ لائن کا نیٹ ورک کام کرر ہاہے‘ جو ایک اندازے کے مطابق ملک کے ایک کروڑ کے لگ بھگ صارفین کو گیس کی فراہمی کے کام آرہا ہے۔ 2015ء ملکی توانائی کے شعبے میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کیونکہ یہی وہ سال تھا جب پاکستان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے پہلی دفعہ گیس بیرونِ ملک سے در آمد کرنا پڑی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ رسد کے مقابلے میں طلب میں بے تحاشا اضافہ ہو نا شروع ہو گیا تھا جس نے تمام معاملات تلپٹ کر کے رکھ دیے تھے، اس کے نتیجے میں ملکی انڈسٹری کابڑا حصہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ گیا جس سے بیروزگاری میں خاصا اضافہ ہوا۔ جب یہ معلوم ہو چکا تھا کہ ملکی گیس کی پیداوار روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے تو اسی وقت مناسب پلاننگ سے اس معاملے کو ہینڈل کرنا چاہیے تھا لیکن اس کے برعکس سیاسی مفادات اور ووٹ حاصل کرنے کی دوڑ میں ایسی ایسی جگہوں پر گیس کی پائپ لائنیں بچھانا شروع کر دی گئیں جن سے گیس کی طلب اپنی تمام حدود پارکر گئی۔ بدلے میں ووٹ تو مل گئے لیکن اس سے نقصان یہ ہوا کہ ایک جانب ملکی پیداوار میں خاصی کمی آئی تو دوسری جانب طلب اور رسد کے فرق کو پورا کرنے کیلئے قیمتی زر مبا دلہ متبادل گیس کی امپورٹ میں جھونکا جانے لگا۔نتیجہ یہ نکلا کہ اب ہمارا ملک در آمدی گیس کا محتاج ہو چکا ہے۔ اب ہر سال نہ صرف گیس امپورٹ کرنا ہو گی بلکہ زرمبادلہ کا ڈھیر اس پر الگ سے خرچ ہو گا۔ ایک غلط سیاسی فیصلے کی سزا آج پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔
دورِ حاضر میں تصورات اورنظریات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ جنگ صرف میدان میں ہی نہیں‘ ابلاغی اور معاشی محاذوں پر بھی لڑی جا رہی ہے۔ اس لیے ان شعبوں کو مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بنانا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا دشمن سے متصل ملکی سرحدوں کو۔ توانائی کا شعبہ‘ جس میں تیل، گیس اور پانی کا اہم کردار ہے‘ اس وقت ہماری ڈیفنس لائن کو کمزور کر رہا ہے جس کا نتیجہ کسی طور بھی اچھا نہیں ہو گا۔ توانائی کے شعبوں سے متعلق فیصلہ سازوں نے خاموش بیٹھے رہنے کے بجائے رسد ا ور طلب کو دیکھتے ہوئے جنگی بنیا دوں پر کام کرتے ہوئے ملکی بندر گاہوں کو گیس کے نئے ٹرمینلز سے آراستہ کیوں نہیں کیا؟ ان کے اس تساہل کی قیمت سارا ملک ادا کر رہا ہے۔ ویسے سیاسی میدان سے کوئی خاص امید بھی وابستہ نہیں کہ اس نے تو ایک دوسرے کا دامن ہی کھینچنا ہے اور یہی ہمارے ملک کی کئی دہائیوں سے ریت چلی آ رہی ہے۔ ہر کوئی اپنی کوتاہی کا ذمہ دار دوسرے کو ٹھہرا کر سمجھتا ہے کہ یہی کافی ہے۔ ایسی سیاست میں جب ہر جانب سے ایک ہی قسم کی آوازیں لگائی جا رہی ہوں کہ کچھ بھی نہیں ہو رہا‘ حکومت کے وزیروں‘ مشیروں کی نا اہلی سے ملک پستی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے تو گردان کی صورت میں ابھرنے والے اس شور و غوغا سے دھیان ہٹا کر اپنی سماعت اور بصارت کو استعمال کرتے ہوئے اپنی آنکھوں اور کانوں سے کچھ دیکھنے اور سننے کی کوشش کرنا خاصا دشوار ہو جاتا ہے؛ تاہم ایسا کرنے کی صورت میں کچھ ایسے منا ظر اور حقیقتیں بھی سامنے آجاتی ہیں جنہیں دیکھا اور پرکھا جائے تو وہ یقین کی منزل اور روشنی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ تصویر کا ایک ہی رخ دیکھنے کے بجائے اس کا دوسرا رخ بھی دیکھا جائے کیونکہ یکطرفہ عقیدت اور اعتماد کبھی کبھی نقصان بھی پہنچا دیتے ہیں۔
پورٹ اینڈ شپنگ ایک ایسا ادارہ ہے جسے اگر ملکی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ کسی بھی ملک کی تجارت اور اس کی صنعتی ترقی کا دارو مدار پورٹس اینڈ شپنگ سے وابستہ ہے۔ یہی نہیں بلکہ اگر ملک میں بیروزگاری کا خاتمہ یا اس میں خاطر خواہ کمی کی بات کی جائے تو اس کا تعلق بھی ہماری سمندری استطاعت اور اس سے متعلق امپورٹ اور ایکسپورٹ ہی پر ہے۔ خام مال کی درآمد سے صنعتیں فروغ پاتی ہیں اور اس سے تیار کردہ اشیا کی اندورنِ ملک کھپت اور بیرونِ ملک بر آمد کی وجہ سے بیروزگاری میں کمی آتی ہے، یوں ہر شعبۂ زندگی کو استحکام ملتا ہے۔
کراچی اور گوادر کے بعد‘ پورٹ قاسم ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے لیکن جس تبدیلی نے یہ الفاظ لکھنے پر مجبور کیا وہ پورٹ قاسم کا وہ ریکارڈ ریونیو ہدف ہے جس سے ملکی خزانے کو خاصا حوصلہ میسر آ رہا ہے۔ یہ ریکارڈ اور استعداد دیکھنے کے بعد کیسے یقین کیا جائے کہ ہم ہر جانب سے نا لائقوں اور نا اہلوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اپوزیشن کی تمام جماعتوں اور کچھ نام نہاد تجزیہ کاروں نے تو عوام کی سماعتوں اورذہنوں میں یہی ٹھونس رکھا ہے کہ یہ حکومت اب تک کی سب سے نااہل حکومت ہے جسے امورِ مملکت چلانے کا رتی بھر بھی تجربہ نہیں جس کی وجہ سے ملک زوال کا شکار ہو رہا ہے جبکہ کچھ دریدہ دہن (خاکم بدہن) ملک کے دیوا لیہ ہونے کی خبریں بھی سنا رہے ہیں مگر یقین رکھیں کہ ایسا کچھ نہیں ہونے جا رہا۔ اگر صرف پورٹ قاسم کی 2020-21ء کی استعداد دیکھیں تو ایک پاکستانی کی حیثیت سے اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کیلئے اس کے حضور سر خود بخود جھک جاتا ہے کہ ایسے وقت میں جب کورونا کی وجہ سے ملکی معیشت پر نا قابلِ برداشت بوجھ بڑھ رہا تھا‘ جب ڈیڑھ برس کے کبھی سخت تو کبھی نرم لاک ڈائون کی وجہ سے بیروزگاری اور ملکی خزانے کی حالت پتلی ہوئی جا رہی تھی‘ ملکی معیشت اور خزانے کو سہارا دینے کیلئے پورٹ قاسم سے حاصل ہونے والے ریونیو کی استعداد صرف ایک برس میں19.76 بلین سے بڑھ گئی۔ یہی نہیں بلکہ کار کردگی کے اس سہرے کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ پورٹ کے اخراجات میں بھی2.18 فیصد کمی دیکھی گئی۔ یہ وہ ریکارڈ ہے جسے نہ تو مٹایا جا سکتا ہے اور نہ ہی جھٹلایا جا سکتا ہے۔ پورٹ قاسم سے ہونے والی آمدنی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس آمدن کے علا وہ پورٹ نے اپنے کل ریونیو سے ملکی خزانے کو 8 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اچھی خبریہ ہے کہ وزارتِ پورٹس اینڈ شپنگ قاسم پورٹ پر ایک نیا ایل این جی ٹرمینل بنانے جا رہی ہے جس کیلئے قطر اور حکومت پاکستان کے درمیان جنوری کے آخر میں ایک معاہدہ ہونے جا رہا ہے۔ قطر کے وزیر توانائی سعد شیریدہ الکعبی اور پاکستان کے بحری امور کے وزیر علی حیدر زیدی اس معاہدے پر دستخط کریں گے۔ گو کہ اس اچھے کام میں کچھ دیر ہو گئی جس سے عوام اور ملک کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن دیر آید‘ درست آید۔ اس سے ملک میں توانائی کے شعبے میں پیدا ہونے والی کمی پر بہت حد تک قابو جایا سکے گا۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت ایک اجلاس میں متعلقہ اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ڈرامائی رفتار کے ساتھ ایک ایل این جی ٹرمینل بنائیں تاکہ اگلے موسم سرما (10 ماہ) تک ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کیلئے اضافی گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس اجلاس میں یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ نجی شعبے کے سرمایہ کار ‘ جو ہر فورم پر متعلقہ اداروں کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت کرتے رہتے ہیں‘ وہی ان منصوبوں میں سست روی کے حربے استعمال کر رہے ہیں۔
اس سے قبل 14 دسمبر 2020ء سے پورٹ قاسم کا ایک ہی وقت میں چار کنٹینر ویسلز کو ہینڈل کرنے کی صلاحیت حاصل کر لینا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ اگر کوئی اور حکومت ہوتی یا تحریک انصاف کی حکومت کا میڈیا سیل ماضی کی حکومتوں کی طرح فعال ہوتا تو اس کارنامے پر اب تک نجانے کتنے ڈھول بجائے جا چکے ہوتے، لیکن خاموشی سے‘ بہت سے شعبے میں بہتری آ رہی ہے۔ یہ کارنامہ‘ جسے سنگِ میل کہنا زیادہ مناسب ہے‘ پورٹ قاسم اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ایکسپورٹرز کی بہت بڑی کامیابی کا اعلان بھی ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں